اسرائیل کا ڈرون شام میں گر کر تباہ ہوگیا، اسرائیلی فوج نے حادثے کی تصدیق کر دی۔
فوج کے مطابق ڈرون معمول کی کارروائی پر تھا، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
فوج نے بیان میں یہ بھی کہا کہ فی الحال ڈرون سے کسی قسم کی معلومات لیک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے رات تہران پر شدید حملے کیے گئے، سرکاری انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا مذاکرات کا نیا موقع دوبارہ حملے کی تیاری کے لیے وقفہ ہے؟ ایران پرانا فارمولا‘حملہ، جنگ بندی، مذاکرات، پھر حملہ مزید قبول نہیں کرے گا۔
خط میں کہا گیا کہ ایران کو خطرے کے طور پر پیش کرنا تاریخی حقائق کے منافی ہے، یہ موجودہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملہ درحقیقت ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہے۔
فرانس اور جاپان نے ایران تنازع کے فوری حل کا مطالبہ کر دیا، فرانسیسی صدر میکروں کی ٹوکیو میں جاپان کی وزیراعظم سنائے تاکائیچی سے ملاقات ہوئی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے عراق میں اپنے سفارتی اور فوجی مراکز پر حملوں سے متعلق معلومات دینے والوں کے لیے 30 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر دیا ہے۔
فرانسیسی بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چینی جہازوں کی تعداد معمول کے ٹریفک بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
اردن نے گزشتہ سال ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے میں بھی اسرائیل کی مدد کی تھی۔
محمد المصری کا کہنا ہے کہ امریکا واضح طور پر ایران سے جنگ کے اپنے اہداف تبدیل کر چکا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بڑے محاذوں پر کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ پر پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے خطاب کریں گے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابقدونوں رہنماؤں نے ایران جنگ سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ اقدام بینک تنصیبات اور صارفین کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ کویت ایئرپورٹ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 7 بار نشانہ بن چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ریاست ام القیوین میں ڈرون کا ملبے گرنے کا واقعہ پیش آیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں، وہ جنگی حالات کے باعث عوام میں نہیں آرہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق جے ڈی وینس منگل تک تنازع پر ثالثوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے جے ڈی وینس کو نجی طور پر پیغام پہنچانے کی ہدایت دی تھی۔
امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات پر ایرانی پاسداران انقلاب نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ٹرمپ کی مضحکہ خیز باتوں سے نہیں کھولا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کرنے کے ٹرمپ کے بیانات غلط اور بے بنیاد ہیں۔