سینیٹ میں سمندرپار پاکستانیوں کی پراپرٹی کیلئے خصوصی عدالت کے قیام کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔
سینیٹ اجلاس میں بل وزیر سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے پیش کیا، بل کے مطابق وفاقی حکومت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مشاورت سےخصوصی عدالتیں بنائے گی، خصوصی عدالتوں میں سمندر پار پاکستانی غیر منقولہ جائیداد سے متعلق درخواستیں دائر کر سکیں گے، خصوصی عدالتوں کے جج کے پاس ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج کے اختیارات ہوں گے۔
جائیداد پر قبضے، ملکیت، پراپرٹی کی قیمت وغیرہ سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوں گی، الیکٹرانک طریقے سے بھی درخواستیں فائل کی جا سکیں گی، جوابدہ دوسری بار بھی نہیں آتا تو عدالت جوابدہ کی عدم موجودگی میں کارروائی کرے گی، عدالت فریق کو شواہد دینے کے 2 سے زائد مواقع نہیں دے گی، سمندر پار پاکستانی کو ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کی اجازت ہو گی۔
بل کے مطابق عدالت درخواست 90 روز کے اندر نمٹائے گی، متاثرہ شخص 15 روز کے اندر ہائیکورٹ میں اپیل کر سکے گا جو 90 روز میں اپیل نمٹائے گی، عدالت جوابدہ کو پراپرٹی ٹرانسفر کرنے سے روکے گی، درخواست پر فیصلے تک پراپرٹی ٹرانسفر کی ممانعت ہو گی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قراردادیں منظور کرلی گئیں۔
سینیٹ میں شیری رحمان کی پیش کی گئی قرار داد کی تحریک انصاف نے مخالفت کی۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان جس عالمی تنہائی کا شکار ہوگیا تھا وہ ختم ہوا، پاکستان کی پذیرائی ہوئی، پاکستان اب کاروبار کے لیے کھل گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے علی ظفر بولے لوگوں کو کھانا کھلا کر سمجھا گیا عوام میں بھوک ختم ہو جائے گی۔
قومی اسمبلی میں قرارداد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پیش کی، قرار داد میں کہا گیا ایوان ایس سی او کے کامیاب انعقاد پر صدر مملکت، وزیراعظم کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کی میزبانی پاکستان کیلئے اہم سنگ میل ہے، ایس سی او سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد سے علاقائی تجارت، امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔