• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


وکلاء نے کل 9 مئی کو پاکستان بھر میں پورا دن ہڑتال کی کال دے دی۔

اس بات کا اعلان وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے میڈیا سے گفتگو میں کیا ہے۔

وکلاء رہنما نے کہا کہ کتنی دیر تک آپ ہائی کورٹ کے دروازے بند کرکے بیٹھیں گے؟

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے 2 مطالبات ہیں، وکلاء دہشت گرد نہیں، ہڑتال کریں گے، ملک بھر سے وکلاء کو لاہور میں اکٹھا ہونے کی کال دیں گے۔

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ مسئلہ آج کا نہیں تھا، کافی عرصے سے چل رہاتھا، یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں، کل پورے پاکستان میں پورا دن ہڑتال کی کال دی ہے۔

وکلاء کا مظاہرہ، پتھراؤ، پولیس کا لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ

لاہور میں وکلاء بپھر گئے، جنہوں نے جی پی او چوک میں احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ کر دیا۔

وکلاء نے رکاوٹیں ہٹا کر ہائی کورٹ کے اندر جانے کی کوشش کی۔

پولیس نے وکلاء کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کی، واٹر کینن کا استعمال بھی کیا۔

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب

50 سے زائد وکلاء زیرِ حراست

پولیس کی جانب سے اب تک 50 سے زائد وکلاء کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

لاہور میں احتجاج کرنے والے وکلاء کو پولیس نے گرفتار کر کے قیدیوں کی وین میں ڈال دیا۔

پولیس اور وکلاء کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 1 ایس پی اور 2 ایس ایچ او زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس نے بیریئر لگا کر لاہور ہائی کورٹ کے مین گیٹ کا راستہ بند کر دیا اور مظاہرہ کرنے والے ایک وکیل کو گرفتار کر لیا۔

ججز گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

وکلاء عدالتیں خالی کروانے لگے

علاوہ ازیں وکلاء نے اپنے احتجاد کے دوران عدالتیں بھی خالی کروائیں۔

وکلاء کی جانب سے پہلی عدالت جسٹس انوار الحق پنوں کی خالی کروائی گئی۔

وکلاء نے جسٹس انوار الحق پنوں کی عدالت سے سائلین کو باہر نکال دیا۔

احتجاج کرنے والے وکلاء نے جسٹس انوار الحق پنوں کی عدالت سے سائلین کو باہر نکال دیا—ویڈیو گریب
احتجاج کرنے والے وکلاء نے جسٹس انوار الحق پنوں کی عدالت سے سائلین کو باہر نکال دیا—ویڈیو گریب

ڈی آئی جی آپریشنز مذاکرات کیلئے پہنچ گئے

ڈی آئی جی آپریشنز کامران فیصل وکلاء سے مذاکرات کے لیے پہنچ گئے۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ میں جنرل ہاؤس کا اجلاس کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

پولیس سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: لاہور بار

لاہور بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہمارے پولیس کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

صدر لاہور بار منیر بھٹی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا مطالبہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ انصاف کی فراہمی اور آزاد عدلیہ ہے، آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔

صدر لاہور بار منیر بھٹی نے کہا کہ مذاکرات ہوں گے تو دیکھیں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالتوں کی منتقلی کے نوٹس اور 7 اے ٹی اے واپس لیے جائیں۔

میٹرو اسٹیشن بند، ٹریفک کی روانی متاثر

پولیس نے عدالتوں کو جانے والے راستے بھی بند کر دیے، وکلاء آنسو گیس سے بچنے کے لیے جی پی پی او چوک میں اورنج لائن اسٹیشن کی سیڑھیوں میں جا بیٹھے۔

وکلاء کے احتجاج کے باعث جی پی او چوک پر میٹرو بس اسٹیشن بند کر دیا گیا، مال روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ وکلاء سول عدالتوں کی منتقلی اور وکلاء پر دہشت گری کے مقدمات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

پولیس صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے: ڈی آئی جی آپریشنز

وکلاء کے احتجاج کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں بتایا کہ پولیس زیادہ سے زیادہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وکلاء کی طرف سے پتھراؤ کے بعد ہمیں آنسو گیس استعمال کرنی پڑی، تحمل کا مظاہرہ کرتے رہیں گے، خرابی کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے ایس ایچ او اور کانسٹیبل زخمی ہو گئے، ہائی کورٹ کی سیکیورٹی کے لیے 2 ہزار کی نفری موجود ہے ۔

قومی خبریں سے مزید