• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دیکھیے گا پنکی کا یہ برینڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا، کراچی پولیس چیف

اسکرین گریب/ جیو نیوز
اسکرین گریب/ جیو نیوز 

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کا کہنا ہے کہ دیکھیے گا پنکی کا یہ برینڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا، 12 مئی کو پولیس کارروائی کی گئی، جس میں ڈیڑھ کلو کوکین اور 7 کلو گرام کیمیکل ملا، گارڈن تھانے کی حدود میں کارروائی میں پنکی کو گرفتار کیا گیا۔

سینٹرل پولیس آفس میں ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ  کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے کہا کہ ملزمہ پنکی سے ایک پستول بھی برآمد ہوا، عدالت میں پیشی کے دوران غفلت ہوئی، غفلت میں ملوث پولیس افسران کو ہٹایا گیا ہے، واقعے کی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، آئی جی سندھ نے بھی ایک ٹیم بنائی ہے جس کی سربراہی میں کر رہا ہوں۔

آزاد خان نے کہا کہ دو دن میں ملزمہ پنکی سے تفتیش ہوئی ہے، ملزمہ پنکی کے خلاف 20 مقدمات سامنے آئے ہیں، 6 مقدمات ختم ہوچکے ہیں، 9 کیسز نیٹ ورک کے خلاف ہیں، نیٹ ورک والے 9 مقدمات میں پنکی کا نام نہیں ہے۔

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا کہ ملزمہ پنکی 2014 سے کام کر رہی تھی، ملزمہ پنکی نے2018 سے کراچی میں کام شروع کیا، اس کے فون کا فارنزک کروایا گیا ہے، موبائل سے 869 نمبر ملے ہیں، 132 کراچی کے نمبر ہیں، ہم کیس میں صرف کراچی تک محدود نہیں ہیں، جو لوگ اس سے نشہ لے کر بیچتے تھے ان کو پکڑا ہے، ملزمہ کے سہولت کاروں کو بھی پکڑا جا رہا ہے۔

آزاد خان نے مزید کہا کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات لی گئی ہیں، ملزمہ کی جانب سے تین کروڑ کی ٹرانزیکشن کی گئی ہے، یہ منشیات باہر سے آتی تھی، ملزمہ پنجاب میں تھی، پنکی کیس سے متعلق ایف آئی اے سے بھی رابطہ کیا ہے، سائبر کرائم کے ساتھ رابطہ کر لیا گیا ہے،  پنکی کیس سے متعلق بڑے پیمانے پر تفتیش کی جارہی ہے، ملوث ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے۔

 کراچی پولیس چیف نے کہا کہ سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی ہوا، ایسا لگا ولن کو ہیرو بنایا جارہا ہے، پولیس پر تنقید درست تھی، مگر کردار کشی ہوئی، کیس میں افریقہ کے 6 لوگ ملوث ہیں، بہت سے صحافیوں کے پاس معلومات تھی مگر انہوں نے جاری نہیں کی، یہ ایک حساس کیس ہے، ہمارے بچے متاثر ہو رہے ہیں، ہمیں تفتیش کو تھوڑا حساس بھی رکھنا ہے۔

آزاد خان  نے کہا کہ اتنے عرصے سے لاہور میں بھی ملزمہ پکڑی نہیں گئی تھی، تنقید اپنی جگہ پر مگر یہی پولیس والے محنت سے کام کر رہے ہیں، اس کو لاہور سے نہیں بلکہ کراچی سے پکڑا گیا ہے، ہر ادارہ ہمارے ساتھ معاونت کر رہا ہے، پولیس پر تنقید کی جاتی ہے مگر یہ پولیس کام بھی کر رہی ہے، یہ ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، ہر ملوث ملزم کے خلاف کارروائی ہوگی، ہمارے جونیئر نے اس پنکی کو پکڑا ہے۔

قومی خبریں سے مزید