• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

گھوڑا اسپتال (یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز) میں ہم نے بہت تلاش کیاکہ شاید کوئی گوروں کے زمانے کے دوتین پتھر کی تختیاں یا کوئی اور یادگار مل جائے۔ بہرحال یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے آفس کے اوپر کی طرف جو لکڑی کی انتہائی خوبصورت سیڑھیاں جاتی ہیں وہاں 1915ء کی ایک تحریر سیڑھیوں کی پہلی منزل پر ایک پتھر نصب ہے۔ جس پر کچھ یوں تحریر ہے۔

PUNJAB VETERINARY COLLEGE OPENED BY

HIS EXCELLENCY THE RIGHT HONOURABLE CHARLES, BARDN HARDINGE OF PENSHURST P.C.G.C.B.S.I.G.M.I.E.G.C.M.G.C.V.O.I.S.O

VICEROY AND GOVERNOR GENRAL OF NINDIA. DECEMBER. 1915

بنک آف بنگال کی اس خوبصورت عمارت کے ساتھ محکمہ تعمیرات عامہ کے کبھی گودام تھے اور سامنے ایک خوبصورت بہت بڑا گول فوارہ بھی تھا جس کا اب کوئی نام و نشان نہیں۔ خوش قسمتی سے ہم نے اس کی تصویر کئی برس پہلے خود بنا کر رکھی ہوئی تھی۔اسی طرح برآمدوں میں لوہے کے جنگلوں کی تصاویر اور کچھ بارک نما برآمدوں کی بھی تصاویر ہم نے کسی زمانے میں بنائی تھیں،وہ ہمارے پاس ہیں۔ لکڑی کی یہ خوبصورت سیڑھیاں جو بغیر کسی ستون کے کھڑی ہیں کبھی ان کی پالش گہرے برائون رنگ کی تھی۔ پھر کسی نے اس پر ہلکے برائون رنگ کی پالش کرکے اس کی خوبصورتی تباہ کردی۔ اب اس پر برائون پالش کی گئی ہے۔ انگریز اپنے ہر تعلیمی ادارے کی مین بلڈنگ کے سامنے کارپورچ ضرور بنایا کرتے تھے۔ جہاں پر پرنسپل/ ہیڈماسٹر/ہیڈ مسٹریس کی موٹر کار کھڑی ہوتی تھی۔ کبھی اس گھوڑا اسپتال میں دھوبی گھاٹ بھی تھا جو کہ سڑک پار مسجد کے پاس تھا۔ ہم بھی کبھی وہاں اپنے کپڑے دھلوانے جایا کرتے تھے۔ آج اس دھوبی گھاٹ کا نام و نشان نہیں۔ لاہور میں ایک زمانے میں بے شمار دھوبی گھاٹ تھے، ان کی بڑی پرانی تاریخ ہے۔ لاہور کی کوئی ایسی بستی نہیں تھی جہاں دھوبی گھاٹ نہ ہو ۔ لاہور کے ہر بڑے کالج میں دھوبی گھاٹ ضرور تھا۔ بلکہ میواسپتال میں تو بہت بڑی لانڈری تھی جو بڑی تاریخی اور قدیم تھی، جس کو ایک سابق لالچی ایم ایس نے اپنے مخصوص مفادات کے چکر میں گرا دیا تھا۔بلکہ اس نے میواسپتال کی کئی تاریخی عماتوں اور چیزوں کو تباہ و برباد کردیا۔ لاہور میں دھوبی گھاٹ کا کلچر بھی بڑا دلچسپ رہا ہے۔ خوش قسمتی سے ہم نے لاہور کے تقریباً سارے ہی دھوبی گھاٹ ان کے عروج کے زمانے میں دیکھے ہیں۔ پھر ان دھوبی گھاٹوں کی تباہی بھی دیکھی ہے۔ لاہور کے ہر رنگ میں کئی رنگ تھے اور اب سب بے رنگ اور بے نور ہوگئے ہیں۔ کون سا لاہور اور کیسا لاہور، کہاں گئے وہ لاہوریئے جودھوتی اور اوپر ایک خاص قسم کی ہاف بازوں والی قمیض اور کھسے پہنے سر پر صافہ لئے جگہ جگہ نظر آتے تھے۔ بھارت نے تو دھوبی گھاٹ نام پر فلم بھی بنائی ہے۔ بھارت کی کچھ فلموں کے گانے دھوبی گھاٹوں پر فلمائے گئے ہیں۔ ہم نے اپنے پچھلے کالم میں ذکر کیا تھا کہ شاہی محلہ/ ہیرا منڈی/ بازار حسن/ تحصیل بازار/ ٹبی گلی اور بھاٹی گیٹ، اس سارے علاقے میں ایک طرف تو کئی تاریخی حویلیاں، کوٹھے، فن کی دنیا کے نامور لوگ پیدا ہوئے تو دوسرا علم و ادب کے کئی روشن ستاروں نے یہاں جنم لیا۔ ایک طویل فہرست ہے۔ لاہور کا اولین چرچ یا گرجا گھر یا عیسائیوں کا عبادت خانہ بھی دربار دھیان سنگھ ہی کی حویلی میں قائم ہوا تھا۔ ویسے تو مقبرہ انار کلی کے اندر بھی جو چرچ قائم ہوا تھا اس کو بھی لاہور کا اولین چرچ کہا جاتا ہے۔ ایک قدیم ترین چرچ آج بھی ہے ، وہاں عبادت بھی ہوتی ہے، یہ چرچ بھی کوئی ڈیڑھ سو برس پرانا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شاہی قلعہ میں جو گورے اور مقامی عیسائی ڈیوٹی کرتے تھے ان کے لئے ڈسٹرکٹ اسکول کی عمارت میں لاہور میں عیسائیوں کا پہلا عبادت خانہ بنایا گیا تھا۔ دربار دھیان سنگھ کی حویلی تحصیل بازار میںگورنمنٹ کالج لاہور، اورنٹیئل کالج،پنجاب یونیورسٹی، دیال سنگھ اسکول، لاہور ڈسٹرکٹ اسکول اور سینٹرل ماڈل اسکول اور پھرسٹی مسلم لیگ ہائی اسکول قائم ہوئے تھے۔ یہ بہت ہی تاریخی اور خوبصورت حویلی ہے مگر آج اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔

ہم بات کر رہے تھے سر گنگا رام ہائی اسکول و ٹیچنگ سینٹر کی تاریخی اور خوبصورت عمارت کی۔ جس میں اب لاہور کالج برائے خواتین (اب یونیورسٹی) ہے۔اس عمارت کا فرش اتنا دیدہ زیب اور شاندار ہے کہ سوا سو سال گزرنے کے باوجود سفید اور کالا ٹکڑیوں والا یہ فرش آج بھی بالکل نیا لگتا ہے۔ اس تاریخی اسکول میں کبھی 1947ء کے مہاجرین کا کیمپ بھی رہا ہے۔ کسی زمانے میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) کی طالبات کا یہاں ہوسٹل بھی رہا ہے۔ اس کالج میں طالبات کے ہوسٹل کی عمارت کا فن تعمیر مکمل طور پر ہندو فن اور طرز تعمیر اور کچھ کچھ مندر سے ملتا جلتا ہے، یہ ایک طویل زمانے تک لاہور کالج کی طالبات کا گرلز ہوسٹل رہا۔ لاہور کالج کی طالبات 1922ء میں انتہائی خوبصورت اور تاریخی عمارت ہال روڈ سے یہاں منتقل ہوئی۔ ہال روڈ والی عمارت آج بھی موجود ہے۔ کبھی اس میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) کے اسٹوڈنٹس کا ہوسٹل بھی رہا ہے۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس تاریخی عمارت کو نہ تو لاہور کالج کی انتظامیہ اور نہ ہی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ جب لاہور کالج والوں نے یہ تاریخی فن تعمیر کی عمارت کے ای ایم سی کے حوالے کی تھی ا س وقت اس عمارت کی حالت بہت اچھی تھی اور تقریباً 50 برس سے بھی زائد عرصہ کے ای ایم سی کے لڑکے اس بلڈنگ میں رہائش پذیر رہے۔ ہم اس تاریخی عمارت کو دیکھنے کوئی چالیس برس بعد گئے، یقین کریں بہت دکھ ہوا۔ دوسری منزل کے کئی کمروں کی چھتیں گر چکی ہیں حالانکہ گرائونڈ فلور کے سارے کمرے آج بھی کچھ بہتر حالت میں ہیں اور ان پر تھوڑے پیسے لگا کر انہیں قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ (جاری ہے) 

تازہ ترین