وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ شروع سے آخر تک بشریٰ بی بی کے ساتھ تھے۔
ڈی آئی خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر بشریٰ بی بی نے اکیلے چھوڑے جانے کی بات کسی اور کے بارے میں کی ہے تو یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کہا ہے کہ سول نافرمانی کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا، ابھی مذاکرات ہونے ہیں، ہم مذاکرات ملک کی خاطر کر رہے ہیں۔ اگر حکومت مذاکرات نہیں کرتی تو ہم تو چل ہی رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی پت کی طرح ہم حملے کریں گے، صحافی نے سوال کیا کہ پانی پت کے میدان میں جنگیں ہوئی تھیں، محمود غزنوی نے سومنات کے مندروں پر 17 حملے کئے تھے، اس پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اچھا اگر ایسا ہے تو 5 حملے ہم نے کر لیے ہیں باقی کرتے رہیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بشریٰ بی بی نے چارسدہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 26 نومبر کو انہیں سب ڈی چوک پر تنہا چھوڑ گئے تھے۔