پاکستان مینارٹی ایڈ کے چیئرمین لطیف بھٹی کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست کے پیچیدہ اور نازک ماحول میں جہاں طاقت کا استعمال اکثر مسائل کا فوری مگر غیر پائیدار حل سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ قیادتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو تدبر، حکمت اور بصیرت کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاکستان مینارٹی ایڈ کے چیئرمین نے امن کی پہلی سیڑھی کے لیے پاکستان کی قیادت کے دانشمندانہ کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی میں جو وقفہ پیدا ہوا، اس میں پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار بلاشبہ قابلِ تحسین اور لائقِ ستائش ہے۔
لطیف بھٹی کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک وقتی وقفہ نہیں، بلکہ عالمی امن کی طرف بڑھنے والی ایک اہم پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں جب دنیا ایک ممکنہ بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہو اور وہاں پاکستان کی قیادت کا مصالحتی کردار اس بات کا مظہر ہے کہ امن کے قیام کے لیے صرف طاقت نہیں بلکہ حکمت، تحمل اور سنجیدہ سفارت کاری ناگزیر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبناۓ ہرمز کے راستہ کی بندش اور دنیا میں بڑھتے معاشی بحران نے جنگ کے حالات کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت، انتظامی تجربہ اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی صلاحیت اس موقع پر نمایاں نظر آئی۔
لطیف بھٹی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہی سے خطے میں امن و استحکام اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی بات کی ہے اور یہی وژن اس حالیہ پیش رفت میں جھلکتا نظر آیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بالکل اسی طرح فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری سوچ صرف دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ امن کے قیام میں ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کرنے کی آئینہ دار بنی ہے۔