• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکساس پرائمری مکمل، تاریخی ٹرن آؤٹ، ڈیموکریٹ ووٹرز کی ریپبلکن پر سبقت

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

امریکا کی سب سے بڑی اور سیاسی طور پر اہم ریاستوں میں شمار ہونے والی ریاست ٹیکساس میں 2026 کے پرائمری انتخابات نے سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ 

اس بار نہ صرف ووٹر ٹرن آؤٹ تاریخی سطح تک پہنچ گیا بلکہ کئی اہم مقابلوں کے نتائج نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ٹیکساس مستقبل میں ریپبلکن ریاست سے تبدیل ہو کر ایک مقابلہ جاتی یا حتیٰ کہ ڈیموکریٹک ریاست بن سکتی ہے۔

ریاست کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ٹیکساس کے پرائمری انتخابات میں تقریباً 45 لاکھ رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے جو حالیہ مڈٹرم انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ان میں ڈیموکریٹک پرائمری: تقریباً 2.3 ملین ووٹ جبکہ ریپبلکن پرائمری: تقریباً 2.2 ملین ووٹ حاصل کیے، اسطرح اس بار ڈیموکریٹک ووٹرز کی تعداد پہلی بار کئی برس بعد ریپبلکن ووٹرز سے زیادہ رہی۔

ریاست ٹیکساس میں اس وقت تقریباً 18.7 ملین رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں، جن میں سے تقریباً ایک چوتھائی نے پرائمری انتخابات میں حصہ لیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس غیر معمولی ٹرن آؤٹ کی بڑی وجہ امریکی سینیٹ اور ریاستی سطح کے اہم مقابلے تھے جنہوں نے دونوں پارٹیوں کے ووٹرز کو متحرک کر دیا۔

اس سال ٹیکساس کا سب سے اہم سیاسی معرکہ امریکی سینیٹ کی نشست کے لئے تھا ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سخت مقابلے کے بعد ریاستی نمائندے جیمز ٹالاریکو نے کامیابی حاصل کی۔

انہوں نےکانگریس وومن جیسمین کروکیٹ کو شکست دے کر پارٹی کی نامزدگی حاصل کی۔ ٹالاریکو اب نومبر میں ریپبلکن امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے۔

دوسری جانب ریپبلکن پارٹی میں مقابلہ انتہائی سخت رہا اور کوئی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکا اہم امیدواروں میں سینیٹر جان کارنن اور ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسن شامل تھے دونوں امیدواروں نے دیگر امیدواروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی پچاس فی صد ووٹ حاصل نہ کرسکا۔

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

اسطرح یہ دونوں اب رن آف الیکشن میں پہنچ گئے ہیں اور ایک بار پھر ان دونوں کے درمیان مقابلہ اب مئی میں ہوگا اور رن آف کا فاتح نومبر میں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو کے مقابلے میں میدان میں آئے گا۔

دوسری جانب ٹیکساس میں موجودہ ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ نے اپنی پارٹی کی پرائمری میں 80 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے دوبارہ نامزدگی حاصل کرلی ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جینا ہینوجوسا کو گورنر کے لیے امیدوار منتخب کیا گیا ہے۔

ٹیکساس میں گورنر کے انتخاب کیلئے ہونے والے پرائمری انتخابات میں ابتدائی نتائج کے مطابق ریپبلکن پرائمری میں تقریباً بائیس لاکھ ووٹرز نے حصہ لیا جن میں گریگ ایبٹ نے اسی فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے جو تقریباً اٹھارہ لاکھ ووٹ بنتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایلن ویسٹ، چیڈ پریتھر اور دیگر امیدوار بہت پیچھے رہے۔ 

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری میں تقریباً تئیس لاکھ ووٹرز نے ووٹ ڈالے جہاں ریاستی رہنما جینا ہینوہوزے تقریباً چھپن فیصد ووٹ حاصل کر کے سب سے آگے رہیں، جنہوں نے تیرہ لاکھ ووٹ حاصل کیے اس طرح نومبر کے عام انتخابات میں ٹیکساس کے گورنر کے عہدے کیلئے براہِ راست مقابلہ ریپبلکن امیدوار گریگ ایبٹ اور ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوجوسا کے درمیان ہوگا۔

اس انتخابات میں ٹیکساس کے مختلف اضلاع میں کئی اور دلچسپ مقابلے بھی ہوئے ایک کانگریشنل ریس میں سابق بیس بال اسٹار مارک ٹیکسیرا نے ریپبلکن پرائمری 61 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے جیت لی بعض ریاستی اور مقامی انتخابات میں کسی امیدوار کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث رن آف الیکشن کا مرحلہ بھی سامنے آیا ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹک ووٹرز کی بڑھتی ہوئی شرکت ایک اہم رجحان کی نشاندہی کرتی ہے اس کی تین بڑی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ بڑے شہروں میں آبادی میں اضافہ، لاطینی اور نوجوان ووٹرز کی بڑھتی ہوئی شرکت اور قومی سیاست کے اثرات، ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ٹیکساس مستقبل میں پرپل اسٹیٹ یعنی دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے والی ریاست بن سکتی ہے۔

بڑے شہری علاقوں خصوصاً ڈیلس، ہیوسٹن، آسٹن اور سان انتونیو میں ڈیموکریٹک ووٹرز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ ان شہروں کے مضافاتی علاقوں میں بھی ووٹنگ کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، مثال کے طور پر ڈیلس کاؤنٹی اور ہیریس کاؤنٹی میں ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل رہی، جبکہ ٹیرنٹ کاؤنٹی جوکہ ماضی میں طویل عرصے تک ریپبلکن کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھی، وہاں بھی ووٹوں کا فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شہری اور نوجوان ووٹرز کی شرکت اسی طرح بڑھتی رہی اور لاطینی نژاد امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد نومبر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے نکل آئی تو ریاست ٹیکساس آئندہ چند انتخابی ادوار میں امریکہ کی سب سے اہم سوئنگ اسٹیٹس میں شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم دیہی علاقوں میں ریپبلکن پارٹی کی مضبوط گرفت اب بھی برقرار ہے جس کی وجہ سے نومبر کے انتخابات میں حتمی نتیجہ زیادہ تر ووٹر ٹرن آؤٹ اور مضافاتی علاقوں کے رجحان پر منحصر ہوگا۔

تجزیہ کاروں سے سوال کیا گیا کہ نومبر میں ٹیکساس ریاست ڈیموکریٹ ہو سکتی ہے؟ تو اس کا جواب ابھی یقینی نہیں ہوگا۔  انکا کہنا ہے کہ اس ضمن میں چند اہم حقائق یہ ہیں کہ ڈیموکریٹس نے ٹیکساس میں 1994 کے بعد کوئی ریاستی الیکشن نہیں جیتا جبکہ دیہی علاقوں میں اب بھی ریپبلکن ووٹرز کی واضح اکثریت ہے تاہم شہری علاقوں میں ڈیموکریٹس مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر شہری علاقوں میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو ٹیکساس آنے والے برسوں میں امریکہ کی سب سے اہم سوئنگ اسٹیٹ بن سکتی ہے۔ اسطرح حالیہ پرائمری انتخابات کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ ووٹرز میں سیاسی سرگرمی بڑھ رہی ہے اور مقابلے پہلے سے زیادہ سخت ہو چکے ہیں، اب نظریں نومبر کے عام انتخابات پر ہیں جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا ٹیکساس بدستور ریپبلکن قلعہ رہے گا یا نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں امریکی سیاست کا نقشہ بدلنے والا ہے

اسطرح حالیہ پرائمری انتخابات کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ ووٹرز میں سیاسی سرگرمی بڑھ رہی ہے اور مقابلے پہلے سے زیادہ سخت ہو چکے ہیں، اب نظریں نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات پر ہیں جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا ٹیکساس بدستور ریپبلکن قلعہ رہے گا یا نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں امریکی سیاست کا نقشہ بدلنے والا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید