• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: عدالتی فیصلے کے برعکس ٹرانس ویمن کو خواتین ٹوائلٹس استعمال کرنے کی اجازت دینے کا انکشاف

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

برطانوی محکمہ صحت (این ایچ ایس) ایمبولنس سروس کی طرف سے عدالتی فیصلے کے برعکس ٹرانس ویمن کو خواتین کے بیت الخلاء استعمال کرنے کی اجازت دینے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی سپریم کورٹ کی طرف سے ایک سال قبل واضح فیصلے کے باوجود ایمبولنس سروس خواجہ سراؤں کے عملے کو ایسے بیت الخلاء استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے جو ان کی صنفی شناخت سے مماثل ہوں۔

ساؤتھ ایسٹ کوسٹ ایمبولینس سروس این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملازمین ان سہولیات کو استعمال کرنے کیلئے آزاد ہیں جو انکی حیاتیاتی جنس کے بجائے ان کی صنفی شناخت سے مماثلت رکھتی ہوں۔

ٹرسٹ کی طرف سے جاری کردہ 22 صفحات پر مشتمل پالیسی میں ٹرانس جینڈر ملازمین کو باقاعدہ اجازت دی گئی اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عملے کے جو ساتھی ٹرانس جینڈر ارکان کیساتھ اشتراک نہیں کرنا چاہتے انہیں متبادل سہولیات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

 سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے فیصلے نے واضح کیا کہ یوکے کے مساوات ایکٹ 2010 کے تحت عورت اور مرد کی اصطلاحات کسی شخص کی منتخب کردہ جنس کے بجائے جنس کا حوالہ دیتی ہیں۔

مساوات اور انسانی حقوق کمیشن کے حال ہی میں شائع شدہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تنظیموں کو حیاتیاتی جنس کے مطابق سنگل جنس ٹوائلٹ، چینج روم اور اسی طرح کی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید