• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ موت اور فنا جسم کو ہے نہ کہ روح کو۔ فنا جسم کو ہے نہ کہ جذبے کو۔ جس طرح روح کو بقاء ہے اسی طرح جذبے کو بھی بقا ہے۔ البتہ بقاء کی قسمیں الگ الگ ہیں۔ روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے مسکن یعنی عرش پہ چلی جاتی ہے جبکہ جذبہ تاریخ بن کر اور تاریخ کا حصہ بن کر بقا پا جاتا ہے، ابدی ہو جاتا ہے اور قیامت تک ذہنوں اور دلوں کو متاثر کرتا رہتا ہے، جسموں کو گرماتا اور روشنی کا مینار بن کر بھٹکے ہوئے مسافروںکو راہ دکھاتا رہتا ہے۔ اگر اپنی بات کی وضاحت کے لئے کچھ حوالے دوں تو انہیں محققین کی تحقیق کی بھینٹ نہ چڑھائیں بلکہ ان کی روح کو سمجھیں اور ان سے سبق حاصل کریں۔ بابر ہندوستان میں مغلیہ خاندان کا پہلا حکمران اور مغلیہ عہد حکومت کا بانی تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بابر نہایت جفاکش، بہادر اور طاقتور انسان تھا۔ گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سواری کرنا اور دو توانا حضرات کو اپنی بغلوں میں دبا کر فصیل کی دیواروں پر دوڑنا اس کا مشغلہ تھا۔ یہ اس کی جسمانی طاقت کا مظہر تھا۔ اس کا بیٹا ہمایوں بیمار ہوا تو بابر کو اس خدشے نے نڈھال کردیا کہ ہمایوں مرض الموت کا شکار رہا ہے۔
اس نے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے دعا کی، زار و قطار رویا اور پھر اس نیت کے ساتھ ہمایوں کے بستر کے اردگرد سات چکر لگائے کہ اللہ پاک قادر مطلق ہیں وہ اس کی عمر ہمایوں کو عطا فرما کر اسے صحت یاب کردیں۔ ہمایوں صحت یاب ہوگیا۔ بابر بیمار رہ کر اللہ کو پیارا ہوگیا۔ یعنی بابر مر گیا لیکن باپ کی محبت، اولاد کے لئے جذبہ اور ایثار زندگی پا کر تاریخ کا حصہ بن گیا۔ آج بابر کی یہ قربانی ایک مثال اور استعارہ بن کر بقاء پا چکی ہے جبکہ بابر کی قبر میں ہڈیاں بھی گلی سڑ چکی ہوں گی۔ مطلب یہ کہ فنا جسم کو ہے اور بقا جذبے کو ہے۔ جذبے، ایثار اور خدمت کو نہ موت آتی ہے اور نہ ہی فنا ہوتے ہیں۔ جہانگیر بادشاہ جیسا بھی تھا لیکن اس نےمحل کے باہر ایک زنجیر لٹکا رکھی تھی۔ کوئی بھی مظلوم، کوئی انصاف کا طلبگار اور عدل کا متلاشی کسی بھی وقت اس زنجیر کو ہلا کر بادشاہ کے حضور عدل کے لئے درخواست کرسکتا تھا۔ جہانگیر مر گیا لیکن عدل جہانگیری کا استعارہ، در خدمت کی علامت کی حیثیت سے تاریخ کا حصہ بن کر دوام پا چکی ہے۔ تحقیق کی وادیوں میں بھٹکنے کی بجائے ہمیں صرف یہ یاد ہے کہ اورنگ زیب خزانے سے اپنی ذات پہ کچھ خرچ نہیں کرتا تھا اور اپنا خرچ پورا کرنے کے لئے ٹوپیاں سی کر فروخت کرتا تھا۔ چنانچہ بادشاہ مرگیا لیکن یہ جذبہ تاریخ کے اوراق میں صدیاں گزرنے کے باوجود زندہ ہے۔
ٹیپو سلطان ایک عادل، نرم خو اور عوام سے محبت کرنے والا حکمران تھا۔ اس کی بہادری ضرب المثل بن چکی ہے۔ اپنوں کی غداری سے دشمنوں کے ہاتھوں، شہادت پانے سے قبل اس نے کہا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زند گی سے بہتر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نے اپنے جیسے شیروں کی بات کی تھی نہ کہ پاکستان کے جمہوری شیروں کی۔ بہرحال ٹیپو سلطان شہید ہو کر اللہ پاک کے پاس پہنچ چکا لیکن اس کا یہ فقرہ......اس کی بہادری...... اس کا جذبہ...... شمع بن کر تاریخ میں روشن ہے اور دلوں کو گرماتا ہے۔ مطلب یہ کہ ٹیپو سلطان مر گیا لیکن اس کا جذبہ بقا پا گیا کیونکہ موت انسانوں کو ہے، فنا جسموں کو ہے جبکہ بقا اور دوام جذبوں کو ہے۔
آپ شاہ ولی اللہ کو بطور محدث، مفسر اور عالم جانتے ہیں۔ قرآن حکیم کا پہلا فارسی زبان میں ترجمہ ان کا عظیم کارنامہ ہے، جہاد کی روح کے احیاء میں انہوں نے اہم کردار سرانجام دیا لیکن تاریخ میں ان کارناموں سے بالا بالا ان کا ایک تصور...... وژن...... اور جذبہ بقا پا گیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہوئے تو انہوں نے مسلمان ریاستی حکمرانوں اور سرداروں کو خطوط لکھے۔ ان خطوط کا بنیادی نکتہ ، تصور اور جذبہ یہ وژن تھا کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی بقا کے لئے یہ ناگزیر ہے کہ مسلمان ہندوستان کے کسی نہ کسی علاقے یا علاقوں میں حکمران ہوں۔ اس جذبے کو بقا اس لئے ملی کہ یہ تحریک پاکستان اور تصور پاکستان کی نظریاتی بنیاد بن گیا۔ جمہوریت کی آمد کے ساتھ مسلمانوں کو مسلمان اکثریتی علاقوں میں ہی حق حکمرانی ملنا تھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کئی صدیاں قبل وصال پا گئے لیکن ان کا جذبہ تاریخ کے شعور میں ندی کی مانند بہتا رہا اور دوام پا گیا۔ سر سید احمد خان کے خلاف فتوے جاری ہوئے۔ ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی لیکن ان کا جذبہ...... مسلمانوں کو ماڈرن تعلیم کے ہتھیار سے لیس کرنا اور دو قومی نظریہ تاریخ میں جگہ پا کر دوام حاصل کر گیا۔ آج کسی کو انکے خلاف فتوئوں کا علم نہیں لیکن ہر کوئی علی گڑھ کالج اور دو قومی نظریے سے واقف ہے۔ مطلب یہ کہ سر سید وفات پا گئے لیکن ان کا جذبہ تقریباً سوا صدی بعد بھی زندہ ہے۔
علامہ اقبال بیرسٹر اور وکیل تھے۔ ان کے ہم عصر شاعروں کی تعداد سینکڑوں ہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال 1938ء میں وفات پا گئے لیکن ان کا جذبہ، پیغام اور قومی شاعری آج بھی لوگوں کو گرماتی، راہ دکھاتی، خودی بیدار کرتی اور جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔ مطلب یہ کہ علامہ اقبال خاکی تھے، انسان تھے اس لئے موت ان کا مقدر تھی۔ موت نے علامہ کو مٹی میں ملا دیا لیکن ان کے جذبے اور کارنامے کو نہ چھو سکی۔ قدرت نے ان کے کام کو بقا اور دوام عطا کردی۔ قائداعظم محمد علی جناح خوبرو، غیر معمولی ذہین، مستقل مزاج اور عزم کا پہاڑ تھے۔ محمد علی جناح اور ان کی رتی ڈنشا سے محبت فنا ہو چکی ہے لیکن ان کا قومی جذبہ، جدوجہد اور قیام پاکستان کی صورت میں کارنامہ تاریخ میں ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہے گا اور آئندہ نسلوں کو Inspire کرتا رہے گا۔ موت جناح کے جسم کا مقدر تھی نہ کہ قائداعظم کے جذبے اور کارنامے کا کیونکہ جذبے روشنی کے بلند ترین مینار اور ٹاور بن کر قوم کی راہوں میں اجالا پھیلاتے رہتے ہیں اور بقا کے مقام پرفائز ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح مولانا عبدالستار ایدھی دنیا سے چلے گئے لیکن ان کے جذبے اور خدمت کو بقا حاصل ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر دنیا میں نہیں رہیں گے لیکن ان کا پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا جذبہ تاریخ میں باقی رہےگا۔ بلاشبہ عزت، مقام، مرتبہ اور جذبہ میرے رب کی دین ہیں، میرے رب کے عطا کردہ انعامات ہیں۔ وہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے محروم کردے۔ میں نے انبیاء کرام اور اولیاء کرام کی بات نہیں کی کہ وہ ایک دوسری قسم ہوتی ہے جن کے اجسام خاکی کو بھی فناء نہیں۔
میں تو گزشتہ چند صدیوں کے ان معروف کرداروں کی مثالیں دے رہا ہوں جن کے اسمائے گرامی سے آپ اچھی طرح واقف ہیں اور جو کوئی مافوق الفطرت شخصیات نہیں تھیں، ہم جیسے انسان اور ہم جیسے خاکی تھے، مختصر یہ کہ موت جسم کو ہے جذبے کو نہیں اور یہ بھی میرے رب ہی کا فیصلہ ہے کیونکہ میرا رب ہی فنا اور بقاء کا مالک ہے۔ اس لئے اگر فنا کے بعد بقاء چاہتے ہو تو اپنے جذبوں کو تاریخ کا حصہ بنا دو۔
تازہ ترین