آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال طویل عرصے سے تشویش انگیز ہے ۔ عسکریت پسند جہاں چاہتے ہیں حملے کر کے تباہی مچا دیتے ہیں ان کے حوصلے اب اتنے بڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے صوبے سے باہر پنجاب کی حدود میں بھی تخریبی کارروائیاں شروع کر دی ہیں سرائیکی علاقے چونکہ بلوچستان سے متصل ہیں اس لئے آسانی سے ان کا نشانہ بن رہے ہیں اتوار کو رحیم یار خان کی نواحی بستی سے گذرنے والی گیس کی 18,24اور 16 انچ قطر کی تین پائپ لائنیں انہوں نے دھماکوں سے اڑا دیں جس سے بھڑکنے والی آگ نے پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا آگ میں جھلس کر ایک خاتون جاں بحق اور متعدد مویشی ہلاک ہو گئے۔ سوئی ناردرن کے حکام کے مطابق دھماکے انتہائی منصوبہ بندی سے کئے گئے اس کے نتیجے میں گیس کی سپلائی 1030 میں سے صرف 400 ملین کیوبک فٹ رہ گئی اتنا زیادہ شارٹ فال پیدا ہونے سے ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، لاہور اور فیصل آباد کو گیس کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی علیحدگی پسند لیڈر براہمدغ بگٹی کی بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے)نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ادھر ایف سی کے مطابق بی آر اے کے علیحدگی پسندوں نے ڈیرہ بگٹی کے قریب سوئی کے ایک گائوں پر حملہ کر کے 3 خواتین اور تین بچوں سمیت گیارہ افراد کو ہلاک کر دیا۔ گائوں کے لوگوں پر سیکورٹی فورسز سے تعاون کا

الزام تھا ہلاک شدگان میں بگٹی امن فورس کے کمانڈر غازی خان مرہٹہ اور اس کا بھائی بھی شامل ہے اطلاع ملنے پر ایف سی نے جوابی کارروائی کر کے 6 حملہ آوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا خیبرپختونخوا اور فاٹا میں دہشت گردی بدامنی اور لاقانونیت کے حد سے گزرنے کے بعد بلوچستان میں بھی تخریب کاری کے بڑھتے ہوئے واقعات ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں صوبے میں مبینہ طور پر چھ بڑی علیحدگی پسند مسلح تنظیمیں سرگرم عمل ہیں ان میں سے بی ایل اے، بی آر اے اور بی ایل ایف سب سے زیادہ طاقتور اور فعال بتائی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انٹیلی جینس اطلاعات کے مطابق انہیں راجستھان سے سندھ کے صحرائی علاقوں اور افغانستان کے خفیہ راستوں کے ذریعے اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے اور سرمایہ بھی ملتا ہے افغانستان میں ان کے تربیتی کیمپ بھی ہیں علیحدگی پسند بلوچ لیڈر میر سلیمان دائود، براہمدغ بگٹی، حیربیار مری اور نورالدین مینگل لندن جنیوا اور نیویارک میں ان کی مدد کے لئے موجود ہیں اور امریکہ اور یورپی ملکوں میں اپنی لابی مضبوط بنا رہے ہیں حکومت پاکستان متعلقہ ملکوں کو ان کی سرگرمیوں کی طرف توجہ بھی دلا چکی ہے مگر وہ ’’انسانی حقوق‘‘کی چھتری تلے اپناکام جاری رکھے ہوئے ہیں اس صورت حال کے تدارک کے لئے حکومت نے ایک کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی لاپتہ افراد کا مسئلہ بلوچوں میں اشتعال اور غم و غصے کا سب سے بڑا سبب ہے عدلیہ کے بار بار احکامات کے باوجود ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی لاپتہ افراد کو مار کر ان کی لاشیں پھینکنے کے عمل نے بھی علیحدگی پسندی کو ہوا دی ہے حال ہی میں ضلع خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبروں سے 13 لاشیں برآمد ہونے سے صورت حال مزید سنگین ہوئی ہے گزشتہ حکومت کی طرح موجودہ وفاقی حکومت بھی ناراض بلوچوں کو منانے کے زبانی اعلانات تو کر رہی ہے مگر عملی طور پر اس نے اس سمت میں کوئی پیش قدمی نہیں کی ملکی سلامتی اور یک جہتی کا تقاضا ہے کہ حکومت طالبان کی طرح بلوچ علیحدگی پسندوں سے بھی رابطے کرے اور براہ راست مذاکرات کے ذریعے بلوچستان کے مسئلے کا حل نکالے اسے دونوں محاذوں پر یکساں توجہ دینی چاہئے دہشت گردی اور تخریب کاری سے ملک بے پناہ جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکا ہے ایسے مسائل کا صحیح حل بلاشبہ سیاسی مذاکرات ہی ہیں مگر جہاں ناگزیر ہو جائے وہاں کارروائی بھی کی جائے مزاحمتی بلوچ لیڈروں کو بھی سوچنا چاہئے کہ دنیا میں تخریب کاری سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے انہیں سمجھداری سے کام لیتے ہوئے امن اور مذاکرات کی راہ اپنانی چاہئے ناراض بلوچوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے صوبائی حکومت کو پہل کاری کرنی اور وفاقی حکومت کو اس کی مدد کرنی ہوگی۔

مذاکرات سے توقعات
قیام امن کے لیے جاری مذاکراتی عمل میں گزشتہ روز ہونے والی پیش رفت اس اعتبار سے خاصی حوصلہ افزا ہے کہ تحریک طالبان کی قیادت نے ملک کے آئین کی اسلامی حیثیت کو تسلیم کرکے اس کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے پر کھلے دل سے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن مولانا عبدالعزیز نے پاکستان کے آئین کو غیراسلامی قرار دیتے ہوئے اس کے تحت مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کردیا تھا جس کی بناء پر کمیٹی کے دو ارکان کو دیگر امور پر مشاورت کے علاوہ اس معاملے کو بھی سلجھانے کے لئے وزیرستان جانا پڑا۔ تاہم طالبان قیادت نے حقیقت پسندی سے کام لیا اور مذاکرات کی راہ میں شروع ہی میں حائل ہوجانے والی اس رکاوٹ کو خوش اسلوبی سے دور کردیا۔ اس سے یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ ملک میں قیام امن کا خواب جلد ہی حقیقت بن سکے گا۔ مولانا عبدالعزیز کو بھی اب اپنی رائے پر اصرار نہیں کرنا چاہئے ۔اس کے بعد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے دونوں جانب سے جنگ بندی کا اعلان اور اس پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ مذاکرات میںطالبان قیادت کا اصرار تھا کہ اس کے لیے طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کیا جانا ضروری ہے۔ بظاہر ایسے افراد کی رہائی کی شکل میں اس سلسلے کو شروع کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی جن پر سنگین الزامات نہیں ہیں۔ اس لئے حکومت کو اس مطالبے کا جائزہ لینا چاہئے ۔مذاکرات کے دوران ڈرون طیاروں کی بار بار آمد اور اس طرح مذاکراتی عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کا ہرگز کوئی جواز نہیں تھا۔ وزیر داخلہ نے بالکل درست کہا ہے کہ مذاکرات کو کسی تیسری طاقت کی جانب سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کو پاکستان دشمنی تصور کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان کو ایسے خطرات کی روک تھام کے لئے تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ طالبان سمیت پوری قوم کوطے کرلینا چاہئے کہ ایسی کوئی کارروائی عمل میں آئی تو اسے مذاکراتی عمل میں تعطل کا سبب نہیں بننے دیا جائے گااور کارروائی کی ذمے دار طاقت کے خلاف متفقہ طور پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کا اطمینان
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستانی معیشت کے بارے میں اتوار کے روز جاری کردہ اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں سروسز اور مینوفیکچرنگ میں آنے والی تیزی سے جی ڈی پی کی شرح ترقی میں توقع سے زیادہ اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد اس امر کے امکانات بہت روشن ہو رہے ہیں کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں 6.7ارب ڈالر کا جو معاہدہ کیا تھا اس کے تحت وہ آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی اقساط لینے میں کامیاب ہو جائے گی یاد رہے کہ اس معاہدے کے تحت یہ عالمی ادارہ ہر تین ماہ کے بعد اس امر کا جائزہ لیتا ہے کہ اس کے اصلاحاتی پیکیج پر کس حد تک عملدرآمد ہوا ہے اور پھر اس کے تحت 550ملین ڈالر کی رقم تین سال کی مدت میں دی جاتی ہے۔ دبئی میں یکم فروری سے لے کر 9فروری تک مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف ٹیم کے سربراہ جیفری فرینک کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت کی مجموعی ترقی بہت حوصلہ افزاء ہے اور اس کی میکرو اکنامک صورتحال میں بہتری آ رہی ہے یہاں اس امر کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ گو آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کی طرف سے اصلاحاتی پیکیج پر کئے جانے والے عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن ٹیکسوں میں دیئے جانے والے استثناء اور بعض مدوں میں دی جانے والی زر تلافی کو ختم کرنے کیلئے اس کا اصرار بدستور موجود ہے موجودہ دور میں پاکستان ایسے ترقی پذیر ممالک کے لئے تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا قریباً ناگزیر صورت اختیار کر گیا ہے لیکن جب تک کرپشن اور بدعنوانی کے راستے بند کر کے قرض کا ہر روپیہ کفایت شعاری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ معیشت کو بہتر بنانے پر خرچ نہیں ہو گا اس وقت تک ہم بڑھتے ہوئے قرضوں سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے اور عوام کے لئے بنیادی انسانی سہولتیں زندگی گراں تر ہوتی رہیں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں