• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقامی شہریوں کا زائرین سے عقیدت و احترام، حُسنِ سلوک قابلِ صد ستائش ہے

اللہ تعالیٰ کا کرمِ خاص ہی ہے کہ جو اُس نے ہمارے لیے عراق و ایران جیسے تاریخی شہروں میں موجود اہم، تاریخی اورمقدّس مقامات کی زیارت کے اسباب پیدا فرمائے۔ اس سے قبل بھی ہم دوباراِن مقامات کا دورہ کرچکے ہیں۔ اور اس بار اس 22روزہ سفر کا اہتمام ’’کاروانِ اصحابِ حسینؓ‘‘نے کیا تھا۔ ہمارے قافلے میں مرد و خواتین اور بچّوں سمیت کُل80افراد شامل تھے۔ قائدِ اعظم انٹرنیشنل ائرپورٹ، کراچی سے جب طیارے نے عراق کے شہر، نجف اشرف کے لیے اُڑان بَھری، تو پورا جہاز دُرود وسلام سے گونج اٹھا۔ 

ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز کے بعد نجف اشرف کے ائرپورٹ پراُترے، تو درجۂ حرات 40ڈگری سینٹی گریڈ تک ہونے کی وجہ سے موسم خاصا گرم تھا، لیکن بے پناہ ہجوم کے باوجود ائرپورٹ پرنظم و ضبط اورخاطر خواہ مثالی انتظامات کے باعث بمشکل ایک گھنٹے میں تمام زائرین کو چیکنگ کے مرحلے کے بعد کلیئرنس مل گئی۔ ائرپورٹ کے باہر بسز منتظر تھیں، جنھوں نے براہِ راست ہمیں  ہوٹل پہنچادیا۔

نجف اشرف میں ہمارا قیام ’’شارع الرسول‘‘ پر واقع ایک پُرشکوہ ہوٹل میں تھا، جہاں تمام تر سہولتیں میسّر تھیں۔ کمروں میں سامان وغیرہ رکھنے کے بعد گو کہ قافلہ سالار، زوار حسین اعلان کرچکے تھے کہ ’’تمام زائرین نہا دھو کر پہلے کھانا کھالیں، پھر کچھ دیر آرام کے بعد رات کو روضۂ حضرت علیؓ پر حاضری دیں گے۔‘‘ مگر ہمیں چین کہاں تھا۔ ہم چوں کہ پہلے بھی یہاں آچکے تھے اورراستوں سے بخوبی واقف تھے، لہٰذا غسل وغیرہ سے فارغ ہوکر فوراً ہی روضۂ حضرت علیؓ کی جانب روانہ ہوگئے۔ 

روضۂ حضرت علیؓ پرپہنچ کرجیسے ہی اس کی پُرنور گنبدوں پر نظر پڑی، آنکھوں سے بے اختیار اشک جاری ہوگئے، دل میں جاگزیں خواہشوں اور تمنّائوں کا بصد احترام اظہار کرتے ہوئے خُوب گِڑگڑا کر دُعائیں مانگیں۔ بیرونی دروازے پر لوگوں کا ہجوم تھا، اندرونی حصّے کی جانب بڑھے، تو وہاں بھی زائرین کا ایک جمِ غفیر تھا۔ سو، ہم بھی انسانوں کے اس ٹھاٹھے مارتے سمندر میں شامل ہوگئے اور تھوڑی سی کوشش کے بعد روضے کے اندر جانے میں بھی کام یاب ہوگئے۔ حضرت علیؓ کی قبرِ اطہر پر نظر پڑتے ہی دل کی عجب حالت ہوجاتی ہے۔ 

شیرِخدا، حضرت علیؓ کے روضۂ مبارک پر ہر سُو تجلّیات کی پُرنوربارش ہوتی محسوس ہوتی ہے اور صرف مسلمان ہی نہیں، دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والےغیرمسلم بھی بڑی تعداد میں وہاں حاضری دیتے اوردعائیں مانگتے نظر آتے ہیں۔ یہاں روزانہ ہزاروں زائرین کی آمد کے باوجود صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات نظر آئے۔ پھر زائرین کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت خدّام بھی موجود ہوتے ہیں۔ ضعیف العمر اور معذورافراد کے لیے صحن ہی میں سیکڑوں کی تعداد میں وہیل چیئرزبھی رکھی گئی ہیں۔ مسجد کے وسیع و عریض صحن میں پینے کے پانی کے کولرزاور جگہ جگہ وضو خانے موجود ہیں، جب کہ آمدورفت کے لیے خود کارزینے بھی نصب کیے گئے ہیں۔

نجفِ اشرف میں چاردن قیام کے بعد ہماری اگلی منزل 85کلو میٹر کے فاصلے پر واقع کربلائے معلیٰ تھی۔ کربلائے معلیٰ میں سیّد الشہداء، حضرت امام حسینؓ کا روضۂ مبارک ہے۔ کربلا میں ہمارا قیام ہوٹل شمس کربلا میں تھا۔ اربعین کے موقعے پرعراقیوں کا جذبہ قابل ِدید ہوتا ہے۔ نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ تک 85کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنے والے زائرین کے لیے مقامی عراقی شہریوں کا عقیدت و احترام پر مبنی جذبہ حد درجہ قابلِ ستائش ہے۔ راستے میں زائرین کے لیے کشادہ جگہوں پر خصوصی کمرے تعمیر کیے گئے ہیں، جو ’’موکب‘‘ کہلاتے ہیں۔ 

یہاں اشیائے خورونوش کے علاوہ رات بسر کرنے والے زائرین کو ضروریاتِ زندگی کی ہر شئے مل جاتی ہے۔ جب کہ سڑک کنارے جگہ جگہ کھانے کے اسٹالز بھی بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ جہاں مقامی باشندے انواع و اقسام کے لوازمات زائرین کو فراہم کرتے نظر آتے ہیں۔ خاصی غربت کے باوجود یہاں کے باسی، زائرین کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔ شاہ راہ پر پیدل سفرکے دوران یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے پورا ملک، زائرین و عقیدت مندوں کی خدمت کے لیے موجود ہے۔ مختلف مقامات پر سڑک کنارے عارضی شفاء خانوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ 

ان راستوں پر لوگوں کا بے پناہ ہجوم دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ چھوٹا سا شہر اپنے اندر کس طرح اتنے انسانوں کو سمو لیتا ہے؟ چھوٹے چھوٹے بچّے سڑک کنارے سَروں پر تھال رکھے مفت اشیاء بانٹتے نظر آتے ہیں۔ جن میں کھجوریں، پینے کا پانی، بسکٹ، جوسز اوردیگر لوازمات ہوتے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ زائرین اُن کے تھال سے کچھ نہ کچھ ضرور لیں اور اس خدمت کو وہ عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ 

کربلائے معلیٰ میں حضرت امام حسینؓ کے علاوہ حضرت عباس علَم دارؓ، حضرت علی اکبرؓ، حضرت علی اصغرؓ، حضرت حبیب ابنِ مظاہرؓ، حضرت ابراہیم مجابؓ سمیت دیگر شہداء کی قبورہیں۔ امام حسینؓ کے روضے کے ہر دروازے پر ہمہ وقت زائرین کا ایک ازدحام نظر آتا ہے، کبھی بھگدڑمچتی ہے، نہ کوئی بدنظمی دکھائی دیتی ہے۔ ہر شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ روضے کی جالی تک پہنچ جائے گا۔ حضرت امام عالی مقام ؓ بزمِ انسانیت کے روشن چراغ ہیں، آپؓ نے دَم توڑتی انسانیت کو حیاتِ جاوداں بخشی۔ 

یہی وجہ ہے کہ نواسۂ رسولؐ کی شہادت کو 14صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی پوری دنیا میں اُن کا غم منایا جاتا ہے۔ کربلا سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر جنابِ حُرؓ کا روضۂ مبارک ہے۔ یہ وہی حُرؓ ہیں، جو9محرم تک یزیدی فوج میں شامل تھے، لیکن شب ِعاشور اپنے تمام گھر والوں سمیت قافلہ حسینی سے آملے اور معافی کے خواستگار ہوئے۔ جنابِ حُرؓ نے 10محرم کو فرزندِ رسول ؐ پر اپنی جان قربان کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔

جاں نثارِ حضرت علیؓ، جناب کمیل کا روضۂ مبارک، نجف اشرف میں ہے، میثم تمار بھی حضرت علیؓ کے خاص اصحاب میں سے ہیں، آپ بڑے صاحبِ علم و فضل تھے۔ پھرمسجد ِکوفہ کی فضیلتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اس مسجد میں ایک ہزار پیغمبروں اور ایک ہزار برگزیدہ ہستیوں نے نماز ادا کی، اس مسجد کے صحن میں بیک وقت ہزاروں افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ مسجدِ حنانہ میں اکثر حضرت علیؓ نے نماز پڑھی ہے۔ 

آپ نے مسجدِ حنانہ کو جنگِ صفین سے واپسی پر تعمیر کیا تھا۔’’ وادئ السلام قبرستان‘‘، روضۂ حضرت علیؓ کی پشت پر کئی ایکڑ رقبے پر پھیلا ہواایک وسیع و عریض قبرستان ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہاں بے شمار انبیاء علیہم السلام مدفون ہیں۔ اس کے علاوہ روضۂ مسلم بن عقیلؓ، بیتِ حضرت علیؓ، مسجد سہلہ، کاظمین میں حضرت امام موسیٰ کاظمؓ اور حضرت امام محمد تقی، جناب سیّد رضی اور سامرہ میں حضرت امام علی نقیؓ اور حضرت امام حسن عسکری ؓ کے روضہ ہائے مبارک ہیں۔

عراق میں 12روز قیام کے بعدہماری اگلی منزل ایران تھی۔ تہران ائرپورٹ پر جیسے ہی طیارے نے لینڈ کیا، تو ہمیں یوں لگا، جیسے یورپ کے کسی ملک میں آگئے ہیں۔ ائرپورٹ پر چائے، بسکٹ اور کولڈ ڈرنک سے تواضع کی گئی۔ بہرحال، امیگریشن کے مراحل سے گزرنے کے بعد ’’قم‘‘ کے لیے روانہ ہوگئے۔ قم میں ہمارا قیام ہوٹل ارم میں تھا۔ قم، ایران کا قدیم شہر ہے، جہاں امام موسیٰ کاظمؓ کی صاحب زادی اور امام رضاؓ کی ہم شیرہ کا روضۂ مبارک ہے۔ آپ کا اصل نام فاطمہ کبریٰ ہے۔ بی بی معصومہ قم کے روضے پر 24گھنٹے زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔

یہاں بھی صفائی ستھرائی کے انتظامات قابلِ دید تھے۔ ہر دکان دار اپنی دکان کے آگے 10فٹ تک خود صفائی کرتا ہے۔ یہاں کئی شہروں میں جانے کا اتقاق ہوا، کہیں بھی سڑکوں پرگڑھے نظر نہیں آئے۔ شہر کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ خطّہ اتنے طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ یہاں بلند وبالا عمارتیں ہیں۔ 

ایرانی، پاکستانیوں سے بہت محبّت کرتے اور زائرین کو قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ٹریفک کی خلاف ورزی کا یہاں کوئی تصوّر نہیں، لاکھوں روپے جیب میں رکھ کرپورے شہرمیں گھومنے والوں کے لیے بھی کوئی خطرہ نہیں۔ سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ کرنسی تبدیل کرنے والے کھڑے ہوتے ہیں، لیکن اُن سے بارگیننگ کرنی پڑتی ہے۔

دوسری جانب تہران ریلوے اسٹیشن کی جدید ترین عمارت ہے۔ مسافروں کی معلومات کے لیے جگہ جگہ ٹی وی اسکرینز نصب ہیں، یہاں کی جدید ترین ٹرینیں انتہائی تیزرفتارہیں۔ ایرانی باشندے کھانے میں سادہ غذائیں استعمال کرتے ہیں۔ اُبلے چاول، چُلو کباب اور سبزیاں اُن کی مرغوب غذا ہیں۔ سرخ وسپید رنگت کے حامل شہری کھیرے اور ٹماٹر کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ سادہ اتنے ہیں کہ تربوز سے بھی روٹی کھالیتے ہیں۔ گھروں میں روٹی پکانے کا رواج نہیں۔ بازاروں میں جگہ جگہ تنور لگے ہوئے ہیں، جہاں مختلف اقسام کی روٹیاں انتہائی سستے داموں دست یاب ہیں۔ قہوہ پینے کا عام رواج ہے، یہاں دودھ والی چائے نہیں ملتی۔

ہماری اگلی منزل مشہد مقدّس تھی، جہاں حضرت امام رضاؓ کا روضۂ مبارک ہے۔ تہران سے مشہد تک ٹرین کا سفر تقریباً 11گھنٹے پر محیط ہے۔ مشہد میں ہمارا قیام ہوٹل زیارت میں تھا۔امام رضاؓ کے روضے کی زیارت کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپؓ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ آپ کا روضۂ مبارک کئی ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جہاں اَن گنت لوگ عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔

روضے پر سب سے زیادہ قیمتی پتھر گرے نائٹ استعمال ہواہے، جو گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم رہتا ہے۔ روضے کی دیکھ بھال اور نظم و ضبط کے فرائض انجام دینے کے لیے یہاں متعین 80فی صد خدّام، ایرانی فوج کے ریٹائرڈ جنرل، کرنل، میجر اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدے دار ہوتے ہیں، جو زائرین کی خدمت عبادت سمجھ کرکرتے ہیں۔ روضے کا صحنِ غدیرخاصا وسیع وعریض ہے۔ نیز، امام رضاؓ کا لنگر خانہ بھی بہت مشہور ہے، جہاں زائرین ٹوکن حاصل کرکے ایک وقت کا کھانا کھاسکتے ہیں۔ 

مسجد کے صحن میں نماز کے بعد لیکچر دیئے جاتے ہیں، جو زیادہ تر فارسی زبان میں ہوتے ہیں۔ پاکستانیوں اور بھارتیوں کے لیے الگ الگ جگہیں مختص ہیں، جہاں پاکستانی اور بھارتی علماء موجود ہوتے ہیں۔ یہاں کی رضویہ لائبری میں لاکھوں نادر و نایاب کتب موجود ہیں، جب کہ روضے سے متصل میوزیم میں قدیم سامانِ حرب اور قرآنِ مجید کے صدیوں پرانے نادر نسخے بھی رکھے گئے ہیں۔ 

مشہدِ مقدس میں امام خمینی کا گھر،اُن کا مزار، حضرت شاہ عظیم کا روضہ، حضرت حمزہ بن امام موسیٰ کاظمؓ، حضرت طاہر، حضرت خواجہ مراد، حضرت خواجہ بااصلت، خواجہ ربیع، جب کہ نیشا پُور میں چشمہ امام رضاؓ اور دیگر مقامات بھی قابلِ دید ہیں۔