سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب 4 مارچ کو امریکی حملے کا نشانہ بننے والے ایرانی بحریہ کے جہاز پر موجود لیفٹیننٹ کمانڈر عماد ہرمزی کی میت کی شناخت ہوگئی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کے 50 روز بعد ایرانی بحریہ کے شہید لیفٹیننٹ کمانڈر عماد ہرمزی کی میت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کر لی گئی ہے۔
وہ ایران کے جنگی جہاز دینا پر امریکی حملے کے بعد لاپتا قرار دیے گئے تھے، شہید افسر کی میت اب ان کے آبائی شہر روانہ کی جا رہی ہے، جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب بحرِ ہند میں ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز کو امریکی جوہری آبدوز سے داغے گئے MK 48 تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی آبدوز نے بین الاقوامی پانیوں میں خود کو محفوظ سمجھنے والے ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا۔
سری لنکن حکام نے ایرانی جہاز سے موصول ہونے والی ہنگامی کال کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی تھیں، جس میں 32 اہلکاروں کو بچا لیا گیا جبکہ 87 لاشیں نکالی گئی تھیں۔ ایران کے مطابق جہاز پر مجموعی طور پر 130 افراد سوار تھے۔