پنجاب اسمبلی میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کا ترمیمی بل آج بھی ایجنڈے پر منظوری کے لیے نہیں آ سکا۔
ذرائع کے مطابق ٹریفک جرمانوں میں کمی کا اطلاق سست روی کا شکار ہے، پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے 1 اپریل کو ٹریفک چالان میں کمی کی ترامیم منظور کی تھیں، محکمۂ داخلہ نے ٹریفک جرمانوں میں کمی کے بارے میں قائمہ کمیٹی کو بریف کر کے منظوری لی تھی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ آج 41 ویں اجلاس کی تیسری نشست میں بھی موٹر وہیکل ترمیمی آرڈیننس منظوری کے لیے ایوان میں نہ لایا جا سکا۔
ترمیمی آرڈینینس کے مطابق موٹر سائیکل کی چند خلاف ورزیوں پر چالان 2 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے ہوں گے جب کہ موٹر سائیکل کا زیادہ سے زیادہ چالان اب 2 ہزار روپے ہو گا۔
ترمیمی آرڈیننس میں لکھا ہے کہ رکشے کی چند خلاف ورزیوں پر چالان 3 سے 1 ہزار روپے اور سنگین خلاف ورزی پر 2 ہزار روپے جرمانہ ہو گا، جب کہ کار اور جیپ کی چند خلاف ورزیوں پر چالان 5 ہزار سے کم کر کے 3 ہزار روپے ہو گا۔
ترمیمی آرڈیننس کے مطابق ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر 5 ہزار جرمانہ برقرار رہے گا، موٹر سائیکل، رکشے اور کار میں اوور اسپیڈنگ کے جرمانوں کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
ترمیمی آرڈیننس میں مزید لکھا ہے کہ 2 ہزار سی سی اور دیگر لگژری وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، 2 ہزار سی سی وہیکلز کا کم سے کم جرمانہ 2 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے ہو گا جب کہ مزدا، کوسٹرز، چھوٹی مسافر وین لائٹ وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار روپے سے کم کر کے 7 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
ترمیمی آرڈیننس کے مطابق ٹرک، بسوں اور دیگر ہیوی وہیکلز کا زیادہ سے زیادہ جرمانہ 20 ہزار روپے سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جرمانوں میں کمی کا اطلاق آرڈینینس کی ایوان سے منظوری کے بعد ہو گا۔