• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دبئی سے ایک کاروباری شخصیت نے جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز کو ٹیلیفون کرکے سفارش کی کہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کو نئے پاسپورٹ جاری کردیئے جائیں۔ طارق عزیز نے مسکراتے ہوئے کہا، آپ نے کتنی آسانی سے یہ بات کہہ دی، آپ کو اندازہ بھی ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے؟ ٹیلیفون کرنیوالے نے کہا کہ جب شام کو جنرل صاحب برج کھیلنے جائیں تو آپ ان سے میری بات کروا دیں، میں ان سےخود ہی یہ بات کہہ دوں گا۔ اگلے روز پھر ٹیلیفون آگیا۔ طارق عزیز نے بتایا کہ انہوں نے بات کی تھی مگر جنرل پرویز مشرف نہیں مانے، انکے تاثرات دیکھتے ہوئے میں نے فون پر بات کرانا مناسب نہیں سمجھا۔ اس بزنس مین نے کہا، ٹھیک ہے، میں اسلام آباد آرہا ہوں، آپ ان سے میری ملاقات کروائیں۔ یہ صاحب پرویز مشرف کیساتھ بیٹھ کر سگار پیا کرتے تھے، انہیں زعم تھا کہ جنرل صاحب انکی بات ٹال ہی نہیں سکتے۔ بہرحال ملاقات ہوگئی۔ جنرل پرویز مشرف نے صاف انکار کر دیا۔ اس کاروباری شخصیت کا اصرار جاری رہا۔ جنرل پرویز مشرف نے 11مرتبہ منع کیا۔ 12ویں بار انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیاست میں سب دروازے بند نہیں کئے جاتے۔ کل کو کسی موڑ پر آپ کو بینظیر بھٹو کی ضرورت پڑے گی تو اس بندہ ناچیز کے ذریعے بات چیت ہو پائے گی۔ آپ اس معاملے پر ازسر نو غور کریں اور پاسپورٹ جاری کرنے کی اجازت دیدیں۔ یہ بات اثر کر گئی، جنرل پرویز مشرف مان گئے۔ اسی کاروباری شخصیت نے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے پاسپورٹ انکے حوالے کئے اور وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ دراصل نومبر 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی تو آصف زرداری کو گرفتار کرلیا گیا۔ پہلے بدعنوانی کے مقدمات میں زیر حراست رہے پھر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس اور جسٹس نظام قتل کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی۔ اس دوران جیل میں تشدد ہوا، زبان کاٹنےکی کوشش کی گئی۔ منصوبہ یہ تھا کہ آصف زرداری کو قتل کرکے خودکشی کا رنگ دیدیا جائے۔ مسلسل 8سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد دسمبر 2004ء میں آصف زرداری ضمانت پر رہا ہوئے، پاسپورٹ واپس ملا، ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکال دیا گیا تو وہ اپنی شریک حیات اور بچوں سے ملنے کیلئے دبئی چلے گئے۔ نئی اُفتاد یہ آن پڑی کہ انکے پاسپورٹ زائد المیعاد ہوگئے اور سفارتخانے کا عملہ تجدید کرنے سے انکاری تھا۔ کچھ عرصہ بعد ہی جنرل پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کے تعاون کی ضرورت پڑ گئی۔ جنرل پرویز مشرف کی پاکستان میں اقتدار پر گرفت کمزور ہو رہی تھی۔ امریکی حکام کی طرف سے دبائو ڈالا جارہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں، صدارت کے منصب پر موجود رہیں اور پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیکر بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس اور امریکی سفیر ریان سی کروکر اس حوالے سے جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو دونوں سے رابطے میں تھے۔ بیک ڈو رابطوں کا سلسلہ تو جاری تھا مگرجنرل پرویز مشرف چاہتے تھے کہ انکی بینظیر بھٹو سے براہ راست ملاقات ہو اور آمنے سامنے بیٹھ کر معاملات طے کئے جائیں۔ مگر بینظیر بھٹو جنرل پرویز مشرف کیساتھ بیٹھنے سے گریز کر رہی تھیں کیونکہ ایسی صورت میں انکی ساکھ خراب ہوجاتی اور فوجی حکومت سے ڈیل کا تاثر اُبھرتا۔ یہ وہی دن تھے جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے۔جنرل پرویز مشرف نے اسی کاروباری شخصیت کو یہ ٹاسک دیا ۔ جب اس بزنس مین نے بینظیر بھٹو سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا، اگر آپ اسلئے میرے پاس آنا چاہتے ہیں کہ میں پرویز مشرف سے ملوں تو پیشگی معذرت۔ بینظیر کو کہا گیا کہ ٹیلیفون کے بجائے وہاں آکر بات کرتے ہیں۔ بالمشافہ ملاقات کے دوران اس کاروباری شخصیت نے کہا، بی بی! جس طرح آپ نے دوٹوک انکار کر دیا ہے اسی طرح جنرل پرویز مشرف نے بھی پاسپورٹ جاری کرنے سے کورا جواب دیدیا تھا، مگر میں نے انہیں راضی کیا۔ اب آپ کو اس احسان کا بدلہ چکانا ہوگا۔ ملنے میں کیا حرج ہے؟ آپ کو پیشکش قبول نہ ہو تو انکار کر دیجئے گا۔ بینظیر نے کہا، ٹھیک ہے آپ اپنے گھر کھانے پر بلائیں، اور وہ اچانک وہاں آجائیں، یہ ایک طرح کی اتفاقیہ ملاقات ہوگی۔ چنانچہ بینظیر بھٹو کی جنرل پرویز مشرف سے پہلی ملاقات اسی کاروباری شخصیت کے گھر پر ہوئی۔ بات چیت کا سلسلہ چل نکلا تو قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی NROپر اتفاق رائے ہوا۔ سب معاملات طے پاگئے مگر بینظیر بھٹو نے پاکستان واپس آنے میں جلدی کی۔ اکتوبر 2007ء میں کارساز کے مقام پر خود کش حملہ ہوا اور پھر دسمبر 2007ء میں بینظیر بھٹو کو راولپنڈی لیاقت باغ میں شہید کردیا گیا۔ اگر بی بی کو قتل نہ کر دیا جاتا تو یوسف رضا گیلانی کے بجائے وہ وزیراعظم بنتیں اور آصف زرداری چپ چاپ کسی کونے میں بیٹھے دہی کھاتے رہتے مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا اور بادشاہ گر بن گئے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جنرل پرویز مشرف مستعفی ہوجائیں گے۔آصف زرداری جو کبھی کونسلر کا الیکشن نہیں جیتے تھے،صدر مملکت منتخب ہوگئے۔کئی بار یوں لگا جیسے انہیں ایوان صدر سے اُٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا مگر مفاہمت کے بادشاہ نے پانچ سال پورے کئے اور اب مارچ2024ء میں دوسری بار صدر مملکت منتخب ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ پیپلز پارٹی جو مزاحمتی مزاج کی حامل سیاسی جماعت تھی ،آصف زرداری نے اسے مفاہمتی جماعت کیوں بنادیا ہے؟ اس لئے کہ انہوں نے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا ہے ،وہ کسی بات کو انا کا مسئلہ نہیں بناتے۔وہ ڈٹ کر کھڑے رہنے اور شہید ہونے کے بجائے وقتی طور پر ایک قدم پیچھے ہٹ جانے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور موقع ملتے ہی پیشقدمی کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ان کی سوچ اور حکمت عملی حقیقت پسندانہ ہے۔آپ یقیناً سوچ رہے ہونگے کہ جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز سے رابطہ کرکے بات چیت کا آغاز کرنے اور پھر مشرف کو بینظیر کیساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے والے بزنس مین کون ہیں۔ان کا نام کامران ٹیسوری ہے اور وہ آجکل سندھ کے گورنر ہیں۔

تازہ ترین