• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہجوم کی جانب سے لاتعداد پُر تشدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ یہاں حال ہی میں نو مئی کو جو کچھ ہوا اُس نے ملک کے سنجیدہ طبقے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس ضمن میں کہیں نفسیاتی پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے تو کہیں سیاسی اور سماجی پہلوزیرِ غور آرہے ہیں۔ چند برسوں میں یہاں مجمعے یا ہجوم نے سیاست، مذہب اور سماج کے نام پر جس طرح کی کارروائیاں کی ہیں وہ بہت تشویش ناک ہیں۔ اب پانی سروں سے اونچا ہوچکا ہے۔ لہذا اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ صاحبان ِ اختیار اس مسئلے کا سائنسی انداز میں جائزہ لے کر پائے دار حل تلاش کریں۔اس ضمن میں اولین اور سب سے اہم نکتہ انسانی نفسیات کے مختلف پہلوں کو سمجھنا ہے۔ ذیل میں ہم نے یہ ہی کوشش کی ہے۔

سماجی نفسیات اور مجمع

جب کسی مقام پر بہت بڑی تعداد میں افراد جمع ہوجاتے ہیں تو وہاں افراد کے انفرادی رویّوں کے ساتھ ان کے اجتماعی رویّوں کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔مجمعے یا ہجوم کی نفسیات، جسے ’’موب سائیکالوجی‘‘ بھی کہا جاتا ہے، سماجی نفسیات کی ایک شاخ ہے۔سماجی نفسیات دانوں نے ایسے بہت سے نظریات تشکیل دیے ہیں جن کے ذریعے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کس طرح مختلف اقسام کے مجمعے کی نفسیات میں فرق ہوتاہے اور کس طرح یہ نظریات مجمعے اور اس میں موجود افراد سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں۔

مجمعے کی نفسیات کے ضمن میں جو بڑے نظریات گردانے جاتے ہیں وہ گستاف لی بون، گیبریل ٹارڈ، سگمنڈ فرائیڈ اور اسٹیو ریچر کے ہیں۔ سماجی نفسیات کا یہ شعبہ کسی مجمعے میں موجود افراد،مجمعےکے انفرادی اور اجتماعی رویّوں اور ان کے سوچنے کے عمل سے تعلق رکھتا ہے۔ سماجی نفسیات دانوں کے مطابق مجمعے کا رویّہ انفرادی طور پر ذمے داری کھودینے اور یک ساں رویّہ اختیار کرلینے کی فکر سے بہت متاثر ہوتا ہے اور جوں جوں مجمع بڑھتا جاتا ہے، یہ دونوں عوامل بڑھتے جاتے ہیں۔

مجمعے کی نفسیات پر تحقیق

تاریخ بتاتی ہے کہ مجمعے کی نفسیات پر تحقیق کا آغاز یورپ میں اٹھارہویں صدی کی آخری چند دہائیوں میں ہوگیا تھا۔ ان دنوں سائنسی ترقی کی وجہ سے یورپ کے باشندے ایک نئی طرزِ حیات سے روشناس ہورہے تھے اور شہرکاری کا عمل تیزی سے جاری تھا۔ ایسے میں پیرس اور میلان ( اٹلی )میں ’’دی کراؤڈ‘‘ کی اصطلاح سامنے آئی تھی۔ اٹلی میں اُن دنوں قانونی اصلاحات کے ماہرین کا اس بات پر زور تھا کہ سماجی قوانین کو حیاتیاتی قوانین سے ہم آہنگ کیاجائے۔

یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے انہوں نے جرم سے متعلق علم بشریات کی سماجی سائنس کی بنیاد رکھی تھی۔ اُسی زمانے میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر آف فورینزک سائنس اینڈہائی جین، سیزر لمبروسو نےایک کتاب لکھی جو 1878میں اطالوی زبان میں شایع ہوئی۔ اس کا انگریزی ترجمہ 1900 میں ’’کرمنل مین‘‘کے عنوان سے شایع ہوا تھا۔ اس کتاب میں مجمعے کی نفسیات کے بارے میں کافی حد تک بات کی گئی ہے۔ تاہم یہ بات ایک خاص تناظر میں کی گئی ہے لہذا اس کا دائرہ ایک خاص حد تک محدود ہے۔

مجمعے کی نفسیات کے بارے میں پہلی باقاعدہ بحث 16نومبر 1885کو روم میں کرمنل اینتھروپولوجی کے بارے میں پہلی عالمی کانگریس میں ہوئی تھی۔ تاہم مجمعے اور اس کے رویّے کے بارے میں تحریری مواد 1841 تک سامنے آچکا تھا۔ پھر اس بارے میں تحقیق کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ تاہم مجمعے کی نفسیات کے بارے میں سائنسی بنیادوں پر دل چسپی لینے کا عمل انیسویں صدی کے دوسرے نصف سے شروع ہوا۔اس ضمن میں فرانس کے ماہرِ علمِ بشریات گستافل لی بون کے نظریات کے اثرات کا غلبہ رہا۔ اس کے باوجود آج تک مجمعے اور اس کے اراکین کی اقسام کے بارے میں محدود تحقیق کی گئی ہے۔ اسی طرح مجمعے کی اقسام کی درجہ بندی کے بارے میں بھی کوئی اتفاق سامنے نہیں آیا ہے۔ 

عام طور سے محققین نے مجمعےکے منفی پہلووں پر زیادہ توجہ دی ہے ۔ تاہم انہوں نے مجمعے میں بھگدڑ مچنے کے پہلو پر بھی کام کیا ہے اور ایسے مجمعے کو بھاگ نکلنے یا بچ نکلنے والے مجمعے کا نام دیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ایسے مجمعے کی خاصیت اس میں بڑی تعداد میں شامل وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی خطرناک صورت حال میں پھنس جانے پر افراتفری کا شکار ہوکر باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آگےچل کر محققین نےاس بارے میں خالصتا سائنسی اور نفسیاتی انداز میں بحث کی ہےجو بہت خشک اور دقیق ہے، لہذا یہاں ہم اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ مختصرا یوں سمجھ لیجیے کہ محققین کا کہنا ہے کہ ہر مجمعے کی علیحدہ نفسیات ہوتی ہے، لہذا اس پر قابو پانے کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔

مجمعے کی نفسیات کی جہتیں

اسکول آف سائیکالوجی،یونیورسٹی آف سینٹ اینڈ ریوز سے تعلق رکھنے والے اسٹیفن ریچر نے کچھ عرصہ قبل ’’دی سائیکالوجی آف کراوڈ ڈائنامکس‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ تحریر کیا تھا۔ اس مقالے میں وہ لکھتے ہیں کہ سماجی سائنس میں مجمعے کی مثال ہاتھی کی طرح کے انسان کی سی ہے۔ انہیں کسی انوکھی شئے کی مثل دیکھا جاتا ہے ، جیسے وہ کوئی بیماری پھیلانے والی شے یا کوئی بلا ہوں۔ اسی طرح اسے اچھی نظروں سے اور متاثر کن منظر کے پہلو سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ المختصر ،عام طور سے انہیں معمول کی زندگی کی مصروفیات سے علیحدہ کرکے دیکھا جاتا ہے۔ 

مصنف کے مطابق مجمع خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو وہ عام سماجی زندگی اور نفسیاتی حقایق کے بارے میں ہمیں بہت کم یا کچھ بھی نہیں بتاتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی نقطہ نظر کی وجہ سے سماجی نفسیات سے متعلق بعض بہت اہم تحقیقی مقالوں اور کتب میں مجمعے کی نفسیات کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ تاہم 1895میں گستاف لی بون کے تحقیقی کام میں اس کا تھوڑا سا تذکرہ ملتا ہے۔

مجمعے کے رویّے کے ماہرین کے مطابق بڑی تقریبات، کھیلوں کے مقابلوں اور مذہبی اجتماعات میں بھگدڑ مچنے جیسے حادثات بدترین ہوتے ہیں۔ تاہم جیسا ہم سوچتے ہیں یہ واقعات ان وجوہات کےباعث پیش نہیں آتے۔ ماہرین کے مطابق بھگدڑ کا لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں جو تصور ابھرتا ہے وہ بہت بھیانک ہوتا ہے کہ لوگ دیوانہ وار اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ رہے ہیں اور کسی کو دوسرے کی کوئی خبر نہیں۔ لیکن ماہرین کے بہ قول ایسے مواقعے پر مچنے والی بھگدڑ ہماری سوچ سے بالکل مختلف بھی ہو سکتی ہے۔

اس ضمن میں اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز میں سماجی نفسیات کے پروفیسر اسٹیفن ریچر کہتے ہیں کہ حد سے زیادہ رش کے حامل مقامات کے بارے میں عام نظریہ یہی ہے کہ وہاں افراتفری کا عالم ہوتا ہے اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ لیکن ہجوم کی نفسیات کے بارے میں ہماری روایتی سوچ یک سر غلط ہے۔ 'بھگدڑ اور 'افراتفری کی بات سب سے پہلے ذہنوں میں آتی ہے، لیکن ایسے سانحات میں عام طور پر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ بھاگنا تو درکنار لوگ سِرے سے حرکت ہی نہیں کرپاتے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مجمعے کی نفسیات اوراجتماعیت کی نفسیات میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ مجمعےکی نفسیات کے تحت شکایت، احتجاج اور نعرے بازی کی جاسکتی ہے۔ غربت، منہگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ سے عاجز آئے ہوئے لوگ شور مچاسکتے ہیں۔ لیکن اجتماعی سوچ کے تحت ان مسائل کے حل کے لیے اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ صرف علم، شعور اور تفکر ہی ایسی قوتیں ہیں جو مجمعے کی نفسیات کو باہم مربوط کرکے انہیں اجتماعیت کی نفسیات میں تبدیل کرسکتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کسی فرد کا خارجی وجوہات کے سبب خود کو مارلینا یا کسی دوسرے کو مار دینایاکسی کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کا سبب بننایا ہجوم کا حصہ بن کر درندگی کا مظاہرہ کرنا، کیا یہ ایک ہی نفسیاتی و سماجی مسئلے کے کئی رُخ ہیں یا بنیادی طور پر یہ ایک ہی مسئلہ ہے؟ ماہرین کے مطابق دراصل ہجوم کی نفسیات، جنون، تشدد اورانتہا پسندی کی نفسیات میں باآسانی ڈھل جاتی ہے۔

اسباب

دنیا بھر میں بالعموم اور ہمارے اردگرد کے علاقوں میں بالخصوص،چند دہائیوں میں جس طرز کا پُرتشدّد ماحول پیدا ہوگیا ہے، اس کی بناء پر عام آدمی کے نزدیک کسی دھماکے یا فائرنگ کے نتیجے میں بیس تیس افراد کامرجانا کوئی خبر نہیں رہی۔ خوف، بے چارگی اور عدم تحفّظ کا احساس کم و بیش ہر شخص میں سرایت کرگیا ہے۔ 

اگر ہجوم کی نفسیات کے حامل لوگوں کو اپنی طاقت کا ادراک ہوجائے تو اکثر کوئی ہلکی سی مہمیز بھی انہیں یہ طاقت بے لگام طریقے سے استعمال کرکے اپنے خوف اور محرومی کو دبانے کی کوشش پر آمادہ کرسکتی ہے۔ پھر جب اُنہیں یہ یقین ہویا کسی جانب سے اُنہیں یہ باور کرایا گیا ہوکہ وہ جو کچھ بھی کر گزریں، قانون اُن کا بال بیکا نہیں کرسکتا،تو صورت حال بہت تیزی سے خراب ہوجاتی ہے۔

ایسی صورت حال پیدا ہونے کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ جب مفلوک الحال افراد اپنے معاشرے سے بالکل مایوس ہوجائیں توپھر وہ سماج اور قانون کی تمام حدود و قیود توڑ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ ایک مادر پدر آزاد ہجوم کی شکل اختیار کرجاتے ہیں، جس کی نفسیات میں انتقام کا جذبہ اتنا زیادہ سرایت کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو تباہ و برباد کرسکتا ہے۔ ایسے میں گناہ گار کے ساتھ بے گناہ بھی اس ہجوم کے قہر و غضب اور غصے کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سماجی نفسیات کےپہلو سے جب کثیر تعداد میں لوگ کسی جگہ پرجمع ہوجاتے ہیں تو اُن کی جانب سے اٹھائے اقدام کو روکنا بہت بڑا چیلنج ہوتاہے۔ مسئلے کی ایک وجہ لوگوں کا جسمانی طور پر بہاؤ میں ہونا، ذہنی طور پر بوکھلا جانا اور نفسیاتی طور پر بڑھتے ہوئے ہجوم میں معقول رویہ دکھانے کے قابل نہ ہونا ہوتی ہے۔اس مسئلے کا آغاز ہیجان خیزی سے ہوتا ہے۔ 

جب چھ یا سات افراد بھی مل کر ایک طرف دھکا لگانا شروع کردیں تو پیدا ہونے والا دباؤ لوہے کے جنگلے بھی توڑدیتا ہے۔ محققین کے مطابق جب ہجوم منتشر ہو کر بھاگتا ہے تو اس کی طاقت مختلف سمتوں میں بکھر جاتی ہے۔لیکن اگر تمام فعال قوتیں ایک ہی سمت میں زور لگارہی ہوں تو پھر راستے میں آنے والی املاک کے تباہ ہونے اور افراد کے کچلے جانے یا دم گھٹنے سے ہلاک ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

ہیجان خیزی اور افراتفری

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہجوم زیادہ گنجان ہونےلگے تو عوام عقل و خرد کا دامن ہاتھ سے کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ دیگر مخلوقات جیسے کہ پرندے یا مچھلیاں، بہت بڑے غول میں ہونے کے باجود بہت حیرت انگیز تعاون کی فضا قائم رکھتی ہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے لین کوزن کا کہنا ہے کہ بہت سے جان دار نہایت سلجھے ہوئے اعلیٰ اجتماعی رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرندوں یا مچھلیوں کے غول کا جائزہ لیں توپتا چلتا ہے کہ اُنہوں نے ہجوم میں رہنا سیکھ لیا ہے، لیکن بدقسمتی سے انسان نے اب تک یہ رویّہ نہیں سیکھا ہے۔ ہم صرف چھوٹے خاندانوں میں انفردای زندگی گزارنے کے ہی قابل ہوئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج بڑے شہر بہت گنجان آباد ہیں، لیکن انسانی ذہن اس گنجان آباد ی کو قبول کرنے کے لیے فی الحال تیار نہیں ہے۔ کوزن کا کہنا ہےکہ ہم نہیں جانتے کہ اس صورت ِحال میں کیسا رویّہ اختیار کریں۔ ہم فطری طور پر بھی اس بات کی تفہیم نہیں کرپاتے کہ ہمارے ارد گرد کیا ہورہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مخصوص حالات میں انسان بہتر اجتماعی طرز عمل دکھانے سے قاصر ہیں۔ ایسا نہیں ہے، انسان اجتماعی رویّہ اپنا سکتا ہے۔ عام طور پر لوگ اپنے راہ نماؤں کی پیروی کرتے ہیں۔

اس کی بڑی مثال کسی پیدل چلنے والے کے ساتھ دیگر افراد کا اُسی رفتار سے چلنا ہے، لیکن خود کار طریقے سے، فطری طور پر انسان ایک بڑے ہجوم میں بہتر رویّہ دکھانے کے قابل نہیں ہوسکا ہے۔ کوزن کا کہنا ہے کہ ہمیشہ نہیں تو اکثر انسان ہیجان خیزی اور افراتفری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کا یہ رد ِعمل خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ ماہرینِ سماجی نفسیات کے مطابق مجمعے کی نفسیات میں مبتلا افراد ہوش کی جگہ جوش سے کام لیتے ہیں اور ہر مجمعے اور ہجوم کا اپنا مومینٹم اور نفسیات ہوتی ہے، اگر اسے نہ سمجھا جائے تو نتائج بہت خطرناک ہوتے ہیں۔

معروف مورّخ، ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق ہجوم کو اگر انتہا پسند قوتیں استعمال کریں تو معاشرہ تنگ نظری کی طرف چلا جاتا ہے اور اگر روشن خیال قوتیں اس کے ذریعے نئے خیالات و افکار پیدا کریں تو معاشرے کو ترقی کے راستے مل جاتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ کے ارتقاء میں جب معاشرہ سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بدلتا ہے تو اس کے ساتھ ہی لوگوں کی نفسیات بھی بدل جاتی ہے۔ ہجوم کی سیاست بھی اسی طرح سے حالات کے تحت بدلتی رہی ہے۔ Gustave Le Bon نے اپنی کتاب Psychology of Crowd میں ہجوم کی نفسیات کا جائزہ لیا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہجوم کسی منصوبے کے تحت جمع ہو، بلکہ یہ اچانک جمع ہو جاتا ہے اور مجمعےکی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس میں موجود ہر شخص اپنی انفرادیت کھو کر مجمعے کا حصہ بن جاتاہے۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب، سب یک ساں ہو جاتے ہیں۔

اسی عمل سے ہجوم کی طاقت بنتی ہے۔ ہجوم کا اپنا کوئی پروگرام یا منصوبہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کی طاقت کا انحصار اس میں شامل افراد کے جذبات اور احساسات پر ہوتا ہے۔ مجمعے میں ہی سے جب کوئی شخص راہ نما کے فرائض انجام دیتا ہے تو وہ جوش و خروش پیدا کرنے کے لیے نعروں اور الفاظ کا سہارا لیتا ہے۔ ہجوم اُس کی تقلید کرتا ہے اور اس کی جانب سے کوئی تبدیلی کا پروگرام نہیں ہوتا۔ جب ہجوم منتشر ہوتا ہے تو فرد دوبارہ روز مرّہ کی زندگی میں واپس آجاتا ہے اور قانون کا پابند ہو جاتا ہے۔ لہذا یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ کام جو ہم انفرادی طور پر انجام نہیں دے پاتے، ہجوم میں آزادی سے کر گزرتے ہیں۔

مثبت اور منفی اثرات

علمِ سماجیات،عمرانیات اور نفسیات کے ماہرین کے بہ قول ،ہنگامے کے وقت ہجوم کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب چودہ جولائی 1789ء کو پیرس میں Bestille کے قلعے پر لوگوں نے حملہ کیا تو ہجوم کی جانب سے مطالبہ ہونے لگا کہ قلعے کے گورنر کا سر کاٹا جائے، لیکن چوں کہ اس وقت لوگوں کے پاس ایسا کوئی ہتھیار نہیں تھاجس کی مدد سے ایسا کیا جاسکتا توقلعے کے باورچی نے چھری نکال کرگورنر کا سرقلم کیا۔جب یہ کیا جارہا تھا تو ہجوم خوشی سے نعرے لگا رہا تھا اور اُس نے باورچی کو ہیرو بنا دیا تھا۔

اس کی دوسری مثال پیرس ہی میں 1572ء میں St. Barthelomew's Day Massacre ہے جب کیتھولک مسیحیوں کی جانب سے اقلیتی پروٹسٹنٹ مسیحیوں کا قتل عام کیا گیاتھا۔ مورّخین کے مطابق لاشیں بکھری پڑی تھی اور کیتھولک ہجوم ان کے درمیان رقص میں مصروف تھا۔ 

اسی طرح فرانسیسی انقلاب کے دوران جب کہ گلوٹن سے لوگوں کی گردنیں کٹ رہی تھیں توہجوم کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ کسی مجرم کو قتل کیا جا رہا ہے یا بے گناہ کو۔ لہٰذا تباہی مچانا،خوں ریزی اور قتل و غارت گری ہجوم کی نفسیات بن جاتی ہے۔ یہی وہ جذبات ہوتے ہیں جب ہجوم لوٹ مار کرتا ہے، تباہی اور بربادی پھیلاتا ہے اور اسے اس وقت اپنے عمل پر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔

مجمع یا ہجوم جب یہ سب کچھ کررہا ہوتا ہے تو وہ ایک خاص نفسیاتی کیفیت میں ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے بعد جب حالات معمول پر آجاتے ہیں تو ہجوم میں شامل افراد کو یہ احساس ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے ہی لوگوں، ہم سایوں اور دوستوں کے ساتھ کیا کیا تھا۔ گستاف لی بون کے مطابق چوں کہ ہجوم کی کوئی فکر اور ضابطہ نہیں ہوتا ہے، اس لیے وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ معاشرے کو بدل سکے۔ وہ وقتی انتشار پیدا کرتا ہے اور پھر بکھر جاتا ہے۔

ہجوم کی ایک کم زوری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بدلتے ہوئےحالات کے تحت اپنی رائے بھی بدلتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم فرانسیسی انقلاب میں دیکھتے ہیں کہ ہجوم کس طرح اپنی رائےبار بار بدلتا رہتا ہے۔ چوں کہ ہجوم کی نفسیات اس کے جذبات پر منحصر ہوتی ہے اس لیے وہ سیاسی شعور اور سیاسی مسائل کی گہرائی سے ناواقف ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہجوم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ممتاز محقق،ادیب اور ناول نگارElias Canetti کو اُن کی ادبی خدمات پر 1981میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’دی کراؤڈ اینڈ پاور میں انہوں نے مجمعے یا ہجوم کے رویّے پر نفسیاتی تحقیق پیش کی ہے ۔واضح رہے کہ یہ تحقیق بیس برسوں پر محیط تھی۔ اس کتاب میں وہ ہجوم کی نفسیات اور اثرات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ہجوم ایک جانب تو قایم شدہ روایات، عقاید اور رسم و رواج کو مستحکم کرتا ہے، جیسے مذہبی اجتماعات اور تہواروں میں مجمع با ادب اور خاموش ہوتاہے، لیکن جب اچانک یہ اعلان ہوتا ہے کہ تبرّکات تقسیم ہونے والے ہیں تو مجمعے کانظم و ضبط اور ادب و آداب ختم ہو جاتے ہیں اور تبرّکات لینے کے لیے مجمعے میں بھگدڑ مچ جاتی ہے۔

ایسے میں بعض اوقات ہجوم ایک دوسرے کو کچلتا ہوا تبرّکات کے لیے دوڑتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہجوم میں کوئی نظم و ضبط نہیں ہوتا اور خوں ریزی بھی اس کے احساسات کوبے دار نہیں کر پاتی ہے۔ دوسری جانب مصنّف کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ہجوم کو باصلاحیت راہ نما مل جاتے ہیں تو وہ ان کی تقاریر اور ان کے دلائل سے متاثر ہو کر معاشرے میں قدامت پسندی اور فرسودہ روایات کا خاتمہ کردیتا ہے، ورنہ یہ روایات اس قدر مضبوط ہوتی ہیں کہ انہیں اصلاحات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ہجوم انقلاب کے ذریعے پرانے نظام کو توڑ کر نئے نظام کی بنیاد ڈالتا ہے۔ اس کی مثال 1917ء کا روسی انقلاب ہے۔ لہٰذا ہجوم کے منفی اور مثبت دونوں اثرات ہوتے ہیں۔

فرد اور مجمعے کی فکر میں فرق

علمِ نفسیات کہتا ہے کہ جب کوئی مجمع اجتماعی طورپر انتہا پسندانہ رویّہ اختیار کرلیتا ہے تو مجمعے کی فکر، فرد کی فکر سے جدا ہوجاتی ہے۔اس ضمن میں سگمنڈ فرائیڈ کا نظریہ یہ ہے کہ مجمعے یا گروہ میں افراد کا رویّہ انفرادی رویے سے مختلف ہوتا ہے۔ گروہ میں موجود افراد کے دماغ جب ایک دوسرے کے دماغ میں ضم ہو جاتے ہیں تو وہ ایک مختلف فکر کو جنم دیتے ہیں۔ اسی طرح گستاف لی بون اپنی مشہور زمانہ کتاب،’’دی اسٹڈی آف دی پاپولر مائنڈ‘‘،میں لکھتا ہے کہ ہر چند کہ مجمعے کی سوچ اس کی انفرادی سوچ کی آئینہ دار ہوتی ہے، تاہم جب کسی قوم کے افراد مجتمع ہو کر کوئی خاص عمل انجام دیں تو اکٹھا ہونے سے ان کے نفسیاتی خدوخال کچھ اور ہی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو اس قوم کے مخصوص خواص میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

برطانوی نیوروسرجن ولفریڈ بیٹر لوئیس ٹرونر کا بیش تر کام ریوڑ کی جبِلّت کی نفسیات پر تھا۔ یعنی مویشیوں کے ریوڑ یا گروہ کس طرح بغیر کسی منظّم سمت کے بھی ایک ساتھ عمل کرتے ہیں۔ یہ عمل انفرادی جانور کے عمل سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ وہی رویّہ ہے جو جانوروں کے علاوہ انسانوں میں حصص بازار میں خرید و فروخت کے وقت، سڑکوں پہ مظاہرے، مذہبی یا ثقافتی تقاریب، پُرتشدّد لسانی یا مذہبی اجتماعات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایڈورڈ ڈیبر نے انسانی نفسیات کے ان خواص کو بروئے کار لاتے ہوئے بیسویں صدی میں صنعتی انقلاب برپا کر دیا۔ اس نے ہجوم کی نفسیات سے آگہی کے بعد عوامی ذہنوں سے کھیلنے (manipulate) کرنے کاگُر سیکھ لیاتھاجس نے مغربی معاشرے میں اعتدال سے بڑھتی ہوئی غیر ضروری خریداری سے لے کر عورتوں میں سگریٹ کے استعمال تک، محض خواہشات کا غلام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مجمعے کے خواص

ہجوم یا اجتماع میں انفرادی ذہانت کم زورپڑجاتی ہے اور اُس پر اکثریت کی فکر غلبہ پالیتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کے لیے ہمیں مجمعے کے خواص کو دیکھنا ہو گا۔چند خواص، مثلا تعداد، جذبات پر قابو پانے کی طاقت اور ان پر عمل ہے، جو وبائی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور فرد ِواحد اپنے ذاتی منافع کو تج کر اکثریت کے مفاد کا غلام بن جاتا ہے۔ اسی طرح جیسے کوئی غیر مرئی قوت اسے اپنے زیرِ اثر کر رہی ہو۔ یوں وہ ہپنا ٹائزڈ ہو کر اپنی فکری طاقت مجمعے کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کے احکامات اور منشاکے تابع ہو جاتا ہے۔

یہاں وہ عوامل اہم ہیں جو مجمعے کے عقاید اور آرا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سماجی روایات، نسل، سیاسی اور سماجی ادارے، مجمعے کی اخلاقی اور جذباتی کیفیت اور تعلیم کی شرح اور وقت وغیرہ کافی اہم ہیں۔ وقت بھی اہم ہے۔ اسی طرح سماجی اور سیاسی ادارے اورملک میں خواندگی کی شرح کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ ہجوم کی اخلاقی کیفیت بھی بہت اہم ہے جو ان افراد کے مقابلے میں کم یا زیادہ ہو سکتی ہے جنہوں نے ہجوم تشکیل دیا ہو۔ انسان کا فطری رجحان عموما انفرادی طور پر مکمل اظہار سے قاصر ہوتا ہے۔