غزہ میں موجود فلسطینی صحافی حسن جابر نے بتایا ہے کہ اسرائیل شہری آبادیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں حسن جابر نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری سے بڑی تعداد میں خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔
فلسطینی صحافی نے کہا کہ کل رات غزہ میں موجود فلسطینیوں کے لیے بہت بھاری تھی، اسرائیل نے ناکہ بندی کر کے فلسطینیوں کو قتل کیا، فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں پر نشانہ بنایا۔
حسن جابر نے بتایا کہ اسرائیل غزہ میں گھروں، مساجد کو بلا تفریق نشانہ بنا رہا ہے، اسرائیل نے اپنے علاقوں میں بھی 30 سے زائد مظاہرین کو قتل کر دیا۔
واضح رہے کہ فلسطین میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تیسرے دن بھی کشیدگی برقرار ہے، رات کے حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ فضائی حملے کیے گئے، حماس اور اسلامی جہاد کے 500 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 493 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ 2 ہزار 700 سے زائد زخمی ہوئے۔
حماس کے مزاحمت کاروں کی 7 سے 8 مقامات پر اسرائیلی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حماس کےحملوں میں 73 فوجیوں سمیت 700 اسرائیلی مارے گئے۔
حماس کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری سے یرغمال 4 اسرائیلی بھی ہلاک ہوگئے۔
دوسری جانب القسام بریگیڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی کے گرد یہودی بستیوں میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ہے، یہودی بستیوں میں حماس اور اسرائیلی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے اسرائیلی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی احمقانہ کارروائی کا منہ توڑ اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب لبنانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ حزب اللّٰہ نے اسرائیل کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مشروط یقین دلایا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حزب اللّٰہ کا کہنا ہے کہ لبنان سے چھیڑ خانی نہ ہوئی تو جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔