• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب جبکہ مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے والی ہیں تو ضروری ہے کہ منطقی انداز میں ان کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ ماضی میں ان کی سیاست اور شخصیت کن کن مراحل سے گزری اور وہ مستقبل میں کن خوبیوں کی بنا پر آگےبڑھ سکتی ہیں اور کن خامیوں کی وجہ سے انہیں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

مریم نواز شریف کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر نامزدگی اس بات کا باضابطہ اعلان ہے کہ شریف خاندان نے انہیں اپنے جانشین اور سیاسی چہرے کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ 

شریف خاندان میں میاں محمد شریف کی وفات کے بعد سے میاں نواز شریف کو باضابطہ طور پر خاندان کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اس لئے خاندان کے سیاسی اور بیشتر سماجی فیصلے اور اندرونی تنازعات و اختلافات کو بھی وہی حتمی شکل دیتے ہیں۔ 

شریف خاندان ان کے فیصلوں پر، اختلاف ہو تب بھی، سر تسلیم خم کرتا ہے۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز میں سے وزیر اعلیٰ چننے کا فیصلہ نواز شریف نے کیا ہے اور اس پر شہباز شریف اور حمزہ نے صاد کہا ہے۔ اب حمزہ پنجاب اسمبلی کی بجائے قومی اسمبلی کا حلف اٹھائیں گے اور وہاں شہباز شریف کی معاونت کریں گے۔

مریم نواز شریف اپنے والد کے بعد اپنے خاندان کی واحد کرشماتی شخصیت ہیں۔ وہ کراؤڈ پُلر ہیں، جارحانہ اور جذباتی سیاست کرتی ہیں، والد نے مقتدرہ کے خلاف مزاحمت کی تو وہ شانے سےشانہ ملا کر ان کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔ نہ جیل سے گھبرائیں اور نہ نیب کے احتساب سے۔ 

جیل اس بہادری سے کاٹی کہ سب حیران تھے کہ نازوں میں پلی، صنعت کار خاندان کی یہ لاڈلی اتنی سخت جان کیسے نکل آئی؟ 

نوازشریف کی آخری وزارت ِعظمیٰ کے دور میں جب ان کی مقتدرہ سے ٹھن گئی تو مریم نے وزیراعظم ہاؤس کا مورچہ سنبھال لیا، سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی چینلز، اس میں نواز شریف کے جارحانہ دفاع کی منصوبہ بندی یہ کرتیں، سب بڑے بڑے فیصلوں میں شریک ہوتیں۔ 

مشکل کے اس دور میں والد کی تنہائی کی ساتھی بھی یہی تھیں، ہر روز گھنٹوں والد کی صحبت میں گزارتیں۔ اس قربت کی وجہ سے مخالفوں کا نزلہ بھی ان پر گرتا تھا۔ جنرل باجوہ کو جہاں اور باتوں کی نوازشریف سے شکایتیں تھیں، مریم کےسخت موقف پر بھی ان کو شدید اختلافات تھے۔ اس زمانے میں پی ٹی آئی اور مقتدرہ ایک ہوا کرتے تھے اس لئے عمران خان اور پی ٹی آئی کانشانہ مریم بھی بنتی رہیں۔

 اس زمانے میں خاندان کے اندر کلثوم نواز، مریم نواز اور اسحاق ڈار کا ایک نیا اندرونی حلقہ بن گیا یہی حلقہ حتمی سیاسی فیصلے کرتا تھا۔ چودھری نثار علی اسی زمانے میں مریم کے خلاف بولے تھے۔ مریم نواز کو ڈان لیکس میں بھی ملوث قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن چودھری نثار علی کی کوشش سے جنرل باجوہ ان کا نام نکالنے پر راضی ہوگئے تھے۔ 

تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں بھی مریم نے کئی بڑے شہروں میں جلسے کئے، اپنے مزاحمتی انداز اور رویے کی وجہ سے انہیں پذیرائی بھی بہت ملی۔

شریف خاندان نے اپنی سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی کی مخالفت سے کیا۔ مقتدرہ اور دائیں بازو کی بے پناہ حمایت سے انہوں نے بھٹو کی جماعت کے ’لاڑکانہ‘ پنجاب میں تعمیر و ترقی اور سیاسی ترغیب و انتقام سے اس کا صفایا کردیا۔ 

شریف خاندان نے مریم نواز کو بھی ایجنڈے کے تحت پنجاب میں اتارا ہے ان کا خیال ہے کہ اگر چند سال مل گئے تو مریم نواز کے پیچھے ان کے والد بیٹھ کر تحریک انصاف کا بھی وہی حشر کریں گے جو پیپلز پارٹی کا کیا تھا۔ 

دیکھنا یہ ہوگا کہ مریم کی خوبیاں ان کی پنجاب میں سیاست کو آگے بڑھائیں گی یا ان کی کمیاں اور کوتاہیاں ن لیگ کو پہلے سے بھی کمزور کردیں گی۔

مریم نواز کی خامیاں اور کوتاہیاں بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ مریم نواز کے سیاسی کیریئر کو دیکھا جائے تو وہ کبھی بھی فل ٹائم سیاستدان نہیں رہیں، وہ پارٹ ٹائم سیاست کرتی رہی ہیں ۔کبھی تو وہ سیاست میں متحرک ہو کر جلسوں میں جوش و خروش سے تقریریں کرتی ہیں اور کبھی کئی کئی مہینے وہ خاموشی اور چپ کاروزہ رکھ لیتی ہیں۔ 

اب ان کا یہ انداز ِسیاست چل نہیں سکے گا، اب انہیں ہر وقت اور ہر پل متحرک سیاست میں رہنا پڑے گا۔ 

شریف خاندان میں اپنی قدیم روایات کی وجہ سے خاندان کا ریموٹ کنٹرول میاں نواز شریف کے پاس ہے، کئی معنوں میں یہ اچھی بات بھی ہوسکتی ہے مگر وزیر اعلیٰ پنجاب جیسے بااختیار عہدے پر فائز ہو کر بھی کیا ان کا کنٹرول ان کے والد کے پاس ہی رہے گا۔ 

کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر ووڈرو ولسن اپنے پروفیسر والد سے ہدایات لیتے تھے۔ میاں نواز شریف ک ےبارے میں بھی یہ مشہور تھا کہ وہ اپنے والد میاں شریف سے ہدایات لیتے تھے۔ بظاہر والد سے رہنمائی یا ہدایات لینے میں کوئی منفی بات نہیں مگر ایسا کرنے سے اقتدار کا مرکز ایک نہیں رہتا دو ہو جاتے ہیں۔ ایک میان میں دو تلواریں سما نہیں سکتیں۔ 

مریم نواز کو گورننس کا تجربہ بہت کم ہے ،پنجاب کے کروڑوں عوام اور اس کی بے لگام پولیس اور بیوروکریسی کو وہ اس محدود تجربے سے کتنا سنبھال سکیں گی، یہ ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ 

اس وقت سب سے بڑا سیاسی مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کا کیا کرنا ہے؟ ن لیگ آج تک اس مسئلے کا کوئی شافی بیانیہ نہیں دے سکی۔ کیا مریم بھی ماضی کی طرح تحریک انصاف کو دبانے، ان کے خلاف مقدمے بنانے اور انہیں جیلوں میں رکھنے کا پروگرام جاری رکھیں گی یا پھر مصالحت اور مفاہمت کا کوئی نیا راستہ تلاش کریں گی۔ 

مردوں کے اس معاشرے میں عورتوں کی نصف سے زیادہ آبادی کی نمائندگی مریم کا کرنا اچھا شگون تو ہے مگر مردوں کی اکثریت پر مشتمل کابینہ، اسمبلی اور سیکرٹریز کو چلانا ان کیلئے ایک چیلنج ہوگا۔

ہر فردکی آزادی اہم ہے، ہر فرد کو اپنے لباس کی چوائس کا پورا حق حاصل ہے لیکن ورکنگ وومن اور عام خاتون کے لباس میں فرق ہوتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے لباس میں سفید دوپٹہ اور کوٹ کا اضافہ کرکے اسے ورکنگ وومن کا ڈریس بنا لیا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنے زندگی کے آخری برسوں میں سفید اور کریم کلر کا سوٹ اور اسی رنگ کا دوپٹہ اورڑھتی تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ساڑھیاں پہنتی تھیں۔ مریم نواز شریف کو بھی اپنے لباس کو ورکنگ وومن کا ٹچ دینا پڑے گا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز نہ صرف پنجاب بلکہ شریف خاندان کیلئے ایک نیا سیاسی تجربہ ہیں، وہ سیاسی تقریروں میں تو اعلیٰ نمبر لیتی رہی ہیں لیکن کیا وہ گورننس میں اپنے والد اور چچا جیسی کارکردگی دکھا سکیں گی۔ 

شریف خاندان کے سیاسی مستقبل کا انحصار اب مریم نواز کی حکومتی کارکردگی پر ہے، اگر تو وہ سیاست کی گتھی سلجھا کر تحریک انصاف کا سحر توڑ سکیں تو ان کا بھی مستقبل ہے اور ان کے خاندان کا بھی۔ 

تاہم اگر وہ کارکردگی نہ دکھا سکیں تو ن لیگ کا حشر بھی پنجاب میں پیپلز پارٹی جیسا ہوسکتا ہے۔ فی الحال شریف خاندان نے اپنے سارے سیاسی انڈے مریم کے سیاسی مستقبل میں ڈال دیئے ہیں، دیکھئے اس سے کیا ظہور میں آتا ہے۔

تازہ ترین