• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی فوج نے امریکہ اور یورپی ممالک کی سرپرستی میں غزہ ،فلسطین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں۔اب تو شاید غزہ میں کوئی بھی اسپتال اسرائیلی جارحیت سے محفوظ نہیں ۔الشفا اسپتال کے بعد یکے بعد دیگرے اسرائیل نے غزہ میں اسپتالوں کونشانہ بنانا شروع کردیا۔صہیونی ریاست کھلم کھلا انسانیت کی تذلیل کر رہی ہے۔فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کو تقریبا ًچار ماہ ہونے والے ہیں۔جنین کے علاقے میں واقع فلسطین کے اسپتال پر حملہ بھی انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے۔اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے لیکن امریکہ اور یورپی ممالک اسرائیل کو لگام دینے کی بجائے اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔غزہ میں تیس ہزار کے لگ بھگ فلسطینی مسلمان اب تک شہید ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں وہاں زخمی موجود ہیں جن کا علاج معالجہ اور دیکھ بھال کرنااب ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے مگرطرفہ تماشا یہ ہے کہ اسلامی ملکوں کا حال بھی اتنا اچھا نہیں ، وہ صرف مذمتی بیانات اور جلوسوں تک محدود ہیں۔اگر اسرائیل کو پاکستان کی طرف سے سخت جواب دے دیا جاتاتو آج صورتحال مختلف ہوتی۔اسی طرح ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور دیگر مسلمان ملکوں کو بھی اسرائیل کے خلاف شدید ردعمل دینا چاہئے تھا۔لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیلی درندگی کیخلاف موثر جواب دینا تمام اسلامی ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک امریکہ اور یورپ کے خوف سے اسرائیلی جارحیت کیخلاف عملی اقدامات کرنے سے گھبراتے ہیں انھیں اللّٰہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک امریکہ اور یورپی ملکوں کی ناراضی کے ڈر سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی عملی اقدام سے گریز کر رہے ہیں۔اسلامی ملکوں کے ارباب اقتدار کو اللّٰہ سے ڈرنا چاہئے اور فوری طور پر غزہ پراسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں وگرنہ تاریخ کبھی اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی اور ان کا نام تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا۔اس وقت صہیونی فورسز رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس سے غزہ کھنڈر بن گیا ہے۔غزہ کی آبادی کو ایک طرف دھکیل کر قبضہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ عالمی عدالت انصاف کا اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی روکنے کا حالیہ حکم دیرآیددرست آید کے مصداق ہے۔عالمی عدالت نے اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی پر اپنے فوجیوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کرنے اور غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹ ختم کرنے کا حکم بھی دیا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ یہودی وزیراعظم نیتن یاہوکی ہٹ دھرمی اب تک برقرار ہے۔عالمی عدالت انصاف کو اپنے فیصلے پرعمل درآمدیقینی بنانا چاہئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ غزہ تباہی کی داستان بن چکا ہے‘ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ 7 اکتوبرکے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تیس ہزار مسلمان شہیداور 63 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ 9 اکتوبر کو اسرائیلی وزیردفاع نے غزہ کے محاصرے اور بجلی پانی بند کرنے کا اعلان کیا تھا جو اب بھی جاری ہے اس غیر انسانی اقدام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس وقت غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی نفسیاتی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا ہے۔ انسانی حقوق کے یورپی مبصرین نے غزہ میں 120 اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا ہے،غزہ میں اسرائیلی بمباری سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اس انسانی المیے میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ اس وقت‘ خوراک کی قلت الگ خوفناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں بالخصوص سلامتی کونسل کو غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔اسرائیل کو فلسطین میں مزید خونریزی سے روکنا ہوگا۔غزہ میں اسپتالوں پر بھی حملے رکوانے کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

پاکستان میں عام انتخابات بھی قریب آچکے ہیں۔ آٹھ فروری سے پوری قوم کی توقعات وابستہ ہیں۔ پاکستان کے عوام اب اپنے دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں۔شفاف اور منصفانہ الیکشن ہی تمام مسائل کا حل ہیں لیکن اس وقت جس طرح نگراں حکومت کی سرپرستی میں ایک پسندیدہ جماعت کو اقتدار میں پہنچانے کے لئےآئین و قانون کو پامال کیا جا رہا ہے وہ پاکستانی سیاست و جمہوریت کے لیے تباہ کن ہے۔اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو انتخابی نتائج 2013ء اور 2018ء کی طرح متنازع ہو جائیں گے جس کےملک پر بھیانک اور خطرناک اثرات مرتب ہوں گےاس وقت ملک کے مختلف اضلاع سے شکایات آ رہی ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اس طرح اگر اپنے لاڈلوں کو زور زبردستی جتوایا گیا تو ملکی حالات بہتر ہونے کی بجائے ابتر ہو جائیں گے۔ اعلیٰ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ صاف، شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات یقینی بنائیں جن کے نتائج سب کے لیے قابل قبول ہوں بصورت دیگر ملک سیاسی بحران کی دلدل سے نہیں نکل سکے گا اور نہ ہی عوام کے مسائل حل ہو سکیں گے۔ اس وقت ساڑھے17ہزار میں سے ساڑھے 11 ہزار امیدوار آزاد ہیں جو حکومت بنانے اور گرانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ پاکستان کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ملکی معیشت بھی سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی۔آئی ایم ایف بھی پاکستان پر سخت مانیٹری شرائط عائد کر رہا ہے۔ آٹھ فروری کے الیکشن کے بعد نئی بننے والی حکومت کو اس باب میں بھی سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

تازہ ترین