آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
ہر ذی روح کی طرح ریاست کا بھی اپنا ایک وجود ہوتا ہے جسے وہ ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ شدت پسندوں کے حامی اور ان کے لئے معذرتیں پیش کرنے والے جتنا بھی شور مچائیں ریاست اپنی ہستی کے تحفظ کے لئے پوری طاقت استعمال کرے گی اور جو بھی اس کے راستے میں آئے گا اسے ختم کر دے گی۔اگر سیاسی ادارے ریاست کے تحفظ کے لئے مطلوبہ تعاون نہیں کرتے تو زیادہ طاقتور ادارے ان کو راستے سے ہٹا کر دوسرا سیاسی نظام قائم کر دیں گے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی ماضی کی غلطیوں کو دہرائے گی یا ان سے سبق حاصل کرکے نیا نظام تخلیق کرے گی۔ایک طرح سے مولانا فضل الرحمٰن درست کہتے تھے کہ مذاکرات محض کہانیاں ہیں اصل میں تو فوجی آپریشن کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور فوجی چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف مذاکرات کے بارے میں مخلص بھی ہوں لیکن ریاست اور طالبان کے درمیان ناقابل حل تضادات ہیں۔ طالبان اور ان کے پاکستانی ہمنوا عالمی خلافت کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی ریاست ایک قومی جمہوری اکائی ہے۔ اس قومی جمہوری اکائی کا ایک جغرافیہ، ثقافتی، معاشی اور سیاسی ڈھانچہ ہے جو طالبان کے عالمی نظام خلافت سے ہر طرح سے متضاد ہے لہٰذا طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ،دل بہلاوے کی کہانیاں

ہیں۔
اس سلسلے میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہداللہ شاہد کے نیوزویک کو دیئے گئے انٹرویو کے کچھ نکات قابل غور ہیں۔
اول: اگر طالبان نے پاکستان کے آئین کو ہی تسلیم کرنا ہوتا تو وہ جنگ ہی کیوں کرتے یعنی طالبان کی موجودہ جنگ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے۔
دوم۔ امریکہ سے جنگ طالبان کی تحریک کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔ مطلب امریکہ افغانستان میں رہے یا نہ رہے طالبان اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔
سوم۔ طالبان پاکستان اور افغانستان میں اسلامی امارت قائم کر کے رہیں گے۔ ملّا عمر امیرالمومنین ہوں گے اور پاکستان میں ملّا فضل اللہ رہنمائی کریں گے یعنی ان کے خلیفہ ہوں گے۔
مذاکرات کے پس منظر میں طرفین کی اپنی اپنی حکمت عملی اور ٹائم ٹیبل ہے۔ پاکستانی ریاست کے کارپردازوں کو یہ علم ہے کہ اگر وہ امریکہ کے افغانستان سے دو ہزار چودہ کے انخلاء سے پہلے شمالی وزیرستان سے طالبان کو ختم نہ کر سکے تو پھر یہ کام بہت ہی مشکل ہو جائے گا۔ امریکہ کے انخلاء کے بعد افغانستان میں بالخصوص پاک افغان سرحد کے علاقے میں طالبان کی عملداری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ پھر پاکستان تحریک طالبان ان علاقوں کو بھی پاکستان کے خلاف حملے کرنے کے لئے استعمال کرے گی۔ طالبان کے کچھ حصے بھی پاکستانی فوج کے ساتھ ٹکراؤ کو امریکیوں کے انخلاء تک ملتوی کرنے کی اس لئے کوشش کر رہے ہیں کہ افغانستان میں طالبان قابض ہو جائیں اور ان کو پاکستانی ریاست کے خلاف لڑنے کے لئے افغان پناہ گاہیں میسر آجائیں لیکن طالبان کے زیادہ سخت گیر گروہوں نے پے در پے کارروائیاں کر کے پاکستانی ریاست کو تذبذب سے نکلنے میں مدد کی ہے اور فوجی آپریشن کی شروعات کر دی گئی ہے۔
یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں یا عمران خان فوجی آپریشن کی کبھی حمایت نہیں کریں گے مثلاً امیر جماعت اسلامی منور حسن فرماتے ہیں کہ اگر مذاکرات سو فیصد بھی ناکام ہو جائیں تب بھی فوجی آپریشن کا کوئی جواز نہیں جیسا کہ جمہوریت کی ناکامی سے ڈکٹیٹر شپ کا جواز نہیں بنتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت ناکام ہوجائے تو ڈکٹیٹر شپ آتی ہے اور مذاکرات ناکام ہو جائیں تو جنگ ہونا ناگزیر ہے۔ عمران خان بھی غالباً یہی کہیں گے کہ اپنے لوگوں کے خلاف فوج کو استعمال نہیں ہونا چاہئے لیکن اس نظریاتی جنگ میں ’’اپنے‘‘ اور ’’پرائے‘‘ کی تفریق کیسے کی جائے؟ فرنٹیئر کور کے تیئس اہلکاروں کے بیدردی سے سر قلم کرکے ان کی ویڈیو دکھانے والے ’’اپنے‘‘ ہیں یا ’’پرائے‘‘؟ خود طالبان نے ہزاروں لوگوں کو شہید کرکے اپنے اور پرائے کی تقسیم واضح کردی ہے۔ خود منور حسن صاحب نے مرنے والے طالبان کو ’’شہید‘‘ اور پاکستان کے لئے جان دینے والوں کو ’’ناشہید‘‘ کہہ کر اس تقسیم کو اجاگر کر دیا ہے۔
پاکستانی ریاست نے اس بنیادی تقسیم کو سمجھنے میں بہت سست روی سے کام لیا اور تذبذب کاشکار رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ریاست نے خود انیس سو اکہتر کے مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد مذہبی جماعتوں کا بیانیہ اپنا لیا تھا۔ اس بیانیے کے مطابق پاکستان اسلام کے لئے بنا تھااور وہ اسلام کے نام پر ہی متحد رہ سکتا تھا۔ اسی بیانیے کے تحت آئین اور قوانین میں مذہبی رنگ آمیزی بڑھتی گئی۔ اس اسلامائزیشن کی لہر میں ریاست یہ بھول گئی کہ وہ اسلامی ہوتے ہوئے بھی ایک قومی اکائی ہے اور وہ اسی انداز میں اپنا وجود قائم رکھ سکتی ہے۔ وہ اس عالمی خلافت میں نہیں ڈھل سکتی جو کہ مذہبی جماعتوں کا دیرینہ ایجنڈا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے پاکستان بننے کی مخالفت بھی اس لئے کی تھی کہ یہ ملک ایک قوم کے نام پر بن رہا تھا۔ مذہبی جماعتیں اسلام کو ایک قوم کی حدود وقیود سے ماورا عالمی خلافت کے تناظر میں دیکھتی تھیں۔
پاکستانی ریاست اس لئے بھی اپنی اور عالمی اسلامی جہادیوں (بشمول طالبان) کی تقسیم کو سمجھنے سے بہت دیر تک قاصر رہی کیونکہ ماضی میں ریاست نے خود مسلح مذہبی جتھوں کو پال پوس کر جوان کیا تھا۔ ریاست نے خود خارجہ پالیسی اہداف حاصل کرنے کے لئے ان جہادیوں کو استعمال کیا تھا۔ ریاست کی یہ غلطی خودکشی کی مانند تھی کیونکہ بقول میکاولی جو ریاست اپنے مقاصد کے حصول کے لئے متوازی نجی اسلحہ بند گروہ تیار کرتی ہے آخر میں خود ان کا شکار ہو جاتی ہے کیونکہ ان گروہوں کے اپنے مخصوص ایجنڈے سامنے آجاتے ہیں۔ آج کا پاکستان میکاولی کے نظریئے کا جیتا جاگتا ثبوت ہے لیکن اب ریاست پر واضح ہوگیا ہے کہ ان پرائیویٹ ملیشیاؤں کے ہوتے ہوئے اس کی رٹ قائم نہیں ہو سکتی۔ لیکن ابھی ریاست اپنے قومی تشخص کی آگہی کی بنیادی منازل طے کر رہی ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے سارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے ہر کونے سے مسلح گروہوں کا قلع قمع کیا جائے اور اس بنیادی بیانیے کو تبدیل کیا جائے جس کے زیر اثر ریاست کا وجود خطرے میں پڑا نظر آتا ہے۔ پاکستان کی قومی جمہوری اقدار کو اجاگر کرتے ہوئے ایک روشن خیال بیانیہ تخلیق کیا جائے جس میں پاکستان کے اندر قومیتوں کی مخصوص پہچان کو تسلیم جائے۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ شمالی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ وہاں کے عوام کو قومی دھارے کا حصہ بنایا جائے اور ان کو وہ تمام سہولتیں فراہم کی جائیں جو پنجاب اور ملک کے باقی عوام کو میسر ہیں۔ ان علاقوں کے پشتون عوام وہی سب کچھ چاہتے ہیں جو لاہور یا راولپنڈی میں بیٹھے ہوئے پاکستانی چاہتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ قبائلی علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی پروگرام زیر عمل لائے جائیں۔ پاکستانی ریاست کا وجود اسی حکمت عملی کے تحت مستحکم ہو سکتا ہے۔