وطن عزیز بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی ابھرتی ہوئی نئی لہر نے امن و امان اور ملکی سلامتی سے متعلق فکر مندی پیدا کر دی ہےاور یہ احساس شدت اختیار کر گیا ہے کہ قوم کو اس سفاک عفریت کے مقابل متحد ہو کر حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔حکومتی اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے ان کیمرہ اجلاس کے بعد صدر مملکت آصف زرداری نے کوئٹہ میں بلوچستان کی پارلیمانی پارٹیوں کے اراکین سے ملاقاتیں کیں اور امن و امان کی صورت حال پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ ریاست نے رہنا ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔دہشت گردعناصر کو ہر قیمت پر شکست دیں گے۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی ونگ کو جدید اسلحہ فراہم کیا جائے گا۔یہ بات درست ہے کہ دہشت گردوں کی قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش ہمارے ازلی دشمن کی تقویت کا باعث بن رہی ہے۔یہ قومی مسئلہ ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی تعصبات اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں۔پاکستان ہے تو ہم سب ہیں،ہماری سیاست ہے۔اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے خصوصی شرکت کی۔پارلیمانی لیڈرز نے صوبے کو درپیش مسائل اور بلوچ عوام کی محرومیوں سے متعلق شکایات کیں جن کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بلوچستان دل کے قریب ہے۔صوبے کی ترقی اور پائیدار امن کیساتھ صوبے کے ہر بچے کو سکول میں دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے عید کے بعد بلوچستان میں کیمپ لگانے کا بھی وعدہ کیا۔بد قسمتی سے سب سے زیادہ ناخواندگی بلوچستان میں ہے اور آبادی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات سے محروم ہے جس کا فائدہ کالعدم تنظیمیں اور غیر ملکی دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔