• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دل آج بھی پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے سابق فاسٹ بولر آصف مسعود

مانچسٹر(عبدالماجدبھٹی،نمائندہ خصوصی) 19 70کی دہا ئی کے خوبرو اور طویل قامت فاسٹ بولر آصف مسعود انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں گمنامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔کرکٹ کی چکا چوند سے دوروہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوشحال زندگی گذار رہے ہیں۔لیکن ان کا دل آج بھی پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے۔یہاں پاکستانی کمیونٹی میں وہ شاہ جی کے نام سے مشہور ہیں لیکن کم  لوگ جانتے ہیں کہ وہ پاکستانی بولنگ اٹیک میں عمران خان،سرفراز نواز،سلیم الطاف اور سکندر بخت جیسے بولرز کے ساتھ پاکستانی پیس اٹیک کے ساتھ نئی گیند شیئر کر چکے ہیں۔کئی سالوں سے وطن سے دور رہنے والے70سالہ آصف مسعود دو دہائی قبل قومی ایئر لائن میں پوسٹنگ کے لئے مانچسٹر آئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔وہ یہاں اپنی بیوی ،دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔وطن سے ہزاروں میل دور آج بھی انہیں وطن کی یاد شدت سے آتی ہے اور کہتے ہیں کہ پاکستان کی کہانیاں سن کر دکھ ہوتا ہے کاش میرا وطن بھی ترقی کی منازل طے کرے۔آصف مسعود نے پاکستان کی جانب سے16ٹیسٹ میچوں میں38وکٹیں لیں اورسات ون ڈے انٹر نیشنل میں پانچ کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 121میچوں میں305وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔آصف مسعود کی بہترین بولنگ1971میں ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف تھی جب انہوں نے161رنز دے کر 9وکٹ حاصل کئے۔اسی ٹیسٹ میں ظہیر عباس نے274رنز بنائے تھے۔آصف مسعود کہتے ہیں کہ عبدالحفیظ کاردار کے دور میں میرے ساتھ جو سیاست ہوئی اس نے مجھے کرکٹ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔میرا چھوٹا بیٹا کرکٹ کھیلنے کا شو ق رکھتا تھا لیکن میں نے اس سے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے لئے گالی گلوچ ضروری ہے اس لئے تم کرکٹر نہیں بن سکتے۔آصف مسعود پر چند سال پہلے فالج کا حملہ ہو اتھا تاہم اب وہ مکمل صحت مند ہیں اور ان کی گفتگو کا انداز اب بھی جارحانہ ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر کہتے ہیں کہ یہاں رہ کر پاکستانی کرکٹ کو فالو کرتا ہوں لیکن کرکٹ کوچنگ وغیرہ سے دور ہوں۔ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر کو ایک بار کہا کہ عمر گل کو سمجھا و کہ وہ بھاگتے ہوئے تکلیف میں دکھائی دیتا ہے۔ماضی کے عظیم کھلاڑی نے مجھے جواب دیا کہ آج کے کرکٹر کو سمجھانا اپنی تضحیک کے مترادف ہے۔اس لئے ان سے دور رہو۔آصف مسعود نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی کہانیاں افسوس ناک ہیں۔کرکٹ تباہی کی جانب جارہی ہے۔ایک زمانے میں مصطفے خان پورے بورڈ کو چلاتے تھے لیکن اب افسران کی فوج ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نواز شریف اور شہباز شریف سے پرانے مراسم ہیں۔وہ اکثر پوچھتے ہیں کہ تمہیں کیا چاہیے میں کہتا ہوں کہ میں یہاں خوش ہوں اور مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔عمران خان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ چھ سال کرکٹ کھیل چکا ہوں مجھے وہ سیاست میں کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ 
تازہ ترین