ملک بھر میں چینی کی گراں فروشی کے خلاف بھرپور کریک ڈائون کے نتیجے میں ایک جانب چینی کے نرخوں میں نمایاں کمی ہوئی، دوسری طرف نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن سے بات چیت کے نتیجے میں ایک ماہ کیلئے چینی کی ایکس ملز اور خوردہ قیمتیں بالترتیب 154تا159روپے اور 164روپے فی کلو متعین ہوئی ہیں۔ بدھ کے روز اسلام آباد میں چینی کی قیمتوں کے جائزے سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کے بعد اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چینی کی 178، 180روپے فی کلو کی فروخت، وزیر اعظم اور حکومت کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ ان کے بموجب274سستے بازاروں میں 130روپے فی کلو کے سبسڈائزڈ نرخوں پر چینی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں چینی کی کوئی قلت ہے نہ ہو گی۔ ملز مالکان کرشنگ سیزن بروقت شروع کریں گے۔ کرشنگ سیزن شروع کرنے کی تاریخ یکم نومبر ہے جس کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔ درپیش صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف حکومت جائزوں، تجزیوں، ہر طرح کے ممکنہ اخراجات ، منافع، 18 فیصد سیلز ٹیکس سمیت پورے حساب کتاب کے ساتھ چینی کے نرخوں میں کمی کی کاوشیں کر رہی ہے دوسری طرف شوگر ملز مالکان کے اپنے دلائل ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ایک سمجھوتے کی صورت میں عام لوگوں کیلئے ہر روز نئی بڑھی ہوئی قیمت کا سامنا کرنے کا امکان کم ہو گیا۔ منگل کے روز شوگر ملز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں چینی کی مذکورہ قیمتوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ادھر وزیر اعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں تین وفاقی اداروں کی مشترکہ ٹیموں کے شوگر مافیا کے خلاف بھر پور کریک ڈائون کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ ان کارروائیوں میں شامل حساس ادارے کے ذمہ دارذریعے کے مطابق ایف آئی اے، ایف بی آر اور انٹیلی جنس بیورو نے تین روز قبل مشترکہ کریک ڈائون شروع کیا، اس سلسلےمیں کوئی باقاعدہ گرفتاری عمل میں نہ آنے کے باوجود چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ہی شوگر مافیا نےگھٹنے ٹیک دیئے۔ اور فوری طور پر چینی کے قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ شوگر ڈیلرز کی طرف سے شوگر ملز کے ڈلیوری آرڈرز پر سٹہ کھیلے جانے کی وجہ سے چینی مہنگی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق چینی کے ہول سیل بیوپاریوں نے فروری میں شوگر ملز سے ایڈوانس میں ڈلیوری آرڈر حاصل کر لئے تھے ۔ چینی کے ذخائر شوگر ملوں میں رہے جبکہ ایجنٹوں نے ان ڈلیوری آرڈرز کو کئی کئی ایجنٹوں تک فروخت کیا۔ کسی نے فی کلو گرام 5روپے منافع کمایا تو کسی نے دو تین روپے فی کلو رکھے۔ ہر ایجنٹ نے اپنا منافع رکھ کر ڈلیوری آرڈز آگے فروخت کئے جس کی بناء پر چینی مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی مہنگی ہو چکی تھی۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ کارروائیوں پر ڈیلرز نے چینی کی قیمت میں کمی کے ڈیکلریشن جمع کرائے تو چینی نرخ معمول پر آنا شروع ہوئے۔ اس تفصیل اور دوسرے انکشافات سے ظاہر ہے کہ شوگر ایجنٹس نے بھر پور فائدہ اٹھایا اورکروڑوں کے دھندے کئے۔ درپیش صورتحال متقاضی ہے کہ گنے کی پیداوار میں اضافہ یقینی بنانے کی ترغیبات اور سہولتوں سے لے کر چینی کے مارکیٹ میں آنے تک کے مراحل میں قیمتیں کنٹرول کرنے اورسٹہ جیسے رجحانات کی روک تھام کیلئے نگرانی کا ایسا طریق کار وضع کیا جائے جس میں مہنگائی بڑھانے کے مصنوعی طریقوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ چینی ، گندم، چاول اور دیگر اجناس کی برآمدات سے پہلے یہ بات یقینی بنائی جائے کہ برآمدہ شدہ جنس دوبارہ مہنگے داموں امپورٹ کرنے کی مجبوری درپیش نہ ہواور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔