(گزشتہ سے پیوستہ)
پنجاب یونیورسٹی اورغریب خانے کی ہر دو محفلوں میں پروفیسر ستیاپال آنند غزل پر یوں حملہ آور ہوئے کہ خود بھی اردو شاعری کے اس کالے جادو کا باطن آشکار کر دیااور پائے کے ناقدین کے حوالوں سے بھی اپنی کھری تنقید کو جلا بخشی۔ پروفیسرصاحب نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی تحقیق اور مطالعے کی روشنی میں غزل کی جادوگری کاپول یوں کھولا ۔’’میں غزل کا مخالف ہوں، مجھے غزل کا جانی دشمن بھی کہا جاتا ہے، لیکن میں شعر و ادب کی کسی صنف کا مخالف نہیں، ہاں غزل کا ہوں کہ یہ اب تک پرانے استعارے اور روایت کو اپنائے ہوئے ہے۔ استعارہ فارسی سے اردو میں آیا لیکن غزل خود ایران میں ناپید ہوگئی۔ ہم ہیں کہ اردو شاعری میں سترھویں صدی سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ہم نے استعارے کاپیچھا نہیں چھوڑا چاہے اس معشوق کا استعارہ ہو جو دل چیرتا رہا یا برق تجلی کا۔ عاشق کراہ رہا ہے، بستر پرزخمی پڑا ہے، نقاہت سے بولا نہیں جاتا، تربت پر بھی جانا ہے کہ شاید معشوق باہر نکل کر مہربان ہوجائے۔ Freequency Counting کے طریق تحقیق کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے ابلاغ کے غالب رجحان کا پتہ چلایا جاسکتاہے۔ جیسے قرآن مجید میں 86بار خیرات، زکوٰۃ یا صدقے کا ذکرآیا۔ 20ویں صدی کے اردوشعرا کے 83 فیصد شعر غزل گو کے جذبہ ترحم، معشوق کے ظلم، اپنی مظلومیت، اس کی غلامی، فقیری اور آس و حسرت سے بھرے پڑے ہیں۔ تب ہی تو کلیم الدین احمد جیسے پائے کے نقاد نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’غزل ایک نیم وحشی صنف سخن ہے‘‘ یوں یہ قابل گردن زدنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا مزاج شاہوں، نوابوں اور امرا سے ملتاہے لیکن ہم اب تک غزل کے سحر میں گرفتار ہیں جومعشوق کو ہمیشہ ظالم اور عاشق کو مظلوم اور قابل رحم گردانتی ہے۔ زبان تو وہ ہے جو عوام کے پیچھے چلے نہ کہ عوام اس کے جبکہ غزل دربار سے شروع ہوئی، قلعہ میں عام ہوئی، پھر طوائف کے کوٹھے پر پہنچی او ر امرا کی بیٹھک اور نشستوں کا فخر و امتیا ز بنی۔ جدید اردو ادب کو ہم پریم چند کی کہانیوں سے شروع کرتے ہیں جو اس کے کھیت مزدوری کے تجربے سے تخلیق ہوئیں۔ ہماری شاعری بھی کسی سے کم نہیں لیکن یہ 1940کے بعد آزاد نظم سے وجود میںآئی۔ جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ اظہار کابہترین ذریعہ ہے م۔ن۔راشد ، میراجی اور وزیر آغا نے اپنےشاعرانہ ابلاغ کے لئے یہ ہی انداز اختیار کیا‘‘ (یہاں خاکسار اپنی آبزرویشن دینا ضروری سمجھتاہے ..... آزاد نظم اور 1940کے ایمی جیٹ بیک گرائونڈ (میں آزادنظم نہ سہی) اقبال و حالی کی صدا بہا ر اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی نظمیں ثابت کرچکی تھیں کہ اردونظم قومی سطح پر ابلاغ کا موثر ترین ذریعہ ہے)
’’غزل‘‘پر تابڑ توڑ حملے جاری رکھے ہوئے جناب ستیاپال آنند نے بتایا کہ ’’آج سال بھر میں امریکہ میں شاعری کی کوئی دس ہزار کتابیں چھپتی ہیں جس میں غزل کی اصناف سخن ناپید ہو چکی ہے۔ یہ کبھی بھی نہیں چل سکی۔ شیلے، کیٹس اور بائرن وغیرہ نے بھی کسی چیز کی تعریف میں ہی اپنی شاعری کی۔ اس طرز کی شاعری کے قواعد کے باعث جذبات کا اظہار خیا ل بہت مشکل ہے۔ جہاں تک ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعرا کا تعلق ہے تحریک تو بنیادی طور پر سیاسی تنظیم تھی جس کے اپنے کاڈرز تھے جنہیں جواوپر سے ملتا اسے اپنی قرارداد بنا لیاجاتا۔ سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض نے لاٹھیاں نہیں کھائیں۔ یہ تو آرم چیئر کے انقلابی تھے۔ انہیں تویہ بھی نہیں معلوم تھا کہ گدھاگاڑی والوں کی بھی یونین ہوتی ہے۔آج فیض بڑا نام ہے۔ یہ وہ پس منظر ہے کہ جس نے ہمیں تیزی سے ارتقا پذیر بیرونی زبانوں کے دوش بدوش نہ چلنے دیا اور ہماری شاعری کی ترقی پچیس تیس سال پیچھے رہ گئی۔‘‘ سوال و جواب میں جناب ستیا پال نے کہا ’’سالہا سال سے غزل کا ایک ہی موضوع چلا آرہا ہے’’عشق ا ور اس میں ناکامی‘‘حالانکہ شاعری برائے زندگی ہونی چاہئے۔ محبت میں کامیابی یا ناکامی ہی زندگی نہیں۔ غزل کی تو تعریف ہی ’’معشوق سے باتیں کرنا ہے‘‘ جو اکثر حالات میں حاضر بھی نہیں ہوتا لیکن غزل گو اپنے پہ جذبہ ترحم طاری کئے اس سے مخاطب رہتے ہیں۔‘‘
غزل خود ترحمی ، بیچارگی، معشوق کے ظلم اور عاشق کی مظلومیت، غلامی اورفقیری سے بھری پڑی ہے۔ غزل کا 83د بوجھ یہ ہی ہے اردو شعر و ادب کے لیجنڈ نے غزل پر اپنی تابڑ توڑ تنقید کو یوں سمیٹا کہ ’’غزل وہ اندھا کنواں ہے جس سے کبھی کوئی نہیں نکل سکا۔ جو بھی گرا وہ اپنے فن کی زلیخا تک نہیں پہنچا۔ ہر کوئی یوسف ؑ تو نہیں ہوسکتا‘‘
(خاکسار کی آبزرویشن...... غزل توڑ ستیا جی اتنا ضرور مان لیں کہ وہ ایسے غزل گووئوں کو اس کالے جادو کے اثر بد سے بچاسکتے ہیں۔ خصوصاً ان کو جو اس میں دھنسے نہیں اور ان میں زندگی کی رمق پائی جاتی ہے۔ عندیہ یوں ملا ہے کہ غزل ان پر غالب نہیں کہ وہ نظم بھی لکھتے ہیں۔ جیسے آپ (جناب ستیا پال) نے اقتدار جاوید کو بالآخر غزل سے بچا لیا۔ وہ نا صرف تائب ہوا بلکہ ہائی فری کوئنسی پر نظم کی طرف مائل۔ اپنی نظموں کی تازہ کتاب ’’میں سانس توڑتا ہوا‘‘ میں اقتدار غزل کے سٹیٹس کو سے نکل کر ’’بھید‘‘ نامی نظم میں لذیذ پھل کھانے کا عزم باندھتا ہے۔ گویا نظم زندگی اور غزل موت۔ نظم ملاحظہ ہو۔
میں خود کو خیرباد کہہ کے
اپنے آپ سے نکل پڑوں
ہمیشہ کے لئے نکل پڑوں
میں چل پڑوں
کسی مقام پر خود کو روک لوں!
میں اپنی کینچلی اتار لوں
یا خود کو مار لوں
لذیذ پھل کو توڑ لوں
یا ڈسٹ بن میں پھینک دوں
ہے میرا اختیار خود پہ ان دنوں
بہت ہے میرے جسم و جاں کے واسطے
ایک آدھ ٹکڑا شہد میں ملا ہوا
میں رات کاٹ لوں سکون سے
یا جاگتا رہوں
میرے وجود پر ہے میرا اختیا ر ان دنوں
میں خوش ہوں
میں نے اپنا بھید پالیا
میں نےاپنے آپ کو سدھار لیا
(محدود جگہ کے باعث اقتدار سے تخفیف نظم کی معذرت)
ملاحظہ ہو کہ کہاں انقلابی شاعر کی شہرت کا حامل فیض مبتلائے غزل ہو کر لذت بے گناہ کی بھی اتنی بڑی سزا کا اعتراف کس بیچارگی سے کررہا ہے کہ
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے
اور کہاں غزل سے تائب تازہ تازہ’’مشرف بانظم‘‘ اقتدار جاوید اپنی کینچلی(غزل) اتار کر اپنی نظم میں لذیذ پھل توڑنے کے عزم باندھے ہوئے بقو ل اس کے کہ اب وہ اس کے لئے بااختیار ہے۔پروفیسر ڈاکٹر خواجہ زکریا نے تو مہمان کے حد ادب میں کوئی سوال کیا نہ آبزرویشن بس یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ اختلاف کی گنجائش تو بہت ہے لیکن پروفیسر صاحب ہمارے مہمان ہیں اور ہمیں اعتراف ہے کہ اردو ادب میں ان کاکام بہت ممتاز ہے۔ اقبال چیئر کے سربراہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے ایک مضمون ستیا پال کی غزل پر تنقید کے حوالے سے پڑھا اور سوال اٹھا یا کہ آپ نے اردو شاعری میں فارسی اور عربی کے الفاظ سے چھٹکارے کی بات کی ہے جبکہ یہی اردو شاعری کی زینت ہیں۔ ڈاکٹر ستیا پال نے کہا مجھے اردو عروض کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ میں سات سو نظموں کا خالق ہوں۔ عروض کے لئے مجھے ان بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے اس کے بغیر چارہ نہیں میں نے اردو کو چنا کہ یہ اسی کی خصوصیت ہے کہ اس میں یہ تراکیب موجود ہیں ہندی میں نہیں۔ہر دو متذکرہ محافل میں غزل پر تنقید نے مجھے اپنا غبار نکالنے کا خوب موقع دیا۔ اس پر خاکسار ڈاکٹر ستیا پال آنند کا انتہائی ممنون ہے کہ انہوں نے پاکستان آکر اس کا موقع فراہم کیا ۔بلاشبہ پاکستان لیٹر آف اکیڈیمی کے چیئرمین جناب عبدالحمید نے ڈاکٹر ستیا پال کو مدعو کرکے ہمارے ادیبوں، شعرا حتیٰ کہ صحافیوں کو بھی اردو شعر و ادب میں تازگی لانے کی طرف متوجہ کیا کہ ادب اور شاعری کے معاشرے کی مطلوبہ رخ اختیار کرنے میں موثر کردار پر کوئی دو رائے نہیں۔اپنے تمام ادیب اور شاعر دوستوں، خصوصاً غزل گو شعراء کی خدمت میں عرض ہے کہ خاکسار کے قلم سے غزل پر حملہ فقط ایک لیجنڈ ناقد کے اور اپنے غزل پر نقطہ نظر میں مکمل ہم آہنگی کی تصدیق نے فراہم کیا کیونکہ میں نے غزل کو ہمیشہ سٹیٹس کو کا ذریعہ ابلاغ جانا۔ شاعری سے کوئی بیر نہیں، میں نے تو کالم کا عنوان(آئین نو) بھی کلام اقبال سے اخذ کیا لیکن زمانہ تقاضہ کرتا ہے ہر شکل میں اور ہر صنف کا ابلاغ عوام کے لئے ہو۔ اسٹیٹس کو نے عوام کے حقوق، ان کی حیثیت اورمطلوبہ شخصیت کو جکڑا ہوا ہے۔ دعویٰ تو نہیں واضح گمان ہے کہ اگر پروفیسر ستیاپال کا ریسرچ میتھڈ ا پلائی کرکے یہ تحقیق کی جائے کہ گزشتہ سات سال کی کالم نگاری میں’’تبدیلی‘‘ اور’’اسٹیٹس کو‘‘ کو سب سے ز یادہ کس نے ایڈریس کیا تو محتاط اندازے کے مطابق ’’آئین نو‘‘ سرفہرست ہوگا۔ جو تقاضا کرتا ہے کہ شعر و ادب کو تازگی عطا کی جائے جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ شاعری و ادب کا باسی انداز ہماری صحافت اور سیاست کو بھی متاثر کررہا ہے اور آج کے آئینی و جمہوری دور میں بھی فلسفہ خوشامد کی پیروی میں اسی کے سہارے درباری کلچر پیدا کردیا گیا ہے جو حکومت، جمہوریت اور عوام کے لئے مہلک ہے۔ غور فرمائیں۔