اسرائیل کی جانب سے غزہ کے بےگھر فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر لگائی گئی پابندی کے پیشِ نظر انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جس سے ہزاروں زندگیاں خطرے سے دو چار ہیں۔
خان یونس کے رہائشیوں کے مطابق غزہ میں امدادی اداروں کا کوئی متبادل موجود نہیں، آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں، طبی مراکز محدود ہیں اور پابندیوں سے زخمیوں اور عام مریضوں کے لیے علاج مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
غزہ متاثرین کا کہنا ہے کہ امدادی اداروں کی موجودگی کے باوجود حالات خراب ہیں اگر یہ ادارے یہاں سے چلے گئے تو بچوں کی اموات بڑھیں گی اور خاندان تباہ ہو جائیں گے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل 37 بین الاقوامی این جی اوز کے لائسنس منسوخ کرنے جا رہا ہے جن میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز، نارویجین ریفیوجی کونسل، کیئر انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی شامل ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی کے تحت اداروں کو اپنے عملے اور سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
دوسری جانب کینیڈا، فرانس، جاپان اور برطانیہ سمیت 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں بین الاقوامی این جی اوز کو بلا رکاوٹ کام کرنے دے کیونکہ ان کے بغیر فوری انسانی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزین کے ادارے (انروا) نے بھی اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں امدادی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرے گا۔
انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے اسے انسانی اصولوں کے لیے خطرناک مثال قرار دیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی بڑی آبادی مکمل طور پر امداد پر انحصار کر رہی ہے جبکہ شدید سردی، تباہ شدہ انفرااسٹرکچر اور مسلسل پابندیاں حالات کو مزید خراب کر رہی ہیں۔