آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جب پاکستان بنا تو امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین تھے۔ وہ دو مرتبہ منتخب ہوئے۔ اوول آفس میں ان کی میز پر ہمیشہ لکڑی کی ایک فٹ لمبی اور ڈھائی انچ اونچی تختی رکھی رہتی تھی جس پر لکھا تھا "The Buck stops here" یعنی آخری فیصلہ یہاں ہوتا ہے اور ہر فیصلے کا میں ذمہ دار ہوں۔ صدر ٹرومین نے 15اگست 1947ء کو پاکستان کو تسلیم کیا اور14 مئی 1948ء کو اسرائیل کو۔ وہ صدر بننے سے پہلے ریل کے ایک ادنیٰ ملازم یعنی ٹائم کیپر تھے،پھر دو بنکوں میں کلرک کی حیثیت سے کام کیا۔ دس سال تک کھیتی باڑی کی۔ 1953ء میں صدارت چھوڑنے کے بعد وہ20 سال تک اپنے آپ کو مسٹر سٹیزن (Mr. Citizen) کہلوانا پسند کرتے تھے اور اپنے باقی سال انہوں نے پڑھنے لکھنے، لیکچر دینے اور لمبی لمبی واک کرنے یعنی چہل قدمی میں گزار دیئے۔ ان کی وہ ایک فٹ لمبی تختی جس پر لکھا تھا کہ "The Buck stops here" ایک جیل کے افسر نے تحفے میں دی تھی اور یہ اس انگریزی جملے کا جواب تھا جو "Passing the Buck" کہلاتا ہے یعنی اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا۔یہ ساری کہانی مجھے جنرل مشرف کے کیس کی خبریں سنتے اورپڑھتے ہوئے یاد آ گئی۔ کچھ تحقیق کی تو صدر ٹرومین کی اور بڑی خوبیاں بھی سامنے آئیں مگر وہ بعد میں۔ مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری جس طرح ٹی وی پر ایک صحافی پر گرجے اور چار بار ’’شیم آن یو‘‘ انتہائی غصے میں دہرایا تو مجھے یاد آ گیا کہ

یہ وہی قصوری صاحب ہیں جنہوں نے ملک کے ایک لیڈر بھٹو کو پھانسی دلوانے میں کسی شیم یعنی شرم کا مظاہرہ نہیں کیا اور اب اپنی حرکتوں سے دوسرے لیڈر کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے میں پورا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اللہ اس طرح کے دوستوں سے بچائے۔ مگر میں ذمہ دار قصوری کو نہیں اس جعلی کمانڈو مشرف کو سمجھتا ہوں جس میں اتنی ہمت نہیں کہ جو فیصلے کئے اور جس طرح ملک پر راج کیا اب اس کی ذمہ داری ایک بڑے اور بہادر شخص کی طرح اٹھائے۔ دل کے مرض کا بہانہ بنانا، عدالت سے فرار، ایک فوجی اسپتال میں جا کر اس طرح چھپ جانا جیسے وہ کسی 5 اسٹار ہوٹل میں کمرہ بک کرا کر عیاشی کر رہے ہیں، یہ ایک لیڈر اور عزت دار شخص کو زیب نہیں دیتا۔ آج کل کا زمانہ سزائے موت دینے کا ہے ہی نہیں اور وہ چھوٹے چھوٹے مجرم جن کو سزائے موت ملے کئی سال گزر چکے ہیں، وہ بھی زندہ ہیں اور انہیں ابھی تک کوئی موت کے گھاٹ نہیں اتار سکا بلکہ پاکستان نے تو موت کی سزا نہ دینے کے عالمی معاہدوں پر بھی دستخط کر دیئے ہیں یا اقرار کر لیا ہے اور اس لئے صدر زرداری نے بے شمار کال کوٹھڑی میں بند مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے پروانوں پر دستخط نہیں کئے تو جنرل مشرف جن کے دنیا میں بے شمار دوست اور بڑے بڑے صدور اور شہنشاہ حمایتی ہیں ان کو کون سزائے موت دے گا۔ مگر جس طرح مشرف نے ایک انتہائی کمزور اور بزدل جسے انگریزی میں "Spineless" (یعنی وہ شخص جس کی ریڑھ کی ہڈی ہی نہ ہو) ہونے کا ثبوت دیا ہے، وہ ان کے سارے ماضی اور مستقبل پر کالا دھبہ بن گیا ہے۔ اب اگر انہیں کسی بہانے سے ملک سے باہر لے جا کر آزاد بھی کر دیا جائے تو ان کا سیاسی قد تو مٹی میں مل گیا اور ان کے حمایتی صرف ندامت کے سوا کچھ نہیں سمیٹ سکیں گے۔ مشرف ایک منچلے، عیاش اور غیر ذمہ دار شخص ہیں۔ وہ ملک کے اتنے بڑے عہدوں پر فائز رہے کہ اس سے زیادہ اور بڑا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں مگر طاقت میں ہونا اور بہادری دکھانا اور بات ہے اور طاقتور سے لڑنا اپنے اصولوں پر کھڑے رہنا اور جیتنا یا ہارنا الگ بات ہے۔میری مشرف سے صرف دو مرتبہ آمنے سامنے ملاقات یا صحافتی ٹاکرا ہوا پچھلے 14 سال میں۔ دونوں مرتبہ مشرف کو منہ کی کھانی پڑی۔ مختصراً بیان کر دوں تو صورتحال واضح ہو جائے گی۔ سال 2000ء میں وہ نیویارک آئے اور اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے۔ بے نظیر اور کئی دوسرے لیڈروں نے ان کو خوش آمدید کہا تھا کیونکہ انہوں نے نواز کی غیر مقبول حکومت کو ہٹایا تھا۔نیویارک میں چار دن رکے اور روز پریس کانفرنس کی۔ دوسری کانفرنس میں، میں بھی موجود تھا اور ان سے سوال کیا کہ وہ ایڈمرل منصور الحق کی گرفتاری کے بارے میں کیا کر رہے ہیں۔ بجائے جواب دینے کے مشرف میرے اوپر برس پڑے کیونکہ میں نے دو ہفتے پہلے بڑے میاں صاحب کا رائے ونڈ کے گھر میں انٹرویو کیا تھا اور کیونکہ نواز شریف جیل میں تھے، وہ انٹرویو بڑا ہٹ ہوا کیونکہ اس وقت ٹی وی چینل تو تھے نہیں۔ مجھ پر برس کر وہ پھنس گئے اور محترم جاوید جبار جو اس وقت ان کے وزیر اطلاعات تھے اور پریس کانفرنس کو کنٹرول کر رہے تھے، انہوں نے مشرف کو پھنسا دیا کیونکہ ان کی کانفرنس PTV پر اور امریکہ کے کئی چینلز براہ راست دکھا رہے تھے۔ میں بھی کھڑا ہو گیا اور ان سے انہی کے لہجے میں پوچھ لیا کہ آپ وضاحت کریں جو وہ نہ کر سکے اور بڑی سبکی ہوئی۔دوسری ملاقات میری دسمبر میں اسلام آباد میں ہوئی اور یہ وہ وقت تھا کہ انہوں نے چند گھنٹے پہلے نواز شریف اور ان کے خاندان کو ملک سے باہر بھیجا تھا۔ میں اس وقت جنگ گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز کا گروپ ایڈیٹر بن گیا تھا اور مشرف نے ہمیں بلایا تھا تاکہ ایڈیٹروں کو بریف کریں۔ رمضان کا مہینہ تھا اور سارے بڑے مالک، ایڈیٹر اور کالم نگار موجود تھے جن میں جناب مجید نظامی، نجم سیٹھی، ایاز امیر اور کئی دوسرے بھی تھے۔ مجھے تین بار سوال کرنے کا موقع ملا اور میں نے ایک ہی سوال کیا جو اس وقت کے لحاظ سے غیر متوقع تھا۔ وہ سوال یہ تھا ’’آپ ایک فوجی جنرل ہیں اور آپ پر ہم کیوں بھروسہ کریں کہ آپ نے ملک کے مفاد میں نواز شریف کو باہر بھیجا ہے‘‘۔ جب میں نے دو مرتبہ یہی سوال کیا اور مشرف نے جواب دینے سے گریز کیا اور خاموشی اختیار کی تو تیسری دفعہ وہ پھٹ پڑے اور اپنی ایک سال کی کارکردگی کو دہرایا۔ مگر اس ملاقات کے بعد میں مشرف سے نہیں ملا۔ تقریباً 15مہینے بعد ایک اصولی بات پر میں نے ایڈیٹری سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ ہمارے رپورٹر کامران خان نے خبر دی تھی جس کو میں نے روکنے سے انکار کر دیا اور مشرف نے پورے گروپ کے اشتہار اور بل روک دیئے کیونکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ جو سربراہ ہوتا ہے اس کے پاس The Buck stops تو میں نے ذمہ داری لی اور نوکری چھوڑ دی۔ پھر امریکہ میں مشرف کے بارے میں خوب لکھا اور اتنا کہ وہ دو بار اپنی تقریروں میں مجھے لتاڑتے رہے اور میرے رشتہ داروں کو خوب ذلیل کیا، جیل بھیجا اور مارا پیٹا، میں مگر لڑتا رہا۔ جب وہ ہٹ گئے تو ان کے دوستوں اور حواریوں نے پوری کوشش کی کہ میری اور مشرف کی صلح ہو جائے کیونکہ میں زرداری کے خلاف لکھ رہا تھا اور وہ بڑے خوش تھے۔ میں نے یہ شرط رکھی کہ وہ میرے گھر آ کر معافی مانگیں۔ وہ تیار بھی ہو گئے اور واشنگٹن تک آئے مگر مجھے کہا کہ میں ان کے ہوٹل آجائوں۔ میں نہ گیا اور یوں معافی تلافی نہ ہو سکی۔ اب وہ پھنس گئے ہیں مگر میرے خیال میں حکومت ان کولیڈر بنا رہی ہے جو وہ ہیں نہیں۔ بزدل مشرف کو صرف اپنی جان بچانے کی فکر ہے اور اس کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اپنے دوست اور ڈاکٹر ارجمند ہاشمی کو بھی ملوث کر لیا۔ میں ہاشمی صاحب کو جانتا ہوں اور وہ اپنی سی کوشش کریں گے، مگر مشرف کو سزا ضرور ہونی چاہئے مگر ان کو اگر بھاگنا ہے تو حکومت بھاگنے دے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا نام ECL سے ہٹا دینا چاہئے لیکن کیس کا فیصلہ ضرور آنا چاہئے اور اگر عدالت انہیں غدار کہتی ہے تو ساری عمر یہ لیبل لگا کر دنیا میں ذلیل ہی رہیں گے لہٰذا اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو جائیں، وہ چلے گئے تو شریف الدین پیرزادہ اور احمد رضا قصوری بھی نادم ہوں گے۔ یہی مشرف کا انجام کافی ہو گا۔ پھانسی کوئی حل نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں