• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

6 ماہ سے ایرانی ٹرک بارڈر پر کھڑے ہیں، روزانہ 2 ملین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے، نمائندہ ایرانی سفارتخانہ


 سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاک ایران سرحد پر پھنسے ٹرکوں کے معاملے پر بحث ہوئی ہے، نمائندہ ایرانی سفارتخانہ نے بیان دیا کہ 6 ماہ سے ایرانی ٹرک بارڈر پر کھڑے ہیں۔

 سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کے سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں  پاک ایران بارڈر پر پھنسے 6 سو تجارتی ٹرکوں کے معاملہ پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ یہاں ایک تاجر اتنے دنوں سے بیٹھا ہے جس کے 6 سو ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔

اجلاس میں ایرانی سفارتخانے کے نمائندے بھی موجود تھے، جن سے فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ کیا ایران کے ساتھ معاہدے میں ہمارے ایکسپورٹر بینک گارنٹی دیں گے، جس کا جواب دیتے ہوئے نمائندہ ایرانی سفارتخانے نے کہا کہ ہم کسی بھی پاکستانی ٹرک پر گارنٹی نہیں مانگتے۔

نمائندہ ایرانی سفارتخانہ نے کہا کہ اگر ہم یہ آسان مسئلہ حل نہیں کرتے تو روزانہ 2.2 ملین ڈالر ضائع کر رہے ہیں، روزانہ پاک ایران بارڈر سے 400 تجارتی ٹرک گزرتے ہیں، ہر ایک تجارتی ٹرک میں 11 ہزار ڈالر مالیت کا سامان ہوتا ہے، بارٹر تجارت کو آسان بنانے کیلئے رمدان کراسنگ کو کھولنا ضروری ہے۔

نمائندہ ایرانی سفارتخانہ نے کہا کہ پاک ایران 1987 کے معاہدے کے تحت بینک گارنٹی کی شرط تھی، 2008 کے معاہدے کے تحت بینک گارنٹی کی شرط ختم کی گئی ہے، پاکستان نے ایرانی ٹرکوں پر بینک گارنٹی کی شرط عائد کی،  بینک گارنٹی شرط سے روزانہ 2.2 ملین ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے، 6 ماہ سے ایرانی ٹرک بارڈر پر کھڑے ہیں، آج ایرانی ٹرک 600 سے کم ہوکر 400 ٹرک ہوچکے ہیں، ایرانی ٹرک ڈرائیور ایک ایک ماہ سے بارڈر پر انتظار کر رہے ہیں، پاک ایران دو طرفہ معاہدے کی بنیادی شرط آزادانہ نقل و حرکت ہے، پاکستان گوادر پورٹ کو ڈویلپ کرے۔

سینیٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ایرانی سفارتکاروں کی بریفنگ ہماری آنکھیں کھولنے کےلیے کافی ہے، یہ ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کسی کو اس ملک سے محبت نہیں ہے، یہاں ہر کوئی اپنے ذاتی مفاد کے لیے کام کر رہا ہے، یہ معاملہ وزیراعظم کو بھیجا جائے، وفاقی کابینہ میں اس معاملے پر بحث کی جائے۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ آنکھیں کھولنے کے مترادف ہے کہ ہم 2.2 ملین ڈالر ضائع کر رہے ہیں، آج ایران والے تجارت بڑھانے کیلئے ہمیں راستہ بتا رہے ہیں ہم سوئے ہوئے ہیں، ٹرک میں بیٹھے ڈرائیور کہاں سے بینک گارنٹی لے کر آئیں گے، یہ کیا تماشا ہے، مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے ہم روزانہ ملین ڈالر کھو رہے ہیں، ایرانی سفارتکاروں نے آج سب کچھ کھول کر رکھ دیا ہے، انتہائی شرمناک ہے باہر کے لوگ بتا رہے ہیں اپنا گھر کس طرح ٹھیک کرنا ہے، یہ کمیٹی کا ڈرامہ بند کیا جائے، جن قابل لوگوں نے یہ پالیسی بنائی ہے انہیں طلب کیا جائے، وزراء کی کرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ ہماری بیوروکریسی سہولت کیلئے نہیں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے۔

اجلاس میں موجود ایف بی آر حکام نے کہا کہ بارٹر ٹریڈ میں بینک گارنٹی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، جس پر انوشہ رحمان نے کہا کہ کسٹم والوں نے اپنی ہی ایک دکان کھولی ہوئی ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید