• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سکھر، پینے کے پانی کی قلت اورگندگی کیخلاف نیو پنڈ کے مکینوں کا احتجاجی مظاہرہ

سکھر(بیورو رپورٹ)نیوپنڈ کے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے تیسرا عشرہ شروع ہونے کو ہے لیکن علاقے میں صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال اور پینے کے پانی کا بحران جاری ہے، جس پر علاقہ مکینوں نے محکمہ نساسک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر محکمہ نساسک اور انتظامیہ کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین پانی کی عدم فراہمی اور علاقے میں گندگی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیوپنڈکی ایک لاکھ سے زائد آبادی محکمہ نساسک کی غفلت، لاپروائی اور عدم توجہی کے باعث سخت مشکلات سے دوچار ہے، علاقے میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر موجود ہیں ، سیوریج کا پانی جمع ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران ہے، علاقہ مکین کئی ماہ سے محکمہ نساسک کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت، انتظامیہ کوئی بھی عوام کے مسائل پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ منتخب نمائندے ووٹ لینے کے بعد دوبارہ علاقے میں نہیں آئے اور نہ ہی ان نمائندوں نے عوام کے مسائل پر کوئی توجہ دی، حکومت کی جانب سے محکمہ نساسک کے خلاف کوئی کارروائی نہ کئے جانے کے باعث مذکورہ محکمے کے افسران کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا تیسرا عشرہ شروع ہونے والا ہے اس کے باوجود محکمہ نساسک کی جانب سے کسی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، گندگی ، سیوریج کے پانی نے ایک جانب عوام کو مشکلات سے دوچار کررکھا ہے تو دوسری جانب پینے کے پانی کا بحران رمضان المبارک میں لوگوں کے لئے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے ،روزانہ محکمہ نساسک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پینے کا پانی فراہم نہیں کیا جارہا، محکمہ نساسک کے واٹر ٹینک من پسند افراد کو پانی سپلائی کرتے ہیں اور خاص طور پر رات کی تاریکی میں کثیر المنزلہ عمارت بنانے والے بلڈرز کو محکمہ نساسک کے ٹینکر پانی کی فراہمی میں مصروف رہتے ہیں، لیکن غریب عوام کا کسی کو احساس نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیوپنڈ کے تمام علاقوں میں شدید گرمی کے دوران بھی پینے کے پانی کا بحران موجود ہے اور تین ماہ سے پینے کے پانی کی عدم فراہمی کے باعث ایک لاکھ سے زائد نیو پنڈ کے آبادی سخت مشکلات سے دوچار ہے، معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہیں، صبح سے شام گئے تک مرد، خواتین، بچے سب ہی لوگ ہاتھوں میں برتن اٹھائے مختلف علاقوں سے پینے کا پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں جبکہ بعض علاقوں میں لوگ پیسے جمع کر کے نجی کمپنی سے واٹر ٹینک منگوا کر پانی استعمال کررہے ہیں جبکہ گندگی اور سیوریج کے پانی نے بھی لوگوں کو مشکلات سے دوچار کررکھا ہے، محکمہ نساسک تمام تر دعوئوں کے باوجود پینے کے پانی کے بحران پر قابو نہیں پا سکی اور منتخب نمائندے ، انتظامیہ بھی اس حوالے سے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سندھ ، صوبائی وزیر بلدیات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پینے کے پانی کے بحران والے علاقوں میں فوری طور پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔  
تازہ ترین