بنتِ فردوسی
اللہ تعالی نے انسان کو دنیا میں بھیجا، تو ساتھ ہی بہت سے خُوب صُورت رشتے اُس کے ساتھ منسلک کر دیئے، جیسے والدین، بہن بھائی، زوجین وغیرہ۔ اِن ہی رشتوں میں سے ایک اَن مول رشتہ، باپ اور بیٹی کا بھی ہے۔ ایک دَور وہ بھی تھا، جب بیٹی کو باپ کے لیے ذلّت و رسوائی کی علامت سمجھا جاتا، اُسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ پھر اسلام کی آمد اور نبیِ کریم ﷺ کی تعلیمات نے بیٹی کو رحمت کا درجہ عطا کیا،تو آپ ﷺکےاپنی صاحب زادیوں سے بہترین، اعلیٰ ترین حُسنِ سلوک سے باپ، بیٹی کے رشتے کو تمام تر رشتوں میں ایک بہت پیارے اور معتبر و محترم رشتے کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ آپ ﷺ نےفرمایا، ’’میری بیٹی فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ ‘‘
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ ’’جو شخص بیٹی کی تعلیم و تربیت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے برابر یوں کھڑا ہوگا (دو اُنگلیوں کا اشارہ کر کے فرمایا) جیسے یہ دو اُنگلیاں ہیں۔‘‘ حضوراکرم ﷺ نے اپنی چاروں بیٹیوں، خصوصاً سب سے چھوٹی بیٹی، حضرت فاطمہ ؓ کی پرورش نہایت ہی محبّت و اُنسیت سے کی، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اسی طرح حضرت سیدہ فاطمتہ الزہراؓ بھی اپنے والد سے بےحد محبّت اور عقیدت رکھتی تھیں۔
سیدہ فاطمتہ الزہراؓ کی ولادتِ باسعادت اعلانِ نبوت سے پانچ سال پہلے ہوئی۔ جب آپؓ کی ولادت ہوئی، تو ارد گرد کی فضا آپؓ کے چہرے کے نُور سے منوّر ہوگئی۔ حضرت فاطمہؓ کی ولادت حضرت خدیجۃُ الکبریؓ کے گھر پر ہوئی، اِسی لیے اِسے ’’مولدِ فاطمہ‘‘ کہا جاتا تھا۔
حضرت خدیجہ ؓ نے دودھ پلانے کے لیےآپؓ کو دائی کے سپرد نہیں کیا بلکہ خُود اپنے زیرِ سایہ آپؓ کی شان دار پرورش و تربیت کی۔ فطری شرم و حیا، حجاب و لاج، پردے کی مکمل پابندی جیسے اوصاف گویا حضرت فاطمہؓ کے مزاج و کردار کا حصّہ تھے۔ کبھی کسی غیر محرم کی اُنؓ پر نگاہ نہ پڑی بلکہ آپؓ کی یہ تمنّا تھی کہ وصال کے بعد بھی آپ پرکسی غیر مرد کی نظر نہ پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ روزِ محشر لوگوں کو نگاہیں جُھکانے کا حُکم ہوگا تاکہ دخترِ نبیؐ، حضرت فاطمتہ الزہراؓ پُل صراط سے گزر جائیں۔
جب مشرکینِ مکّہ، نبیِ کریمﷺ پرظلم کرتے، تو سیّدہ فاطمہؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے، جس پر آپﷺ فرماتے، ’’بیٹی! تم غم زدہ نہ ہوا کرو، اللہ پاک تمہارے والد کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘‘پیارے آقاﷺ کو اپنی لاڈلی بیٹی سے اس قدر پیار تھا کہ فرماتے ’’مجھے اس کائنات میں سب سے زیادہ پیار اپنی دختر فاطمہ سے ہے۔‘‘ روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ جب کسی سفر یا غزوے کے لیے تشریف لے جاتے، تو سب سے آخر میں سیّدہ فاطمہؓ سے ملتے اور پھر تشریف لے جاتے اور جب واپس آتے، تو مسجد میں نوافل ادا کرنے کے بعد سب سےپہلے حضرت فاطمہؓ سے ملنے آپ ؓکے گھر تشریف لے جاتے، اُن کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور حضرت فاطمہؓ اپنے باباؐ کے ہاتھ چومتیں۔
حضرت فاطمہؓ کی شادی کے بعد حضور ﷺ نے آپ کو اپنے گھر کے قریب ہی مکان لے کر دیا، یعنی ترتیب یہ ہوگئی کہ حضرت فاطمہؓ کا گھر، مسجدِ نبویؐ اور حجرۂ عائشہؓ کے درمیان تھا، تونبیِ کریمﷺ جب نماز پڑھانے مسجدِ نبویؐ تشریف لے جاتے، تو سیّدہ فاطمہؓ کے گھر سے ہوتے ہوئے جاتے اور جب نماز پڑھا کر واپس تشریف لاتے، تب بھی حضرت فاطمہؓ سے مل کر آتے۔ یعنی ایک دن میں دس مرتبہ اپنی لاڈلی سے ملنے جاتے۔ اگر رحمتِ عالم ﷺ کے ہاں کوئی کھانے کی چیز یا کپڑا وغیرہ آتا، تو آپ ﷺ اُس میں اپنی صاحب زادی کا حصّہ بھی رکھتے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ’’جب حضور رحمتِ عالم ﷺ، حضرت فاطمہؓ کو آتا ہوا دیکھتے تو اُنہیں خوش آمدید کہتے، اُن کی خاطر اپنی نشست سے قیام فرماتے، اُنہیں اپنی نشست پر بٹھاتے اور فرماتے، ’’اے فاطمہؓ! تجھ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔‘‘ اِسی طرح جب سیّدہ فاطمہؓ، حضور ﷺ کو اپنی طرف تشریف لاتا ہوا دیکھتیں، تو یہی عمل فرماتیں۔ حضرت فاطمہؓ بھی سیرت و کردار، رفتاروگفتار، ہر انداز میں نبیِ کریمﷺ کاعکس تھیں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ’’رسول اللہﷺ کے گرد آپ کی تمام ازواجِ مطہرات جمع تھیں، اتنے میں حضرت فاطمہؓ تشریف لائیں، اُن کی چال، ہو بہو نبی ﷺ کی چال مبارک جیسی تھی۔‘‘ ایک بار کسی نے سوال کیا ’’یارسول اللہﷺ! آپ کو اِس دنیا میں سب سے زیادہ کس سے محبّت ہے؟‘‘ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے سب سے زیادہ محبّت میری بیٹی فاطمہ سے ہے۔‘‘