• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ کھیل جن میں ہمارا کبھی کوئی ثانی نہیں تھا مثلاًہاکی اور اسکواش۔ ان میں آزادی کے بعد سے لیکر 90 کی دہائی تک پاکستان آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ ہمارے قومی ہیروز نے تمام براعظموں میں قومی جھنڈا گاڑ دیا ۔ صد افسوس آج یہ تاریخ کی پست ترین سطح پر ہیں۔ کیا یہ متعلقہ ذمہ داروں کیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان نہیں؟ ۔ دنیا آج بھی ہمارے لیجنڈز کو نہیں بھولی۔ ان کے کارناموں کو فراموش نہیں کر سکی۔ اقوام متحدہ نے پاکستان اور دنیائے سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کو ایک ہزار سال کے بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ یہ جہانگیر خان کا ہی نہیں، ملک و قوم کا بہت بڑا اعزاز ہے۔ جہانگیرخان کا اپنے کیریئر میں مسلسل 550میچ جیت کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج ہے ۔ وہ پانچ برس تک ناقابل شکست رہے۔ انہوں نے چھ بار ورلڈ ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ دس بار برٹش اوپن چیمپئن شپ کے بھی فاتح رہے۔ ہاکی میں پاکستان تین اولمپک اور چار ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔ کاش ان کھیلوں میں ہماری عظمت رفتہ بحال ہو لیکن ’’بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘۔ کھیلوں کے اداروں میں ذاتی مفادات ، عہدوں کا لالچ، غیر پیشہ ورانہ اور سیاسی تقرریوں، اقربا پروری، بے ضمیری، نااہلی اور عدم توجہی کے سبب ہماری کھیلوں کا یہ حال زار ہے۔ اس زوال پذیری میں ارشد ندیم نے روشنی کی کرن دکھائی ہے انہیں خوب پذیرائی ملی۔ ملک و قوم کا نام روشن کرنیوالوں کی ایسی ہی پذیرائی ہونی چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ آج ایسے نامور کھلاڑی کیوں سامنے نہیں آتے اس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ غریب اسپورٹس مینوں کی خاص طور پر حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔تمام اضلاع میں اسپورٹس فنڈ مختص ہے جس کا استعمال اگر بہتر طریقے سے کیا جائے تو کھیلوں کا بہترین انفراسٹرکچر بنایا جا سکتا ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین