آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
قائداعظم ماورائے حدود عالمی آئیکون ہیں۔ علامہ اقبال آفاقی شاعر اور فلسفی جبکہ بھگت سنگھ دھرتی ماں پر جوانی نچھاور کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔ اگر کوئی چاہے بھی کہ ان کے خلاف لکھ کر ان تینوں ممتاز انسانوں کی علیحدہ علیحدہ اور اپنی اپنی جگہ منفرد حیثیتوں کو کم کیا جا سکتا ہے تو ہم سب اطمینان رکھیں تاریخ ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گی۔ نہ ہی ایسی شخصیات کی مدح سرائی سے ان کے قد کاٹھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ برصغیر میں فرنگی قابضوں کی غلامی کرنے والوں کے لئے ایسے کرداروں کا انتخاب قدرت نے خود کیا تھا۔ سیاسی منیجر آتے جاتے رہتے ہیں۔ رہنما، مفکر اور جاں نثار خوش قسمت زمینوں میں جنم لیتے ہیں۔ ارضِ پاکستان وہ خوش قسمت سرزمین ہے جس نے قائداعظم، اقبال اور بھگت سنگھ کو جنم دیا۔
آج کل بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظمؒ، ان کے چاہنے والے شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال اور برِصغیر کی آزادی کی جدوجہد کے نوجوان ترین اور کئی حوالوں سے اہم ترین کردار بھگت سنگھ کو مدِنظر رکھ کر مباحثہ چل رہا ہے۔ میں اس طرح کے مکالموں کا حامی ہوں اور وہ اس لئے کہ ایسی تحریروں کی وجہ سے تاریخ کا دھارا بدل دینے کی صلاحیت رکھنے والی شخصیات کے بارے میں نئے پہلو دریافت ہوتے ہیں۔ موجودہ بحث اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ تینوں کردار اپنی اپنی اہلیت،

سوچ اور قربانی کے تناظر میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
قائدِاعظم محمد علی جناح نے دُنیا کی تاریخ میں ایک ایسا معجزہ برپا کیا جس کی دوسری کوئی مثال موجود نہیں۔ ان کی سیاست پر لاکھوں سے زیادہ کتابیں، مقالے اور تاریخی حوالے جنم لے چکے ہیں۔ اقبال دُنیا کے لئے فکر و دانش کی یونیورسٹی بن چکے۔ بھگت سنگھ مزاحمت کا ایسا استعارہ جس کے عدالتی قتل کے باوجود وہ آزادی کے متوالوں کے لئے سنگِ میل ہے۔اس کے مقدمے کا تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ اُس نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر نہ دھماکہ کیا نہ بم سازی کی اور نہ ہی اس طرح کا جانباز سازشی ہو سکتا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ قائدِاعظم، اقبال اور بھگت سنگھ چاہتے کیا تھے...؟ بھگت سنگھ قوم پرست سیاسی ورکر تھا۔ جڑانوالہ (لائل پور) کا رہنے والا خود ایک عام آدمی اور ظاہر ہے عام آدمی کا بیٹا بھی۔ علامہ اقبال سیالکوٹ کے متوسط سے گھرانے میں پیدا ہوئے، خود عام آدمی اور سیلف میڈ۔ مگر ان کی جہد مسلسل نے انہیں خاص آدمیوں پر صدیوں تک بھاری بھر کم بنا دیا۔ حضرت قائدِاعظم جاگیر داروں، سرمایہ داروں اور چور بازاروں کے پیسے سے نہیں بلکہ برِصغیر کے عام آدمی کی قربانیوں سے جنم لینے والی عوامی تحریک کے لیڈر بنے۔ خاص لیڈر، خاص مولوی، خاص جماعتیں اور خاص طبقات قائدِاعظم کی سیاست کے مخالف تھے۔ ٹوڈی لیڈروں، سرکاری مولویوں، خصوصی جماعتوں اور خصوصی طبقات کی سیاست قیامِ پاکستان سے پہلے بھی ان کے گروہی، طبقاتی اور ذاتی مفادات کے گرد گھومتی تھی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج بھی ایسا ہی ہے۔ قائدِاعظم، اقبال اور بھگت سنگھ ایسے مفادات کے قیدی نہیں بنے۔ بھگت سنگھ اور اس کی جدوجہدِ حریت پر سب سے زیادہ تنقید موہن داس کرم چند گاندھی اور اس کے ہندو مسلم حواریوں نے کی۔ ایسے ہی پیٹ کے بندے بھگت سنگھ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے۔ اُس کے عدالتی قتل میں بطور پروسیکیوٹر اور مجسٹریٹ اعانتِ جرم کی انمٹ سیاہی اور مستقل کالک اپنے چہروں پر ملی۔
اقبال خود آگاہ تھے خود پرست نہیں۔ برِصغیر کی تحریکِ آزادی کی قیادت کا مرحلہ آیا تو وہ قائدِاعظم کے پیچھے لپکے۔ اقبال اپنے بارے میں کہتے ہیں:۔
ہے عجب مجموعہِ اضداد اے اقبال تُو
رونقِ ہنگامہ ٔمحفل بھی ہے تنہا بھی ہے
قائدِاعظم محمد علی جناح کی پہلی پہچان ایک ڈسپلن شدہ بچے کی ہے۔ پھر ایک بے داغ جوانی، ایک انتہائی زیرک اور اس سے بھی زیادہ جرأت مند وکیل۔ ایسا وکیل جسے جج نے جب کہا مسٹر جناح آپ کسی تھرڈ کلاس مجسٹریٹ سے مخاطب نہیں ہیں۔ قائدِاعظم نے نیاز مندی کے بجائے خودی کی لہر میں ڈوبا ہوا جواب دیا مسٹر مجسٹریٹ آپ بھی کسی تھرڈ کلاس وکیل سے مخاطب نہیں۔اقبال کو آفاقی طور پر قبولیت کی سند کیوں ملی...؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے اقبال جس قدر مسلم نوجوانوں کے بارے میں فکر مند تھے اور اسلامی اُمت کا احیاء چاہتے تھے، اسی قدر انہیں ہندوستان کے پِسے ہوئے شودر ہندوئوں کے حقوق کا بھی خیال تھا۔ اقبال بین المذاہب احترام کے کس قدر حامی تھے بانگِ درا کے دو شعر اس کا ثبوت ہیں۔ جہاں دو مذاہب سکھ اور ہندو کا غم اقبال کا مخاطب ہے
قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی
قدر پہچانی نہ اپنے گوہرِ یک دانہ کی
آہ ! شودر کے لئے ہندوستاں غم خانہ ہے
دردِ انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
جس طرح حضرتِ قائدِ اعظم ’’خواص‘‘ کی سیاست سے بغاوت کرنے والے پہلے ایشیائی مسلم رہنما ہیں۔ اسی طرح اقبال پاپائیت کے خلاف تھے۔ بالِ جبریل میں یہ صدائے حق بُلند کی:۔
یہ میدانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوری!
صلہ ان کی کدو کاوش کا ہے سینوں کی بے نوری
دُنیا آج جس گلوبل گائوں کی اسیر ہے۔ اقبال نے اُسے پچھلی صدی کے آغاز میں دریافت کر لیا تھا۔ نہ صرف دریافت کیا بلکہ اُس کا پوسٹ مارٹم بھی کر ڈالا۔ وہ بھی ان لفظوں میں:۔
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا، وہاں بے ذوق ہے صہبا
نہ ایراں میں رہے باقی ،نہ تُوراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصر و کسریٰ
یہی شیخِ حرم ہے جو چُر ا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بوذر ؓ و دَلق ِ اویسؓ و چادرِ زہرا ؓ!
حضورِ حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی
یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا
یہ طے شدہ تاریخی حقیقت ہے کہ سکہ رائج الوقت والی ایشیائی سیاست سے بیزار ہونے کے بعد وہ حضرتِ اقبال ہی تھے جنہوں نے ایشیاء کے مسلمانوں کو گُم کردہ راہی سے بچایا ۔ حضرتِ قائدِ اعظم کو تحریکِ آزادی کی قیادت پر دوبارہ آمادہ کیا۔ اس لئے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ قائدِ اعظم کی سیاست اقبال والی تھی۔ اقبال اللہ کے بندوں پر بندوں کی خدائی خوب پہچانتے تھے۔ ارمغانِ حجاز میں کہتے ہیں:۔
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام
قائدِ اعظم کی سیاست اور اقبال کی فکر کو سمجھنے کے لئے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا پھر بیرسٹر اقبال کے دلائل پیشِ خدمت ہیں
میں بھی حاضر تھا وہاں، ضبطِ سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضرتِ مُلّا کو مِلا حکمِ بہشت
عرض کی میں نے، الٰہی! میری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اُسے حور و شراب و لبِ کشت
نہیں فردوس مقام جدل و قال و اقول
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت
ہے بد آموزی اقوام و ملل کام اس کا
اور جنت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کُنِشت!
حضرت قائدِ اعظم کی سیاست، فکر اقبال اور بھگت سنگھ کی بغاوت کی جو مرضی کوئی تشریح کرے۔ کبھی اُس نظامِ سلطنت پر بھی تو بولے جس میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ مہربانوں سے حکمرانوں تک پہنچتا ہے۔ ڈیڑھ ارب ڈالر کے بدلے صرف دو بریگیڈ سپاہ سے زیادہ کچھ نہیں مانگا جاتا۔ strategic deploymentرکھنے والے شاہی خزانے کی وزارتِ خزانہ بجٹ سے پہلے قہر اور مجبوری کے مارے ہوئے سرکاری ملازموں کو بتاتی ہے تمہاری تنخواہ نہیں بڑھ سکتی۔ بزرگ پنشنر شہریوں کو جھٹکا دیتی ہے مملکتِ خداداد کے پاس تمہارے لئے چند ٹکے بھی نہیں۔ اگر آج قائدِ اعظم، اقبال اور بھگت سنگھ ہوتے تو ان کی سیاست کیسی ہوتی...؟ اسٹیٹس کو کے نظام سے مفاداتی مفاہمت یا طبقاتی بغاوت...؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں