جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری سمیت 9 ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔
جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت نے راشد حفیظ، منیر، خادم حسین کھوکھر، ذاکر اللّٰہ عظیم اللّٰہ، طاہر صادق، مہر جاوید، چوہدری آصف سمیت 9 ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔
پراسیکیوشن نے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کر رہے ہیں۔
ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب شاہ محمود قریشی پر جی ایچ کیو حملہ کیس میں فردِ جرم عائد نہ ہو سکی۔
شاہ محمود قریشی کی جانب سے 265 ڈی کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کی 265 ڈی کی درخواست آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دی جس کی وجہ سے ان پر آج فردِ جرم عائد نہ ہو سکی۔
واضح رہے کہ سی آر پی سی 265 ڈی کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کا کہا جاتا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے آج جی ایچ کیو حملہ کیس میں ملزمان کو طلب کیا تھا۔
یاد رہے کہ 9 مئی کو جی ایچ کیو پر ہوئے حملے کے کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پہلے ہی فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔