• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کے نتائج نے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ یا الٰہی میں اس دور کو، موجودہ عہد کو ماضی کے اوراق میں موجود ادوار میں سے کس سے تشبیہ دوں؟ بہت غور و فکر کیا،بالآخر تلاش بسیار کے بعد میں نے راز پالیا۔ اگر آپ نے بھی اس حقیقت سے واقف ہونا ہے تو آپ کو چند صدیاں پیچھے جانا ہوگا۔پندرہویں صدی عیسوی کے وسط میں اٹلی اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا تھا۔ ملک کی اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی صورتِ حال دگرگوں تھی۔ سرکاری سرپرستی میں عوام کو ظلم کی چکیوں میں پیسا جارہا تھا۔ ’’ماورائے عدالت قتل‘‘ ،’’جھوٹے مقدمات ‘‘اور ’’گمشدہ افراد‘‘ کے کیسز تقریباًہر خاندان کا مسئلہ بن چکے تھے۔ ان حالات میں اٹلی کو ایک مفکر ومدبر کی ضرورت تھی جو اس گھمبیر صورتِ حال سے ملک کو نکالے۔ آسمانی ہدایت، خدائی احکام، الٰہی تاپید ونصرت، پیغمبرانہ رہنمائی اور اخلاقِ نبوت کی ضرورت تھی مگر چونکہ اس نوعیت کے تمام باب یہ قوم مدتوں پہلے بند کرچکی تھی اس لیے ’’مفکرین‘‘ میدان میں آئے۔ ان میں سب سے اہم ترین نام ’’میکاولی‘‘ کا تھا جو اٹلی کے شہر فلورنس میں پیدا ہوا۔ اس کے اعلیٰ وارفع اور اچھوتے خیالات ونظریات کی بنا پر اہلِ فکر ونظر کی طرف سے اس کو ’’سیکولر پیغمبر‘‘ کا خطاب ملا۔ میکاولی کو جدید سیاسی فلسفہ کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ ہ شہرہ آفاق کتاب "The Prince" ہے جس نے میکاولی کے نام کو نفاق کے رجسٹروں میں ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔ اس کتاب میں حکمرانوں اور بادشاہوں کو کامیاب حکومت کے ’’گر‘‘ بتائے گئے ہیں۔ یہ نابغۂ روزگار کارنامہ تحریر کرکے اس نے فلورنس کے شہزادے (De-Medci) کی نذر کیا تاکہ وہ اس کی روشنی میں اُمور مملکت بطریقِ احسن چلاسکے۔ خدا جانے میکاولی نے کس ’’اخلاص‘‘ سے حکمرانوں کو یہ نصیحتیں کی تھیں کہ فلورنس کے شہزادے سے لے کر ہمارے زمانے کے ’’اکبر‘‘ تک تمام بے دین حکمرانوں نے اس کے ہر ہر حرف پر دل وجان سے عمل کیا۔ آپ کی خدمت میں میکاولی کی تصنیفِ لطیف The Prince کے چند جواہر پارے پیش کیے جاتے ہیں۔ جن کو پڑھ کر حق ہے کہ انسانیت کا سر فخر سے بلند ہوجائے۔’’ اپنے ذاتی اغراض ومقاصد کو اولین ترجیح دو اور ان کا حصول سرفہرست رکھو۔ طاقت ور حکمران کو کمزور عوام پر ڈرانے، دھمکانے والے قوانین نافذ کرنےچاہئیں تاکہ ان کی سرکشی اور بغاوت کو کچلا جاسکے۔بے رحمی، سفاکیت اور ظالمانہ روش وہ لازمی اوصاف ہیں جن کے بغیر کسی اچھی حکمرانی کا تصور بھی محال ہے۔ پرنس کو معقولیت، رواداری اور شائستہ پن کے فتوئوں بلکہ ڈھکوسلوں میں ہرگز نہیں آنا چاہیے۔ایک پرنس کو نیک بننے کی کوئی ضرورت نہیں، البتہ نیکی کا ڈھونگ رچانے میں کوئی حرج نہیں۔ اچھا بننے کی کوشش حکمرانی کے لیے زبردست خطرہ ہے کیونکہ اس سے عوام جری، دلیر اور بے خوف ہوجاتے ہیں۔ البتہ اچھا بننے کی ایکٹنگ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ بھی درحقیقت ظلم وسفاکیت کے ہتھیار ہوتے ہیں، لہٰذا پرنس کو چاہیے کہ زبان پر تو رحم وشفقت کے بول ہوں البتہ دل میں فقط سفاکیت اور سنگ دلی ہو۔ایک اچھے پرنس کو کنجوس، لالچی اور بخیل ہونا چاہیے البتہ پرنس کو اپنے عوام کی دولت بے دریغ نہیں لٹانی چاہیے البتہ دوسرے ممالک کی دولت لوٹنے میں بے حد ماہر اور طاق ہونا چاہیے۔کسی کی عزت وتکریم نہیں کرنی چاہیے بلکہ صرف اور صرف اپنی عزت اور تکریم کو مقدم رکھنا چاہیے۔ ایک بہترین حکمران میں دوسرے کو برداشت نہ کرنے کا عزم بدرجہ اتم ہونا چاہیے۔دھوکہ دہی اور فریب بازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ ایسے موقعے روز روز نہیں آتے اور نادان بعد میں کفِ افسوس ملتے ہیں۔پرنس کو دوسروں کے حقوق کی فکر میں ہرگز ہلکان نہیں ہونا چاہیے۔ بالخصوص غیرملکیوں کے نام نہاد حقوق کا تو بالکل خیال نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ ان سے حکومت کو بغاوت کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا، البتہ ان پر بھاری بھر کم ٹیکس عائد کرنے چاہئیں تاکہ ان کو خوب لوٹا جاسکے اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔‘‘یہ مغرب کی جدید سیاسی فکر کے Secular Prophet کی تعلیمات ہیں جو یقیناً اس لائق ہیں کہ ان کو آبِ زر سے لکھا جائے۔ اگر آپ ان ’’روشن ارشادات‘‘ کو ایک دفعہ دوبارہ پڑھیں اور پھر اپنے گردوپیش پر نظر ڈالیں تو آپ پر انکشاف ہوگا کہ ہم ’’میکاولی‘‘ کے دور میں، میکاولی کے عہد میں، اس کے حقیقی پیروکاروں کی سرپرستی میں زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔ میکاولی کے پرنس نے اپنے مربی کی ہدایات پر کتنا عمل کیا؟ اس کے بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے، مگر ہمارے ’’پرنس‘‘ نے میکاولی کی تعلیمات کی جس طرح لاج رکھی ہے وہ یقیناً میکاولی کے ’’رفع درجات‘‘ کا باعث بنی ہو گی۔ خدا جانے ہم سے کون سا اجتماعی گناہ سرزد ہوا ہے کہ قدرت نے ہمیں اس عہد میں دھکیل دیا ہے اور خدا جانے یہ ظلمت انگیز شب اپنے گرو اور چیلوں سمیت کب اُفق کے پار ڈوبے گی؟ آخری بات یہ کہ الیکشن کے ان نتائج میں سوچنے کی بات یہ ہے عوام نے توشہ خانہ کیس اور عدت میں نکاح جیسے معاملات پر بنائے گئے بیانیہ کو کیوں مسترد کر دیا ؟اور مقتدرہ کی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے کی دو سالہ بھرپور محنت بھی نتیجہ خیز کیوں نہ ہو سکی؟؟

تازہ ترین