• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

اللہ تعالیٰ نے جس دین کو خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر مکمل فرمایا اور امت ِمحمدی کی تشکیل فرمائی، اس امت آغاز چند جاں نثار اصحابِ رسول ﷺ سے ہوا ۔ امت کے ان اولین امتیوں کی صف میں ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیتِ اطہارؓ سب سے پہلے نظر آتے ہیں۔ 

جن میں سب سے پہلی ایک خاتون ہیں جو آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور دوسرے آپ کے دوست اور محب حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، تیسرے آپ کے عم زاد حضرت علی بن ابی طالب ؓنظر آتے ہیں۔ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ایک غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ ؓ۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جن سے امت کی گنتی شروع ہوئی اور آخری نبی کی آخری امت کا خمیر اٹھایا گیا، یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جن سے امتِ محمدیہ ﷺ کی ابتداء ہوئی۔

حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنے علم و فضل ، شجاعت و سخاوت اور جذبۂ محبت و قرابت رسول اللہ ﷺ سے اسلام کی خدمت اور غلبۂ دین حق کے لئے نمایاں کارنامے انجام دےکر رہتی دنیا تک کے لئے نہایت اعلیٰ مثالیں قائم کیں اور تاریخ میں نمایاں مقام پایا۔ 

اعلانِ نبوت ﷺ کے وقت حضرت علی ؓ کی عمر دس سال ہوگی۔ حضرت علی ؓ نے اس عمر میں نبوت کی پہلی صدا پر دعوتِ اسلام کو قبول کیا اور بچوں میں سب سے پہلے امتی بچے کہلائے۔ نبوت ملنے کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریبی عزیزوں اور سردارانِ قریش کو اُن کی غلط روشِ زندگی کے برے نتائج سے ڈرانے کے لئے اپنے خاندان والوں کو دعوت پر جمع کیا اور ان سے فرمایا ’’اے بنی عبدالمطلب ! میں تمہارے سامنے دنیا و آخرت کی بہترین نعمت پیش کرتا ہوں، تم کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم کامیاب ہو جاؤ گے، بولو! تم میں سے کون میرا ساتھ دیتا ہے اور کون میرا مددگار بنتا ہے کون اسلام قبول کرتا ہے‘‘۔ تو سب سردار ان قریش ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، جواب میں صرف ایک کمزور و نحیف آواز آئی، بولا تو صرف ایک بچہ بولا کہ ’’یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ میں سب سے چھوٹا ہوں، کمزور ہوں میری ٹانگیں بھی پتلی پتلی ہیں، لیکن میں غلبۂ دین حق کے لئے آپ کا معاون و مددگار اور قوتِ بازو بنوں گا۔ یہ آواز شیر خدا علی بن ابی طالبؓ کی تھی۔ رسول اللہﷺ نے تین بار اس سوال کو دہرایا۔ 

اس کے جواب میں ہر مرتبہ علی بن ابی طالب ؓہی کی آواز آئی۔ اس کے صلے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’علی ؓتم میرے وارث اور بھائی ہو‘‘۔ حضرت علیؓ کا وعدہ واقرار اور عزم ِ مدد و تعاون محض زبانی کلامی دعویٰ نہیں تھا، بلکہ عمل اس سے بڑھ کر ہی تھا۔ 

آپ نے جس طرح اس عہد کو خون کے آخری قطرے اور زندگی کی آخری سانس تک نبھایا ،وہ پوری امت میں آپ ہی کا خاصہ اور حصہ ہے۔ قبول ِ اسلام کے بعد حضرت علی ؓنے آغوش نبوت میں پرورش پائی، اس تربیت کا اثر یہ تھا کہ آپ کی پیشانی کو اللہ نے بت پرستی سے داغدار نہیں ہونے دیا۔ حضرت علی ؓ نے بھی اپنے والد ماجد کی طرح ان کی وفات کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کا ہر طرح کے مصائب و آلام میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ ہجرت کے وقت سرکار دو عالم ﷺ کے بستر مبارک پر آپ ،رسول اللہ ﷺ کی چادر اوڑھ کر سوئے جو ایک انتہائی خطرناک فیصلہ اور جاں نثارانہ خدمت تھی۔ 

اُدھر کفار تمام رات کاشانۂ نبوت کے گرد پہرہ دیتے رہے اور اسی گمان میں فجر کر دی کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے آستانۂ مبارک سے نکلیں گے تو (نعوذ باللہ) انہیں شہید کر دیں گے۔ حضرت علی ؓ نے ہجرت کی صبح رسول اللہ ﷺ کی وہ تمام امانتیں اُن کے مالکوں کو واپس کر دیں جن کے واپس کرنے کی ذمہ داری رسول اللہ ﷺ نے آپ کو سپرد کی تھی اور جن کے واپس کرنے کے لئے ہی آپ ہجرت میں پیچھے رہ گئے تھے۔ حضرت علیؓ نے ہجرت کی شب جس فضیلت کو حاصل کیا ،ایسی فضیلت آج تک کسی انسان کو حاصل نہیں ہوئی اور زبانِ رسالت سے اس حکم کے ملنے کے بعد کہ علی تم میرے بستر پر سو جانا، نہ تو کسی ترد د وسستی کا مظاہرہ کیا ،نہ ہی خوف و قلق کا شکار ہوئے۔ نہ اُن کا رنگ متغیر ہوا، نہ ان کے اعضاءو جوارح میں اضطراب پیدا ہوا۔ حضرت علی ؓ ہجرت کی شب کی نیند کے متعلق خود فرماتے ہیں :میں ہجرت کی شب اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاتھوں بیچ کر بستر رسول ﷺ پر سویا تو ایسی سکون کی نیند پوری زندگی نہیں سویا‘‘۔

احادیث مبارکہ میں حضرت علی ؓ کے بڑے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے مدینہ سے روانگی کے وقت یہ فرماتے ہوئے حضرت علیؓ کو اپنا نائب مقرر فرمایا کہ علی تم میرے لئے ایسے ہو جیسے ہارون ؑ موسیٰ ؑ کے لئے تھے ، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(متفق علیہ) حضرت علیؓ ہی سے مشہور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’میں علم کا شہر اور علی ؓاس کا دروازہ ہیں۔‘‘ (ترمذی)

حضرت علی ؓ نے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ہر میدان اور ہر شعبۂ زندگی میں بے مثال اور عدیم النطیر خدمات انجام دیں۔ چنانچہ میدانِ جہاد ہو یا شعبۂ علم و فقہ و قضا ، آپ ؓ ہمیشہ ہر جگہ پیش پیش رہے۔ مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد ۲ھ ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی لختِ جگر خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کا نکاح حضرت علی ؓ سے فرما کر آپ کو اپنے دامادہونے کا شرف بخشا۔ اس نکاح کے تمام معاملات مہر، جہیز ، ولیمہ کی ساری داستان تاریخ کا عظیم اور قابلِ عمل سرمایہ ہے۔ ایک امتی کے لئے اس سے بڑا اعزاز کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ وقت کا نبی اسے اپنی دامادی کے اعزاز و شرف سے سرفراز کرے۔

حضرت علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غلبۂ دین حق اور دفاع اسلام کی جدو جہد میں ہمیشہ شریک رہے اور تمام غزوات و سرایا میں اپنی شجاعت کا لوہا منوایا۔

حضرت علی ؓ نے اپنے بچپن سے جوانی تک زندگی کے تیس بہترین سال رسالت مآب ﷺ کی پیاری تربیتِ و آغوش اور صحبت میں گزارے۔ حضرت علی ؓ کو قرآن کی تفسیر اور اس کے تمام علوم، حدیث و علم حدیث اور فقہ میں مکمل دسترس اور تبحّر علمی حاصل تھا۔

فنِ خطابت میں حضرت علی ؓ کو خدا داد ملکہ حاصل تھا ۔ شعر و شاعری سے بھی شوق فرمایا کرتے تھے۔ علم نحو کی ایجادکا سہرا بھی آپ ہی کے سر ہے۔ غرضیکہ کاشانۂ نبوت میں تربیت پانے والے حضرت علی ؓ کی پوری زندگی ہمارے سامنے ہے جس میں تقویٰ ، اخلاص، احسان، مروت، عفو وکرم ، توکل، رضا، صبر ، شکر قناعت، استغناء کی صفات بہ تمام و کمال نظر آتی ہیں۔

  مناقبِ مرتضوی بہ زبانِ اصحاب ِنبویؐ

٭مرادِ رسول ؐسیدنا فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا: حضرت علی ؓ کو تین خوبیاں ایسی نصیب ہوئیں ،اگر مجھے اُن میں سے ایک بھی مل جاتی تو میرے لیے دنیا ومافیہا سے بہتر ہوتیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی لختِ جگر سیدہ فاطمہؓ کا ان سے نکاح فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں مسجد میں سکونت عطا کی ۔خیبر میں علم(جھنڈا) انہیں عطا کیا۔٭سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: حضرت علیؓ سے زیادہ علمِ دین کا جاننے والا کوئی نہ تھا۔٭ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: ہم لوگ آپس میں کہا کرتے تھے کہ حضرت علی ؓ اہلِ مدینہ میں سب سے زیادہ معاملہ فہم ہیں۔٭ابن ِعباس ؓنے فرمایا: مدینۂ منورہ میں فصلِ قضایا اور علمِ فرائض میں حضرت علی ؓ سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی نہ تھا۔

یاد رکھنے والی پانچ باتیں

سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ہماری پانچ باتیں یاد رکھو۔(۱) کوئی شخص گناہ کے سوا کسی چیز سے خوف زدہ نہ ہو۔(۲)صرف اللہ ہی سے امیدیں وابستہ کرو۔(۳کسی چیز کے سیکھنے میں شرم نہ کرو۔(۴)عالم کو کسی سوال کے جواب میں یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ میں اس مسئلے سے واقف نہیں۔(۵ ) صبر اور ایما ن کی مثال سر اور جسم کی ہے ،جب صبر جاتا ہے تو ایمان ( بھی )رخصت ہوجاتا ہے، گویا جب سر اڑ گیا تو جسم کی طاقت بالکل ختم ہوجاتی ہے۔(سننِ ابنِ منصور)