• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جہاں ملک اور معاشرہ ہر طرف سے سرخ سوالیہ نشانوں میں گھرا ہوا ہووہاں صرف لاہور کی فروٹ اور سبزی منڈی کی امکانی منتقلی اور تباہی یقیناً کوئی ایسا ایشو نہیں جس پر وقت اور انرجی ضائع کی جائے لیکن جب اتنے لوگ چیخ و پکار کیلئے جمع ہوں، مسئلہ اربوں کے کاروبار کی تباہی، لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ہو تو اس چیخ و پکار میں حصہ ڈالنا فرض ہو جاتا ہے خصوصاً ان حالات میں جب کوٹ لکھپت منڈی کو کانا کاچھا منتقل کرنے کا بھیانک تجربہ بھی سامنے ہو۔ تقریباً 4 سال پہلے یہ تجربہ کیا گیا تھا جس نے تباہی مچا دی۔ یہ منڈی بہت دور ہونے کے علاوہ وہاں اب تک آڑھتیوں کی دکانیں بننا تو کیا پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا عمل بھی شروع نہیں ہوسکا جس کے نتیجہ میں کوٹ لکھپت منڈی مرحومہ والوں کا 80 فیصد کاروبار تباہ ہو چکا ہے اور اب اگلا نشانہ 45 سالہ پرانی راوی روڈ کی فروٹ و سبزی منڈی ہے جو تقریباً سولہ لاکھ افراد (بالواسطہ و بلاواسطہ) کی کفالت کررہی ہے۔
المیہ یہ نہیں کہ حکومت کیا کرنا چاہتی ہے، اصل المیہ یہ ہے کہ متکبر حکومت سٹیک ہولڈرز سے بات کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے پر بھی تیار نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ہوش اور ہمدردی کے ساتھ اہل منڈی کی معروضات پر غور کرے مثلاً یہ کہ موجودہ دونوں منڈیاں راوی کنارے ہونے کے سبب ہر شہری اور دکاندار کی پہنچ میں ہیں جنہیں بارڈر کی طرف منتقل کردینے کی صورت میں آمدورفت کے اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی مزید بڑھ جائے گی اور پورے شہر کی آبادی متاثر ہوگی۔ منڈیوں کے قرب و جوار میں ہی آڑھتیوں اور پھڑیوں کی رہائش گاہیں بھی ہیں، منڈیاں اتنی دور شفٹ ہو جانے سے ان کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اگر مسئلہ ٹریفک کے دبائو کا ہے تو اگر ان منڈیوں کے سامنے ریلوے لائن کے ساتھ تجاوزات کو ختم کر کے اوورہیڈ پل بنا دیا جائے تو ٹریفک کا 90 فیصد مسئلہ جل ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر دونوں منڈیوں کے ساتھ موجود ٹرک سٹینڈز کو ختم کر کے یہ زمین منڈیوں کو الاٹ کردی جائے تو بھی اپ گریڈیشن ممکن ہے کیونکہ ٹرک اڈوں کو شہر سے نکالنے کا کام پہلے ہی ہو چکا ہے لیکن اگر ان سب باتوں کے باوجود حکومت ضد پر اڑنے کو ہی ترجیح دے تو پھر اہل منڈی کی اس منطقی تجویز پر بھی غور کرلے کہ اگر منڈی کو لکھوڈیر کے دریائی علاقہ میں لیجانا ہے تو دھیان میں رہے کہ یہ زمین سڑک سے 8 تا 15 فٹ نیچے ہے جہاں بارش کی صورت میں سیوریج اور منڈی دونوں کا ستیاناس ہو گا یعنی اگر منتقلی ضروری ہی ہے تو ملتان روڈیا جی ٹی روڈ کالا شاہ کاکو کی طرف لیجانا بہتر ہوگا کیونکہ 90 فیصد مال اسی طرف سے آتا ہے ۔دونوں منڈیوں کیلئے کم از 25 سو کنال زمین درکار ہوگی کیونکہ ان کے اندر بینک، ڈاک خانہ، کولڈ سٹوریج، ریستوران، آڑھتیوں کے رہائشی پلاٹ اورپھڑیوں کے لئے اڈے بھی لازمی و ضروری ہوں گے۔ یہ حقیقت بھی مدنظر رہے کہ تقریباً 100 سال سے برصغیر میں یہ روایت رہی ہےکہ فروٹ و سبزی منڈیویں کے سامنے ریلوے لائن ضرور ہوتی ہے کیونکہ مال گاڑیوں کے ذریعہ فروٹ و سبزی کم خرچ پر منتقل کئے جاسکتے ہیں۔ حکومت کو اس کنفیوژن پر بھی سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہئے کہ دونوں منڈیوں میں آڑھتیوں کی بیش قیمت پراپرٹیز کا مستقبل کیا ہوگا؟
’’چھوٹے میاں‘‘ کے منڈی مسئلہ پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کے بعد بڑے میاں صاحب کے اس بادشاہانہ بیان کی طرف چلتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل ’’عارضی‘‘ ہیں اور جلد ختم ہو جائیں گے۔ یہ بیان وزیراعظم کی بے خبری و بے نیازی کا بہترین امتزاج ہے جس کی طرف میں نے گزشتہ اتوار ’’میرے مطابق‘‘ میں بات چھیڑی لیکن وقت کی کمی کے سبب بہت تشنگی باقی ہے۔ اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ میاں نواز پاکستان کے مسائل کی الف بے سے بھی واقف نہیں۔ پاکستان کو چمٹے ہوئے امراض و عوارض بہت قدیم، پیچیدہ اور لاعلاج ہو چکے ہیں جن کیلئے کسی پھنے خان کے پاس کوئی شارٹ کٹ نہیں اور کوئی بہت بڑے وژن والی، بیحد بااختیار اور طاقت و قیادت ہی کچھ کرسکتی ہے اور میں اسی لیے تسلسل سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے موجودہ موروثی مافیاز ٹائپ سیاستدان پاکستان کو ٹریک پر واپس لا ہی نہیں سکتے۔ میاں صاحب ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ کیا مندرجہ ذیل مسائل ’’عارضی‘‘ ہیں اور واقعی ’’عنقریب‘‘ حل کئے جاسکتے ہیں۔ ان چند نکات میں عقل مندوں کیلئے بہت اشارے ہیں لیکن اندھوں کا کوئی علاج نہیں۔ دیانتداری سے غور فرمایئے، کیا یہ سب کچھ ’’عارضی ‘‘ ہے؟
پاکستان کی شرح خواندگی شرمناک ہے۔ کیا اسے سو فیصد تک لیجانا خالہ جی کا باڑہ ہے؟
صدیوں پر محیط فرقہ واریت کا عفریت کیسے اور کتنی مدت میں قابو آئے گا؟
ذات برادری لسانیت، علاقائیت جیسی دیرینہ بیماریوں کیلئے کون سا زود اثر انجکشن کس کے پاس ہے؟
کیا مادرپدر آزاد بے لگام بڑھتی آبادی کو آپ 50 سال میں بھی کینڈےکے اندر لاسکتے ہیں؟
کاٹن سے لیکر شوگر تک جیسے بیحد مضبوط مافیاز سے کون نمٹنے گا؟
لاکھوں حرام خوروں کو ’’ٹیکس نیٹ‘‘ لانے کیلئے کون سا ٹارزن میدان میں اترے گا؟
اوپر سے نیچے تک پھیلے کینسر یعنی کرپشن کلچر کاعلاج کس کے پاس ہے؟
اقتصادی، سماجی، عدالتی انصاف کس منڈی سے ملے گا؟
یہ تو چند جھلکیاں ہیں حضور! کالم تو جنات کے بس کا بھی نہیں، سیاستدان کس باغ کی مولیاں ہیں؟ کچھ اور نہیں کرسکتے تو کم از کم غلط بیانی سے تو باز رہا جاسکتا ہے لیکن یہ دھوکہ منڈی ہے جس میں سب چلتا رہے گا۔
تازہ ترین