• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جس زمانے میں پنجاب اسمبلی اس حوالے سے مشہور تھی کہ وہاں مرحومہ بشریٰ رحمٰن اور اسلم گورداسپوری ایک دوسرے کو اشعار میں جواب دیتے تھے، اسی دور میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں حافظ حسین احمد کے چرچے تھے، حافظ حسین احمد کی شگفتہ بیانی اور حاضر جوابی کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ وہ 1988ء میں جہانگیر بدر سمیت پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے جیالوں کو خاموش کروا دیتے تھے، بینظیر بھٹو کا اقتدار ختم ہوا تو نواز شریف کی وزارت عظمیٰ شروع ہوئی، حافظ حسین احمد کی شگفتہ بیانی اور جملے بازی اس دور میں بھی نمایاں رہی پھر وہ عہد مشرفانہ میں 2002ء کی قومی اسمبلی میں ایم ایم اے کے اہم رہنما کے طور پر سامنے آئے، وہ اتنے نمایاں ہوئے کہ جے یو آئی کی قیادت کو پریشانی ہوئی، اسی پریشانی میں انہوں نے بلوچستان سے جے یو آئی کے ایک اور رہنما عبد الغفور حیدری کو آگے کیا اور حافظ حسین احمد کو پیچھے دھکیل دیا، ایسا پیچھے دھکیلا کہ تسلسل میں کمی نہ آ سکی، جے یو آئی کی قیادت انہیں مسلسل پیچھے دھکیلتی رہی، اس دوران پیپلز پارٹی سمیت کئی اور جماعتوں سے آفرز آئیں مگر حافظ صاحب نے کوئی پیشکش قبول نہ کی۔

14 اگست 1951ء کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے حافظ حسین احمد 19مارچ 2025ء کو یہ جہان چھوڑ کر اگلے جہان جا بسے ہیں، ان کی وفات 18 رمضان کو ہوئی ہے۔ اس دارفانی سے ہر کسی کو جانا ہے، ہر کوئی زندگی کی صورت میں موت کی بانہوں میں جھولتا ہے اور پھر ایک دن موت، زندگی کو جکڑ کر ہست سے بود کر دیتی ہے۔ حافظ حسین احمد سیاستدانوں، طالب علموں اور صحافیوں میں یکساں مقبول تھے، ان کی صحافیوں سے بھی قریبی دوستیاں تھیں، وہ کئی مرتبہ حامد میر کا ذکر کرتے اور پھر کہتے " مجھے سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ آپ کے ساتھ" ایک دن جیو کے ساتھ" کرنا ہے تو میں کہتا ہوں کہ ایک رات جیو کے ساتھ کرو"۔ حافظ حسین احمد سے میرے ذاتی مراسم تھے بلکہ ہمارے خاندانوں کا آپس میں میل جول تھا، میرا پہلا نکاح انہی نے پڑھایا تھا۔

کئی واقعات ہیں، کیا کیا بیان کروں؟ جب ایم ایم اے کی قیادت زیر عتاب تھی تو حافظ حسین احمد کا قیام میرے پاس تھا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن گلشنِ جناح کے ایک اپارٹمنٹ میں مقیم تھے۔ ایک روز صبح ناشتے کے وقت حافظ حسین احمد کو جنرل احتشام ضمیر کا فون آیا، جب کافی بحث ہو چکی تو دوسری طرف سے کہا گیا کہ " آپ ابن زیاد کو مل لیں"۔ ادھر سے حافظ صاحب نے کہا کہ " ٹھیک ہے میں ابن زیاد سے مل لیتا ہوں"۔ فون ختم ہوا تو میں نے حافظ صاحب سے پوچھا، یہ ابن زیاد کون ہے ؟ یہ تو ماضی کا ایک کردار تھا۔ وہ مسکرائے اور پھر کہنے لگے " آج کل طارق عزیز کا نام ابن زیاد ہے، ہمیں ابھی طارق عزیز کے گھر جانا ہے"۔ واضح رہے کہ طارق عزیز، پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری تھے۔ بس پھر کچھ دیر بعد ہم دونوں طارق عزیز کے گھر چلے گئے، یہ وہی دور تھا جب ایم ایم اے کے لوگ جگہ جگہ احتجاج کرتے تھے، پولیس لیڈروں کو ڈھونڈتی تھی، حافظ حسین احمد کئی مرتبہ حلیہ بدل کر میرے چھوٹے بھائی عمار برلاس کے ساتھ موٹر سائیکل پر جاتے، جلسے میں جا کر پگڑی پہنتے، خطاب کرتے اور تقریر کے فوراً بعد حلیہ بدل کر اسی موٹر سائیکل پر فرار ہو جاتے پھر یہ احتجاج قومی اسمبلی کے اندر آ گیا، ایم ایم اے کے لوگوں نے "ایل ایف او نا منظور" کی پٹیاں باندھ کر اجلاسوں میں شریک ہونا شروع کیا۔ ایک دن قومی اسمبلی ہال سے نکل کر جونہی ہم لفٹ کے قریب آئے تو حافظ طاہر خلیل سمیت چند صحافی حافظ حسین احمد کے گرد جمع ہو گئے، اس دوران حکومتی رکن کشمالہ طارق آئیں، انہوں نے پٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ " آپ نا ہٹا دیں"۔ حافظ صاحب کی حس مزاح جاگی، کہنے لگے "آپ ہاں کر دیں، ہم ناٹا دیتے ہیں"۔

حافظ حسین احمد کا نام ان کے والد نے اپنے استاد مولانا حسین احمد مدنی کے نام پر رکھا تھا۔ حافظ حسین احمد کو مدینہ منورہ سے محبت تھی۔ پاکستان کے کسی خاص شہر سے نہیں بلکہ پورے پاکستان سے محبت تھی۔ انہیں پرندوں میں شاہین پسند تھا۔ شاعروں میں اکبر الہ آبادی۔ مفتی محمود سے متاثر حافظ حسین احمد اکثر کہا کرتے تھے، "میں آئینہ دیکھتا کم ہوں دکھاتا زیادہ ہوں"۔ حافظ صاحب کی زندگی میں خوش گوار لمحہ خانہ کعبہ پر پہلی نظر اور سوگوار لمحہ والد کے جنازے کو کندھا دینا تھا۔ 8 زبانوں کے ماہر حافظ حسین احمد کے نزدیک شہرت، آزادی کو سلب کر دینے کا نام ہے۔

دل تھا کہ بہت کچھ لکھوں مگر ایک کالم میں اتنا کچھ کہاں لکھا جا سکتا ہے؟ حافظ حسین احمد ایسے موسموں میں جدا ہوئے ہیں کہ بلوچستان کو دہشت گردی کی آگ نے لپیٹ رکھا ہے۔ مجھ سمیت بہت سے دوستوں کے دلوں میں یادوں کے سمندر ہوں گے مگر قصہ مختصر یہ ہے کہ حافظ حسین احمد ہماری سیاست کا ایک یادگار کردار تھے، ان کے ماتھے پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں تھا۔ حافظ حسین احمد کے چاہنے والے بے شمار ہیں اور ہر چاہنے والے کے ذہن میں محسن نقوی کا یہ شعر گردش کر رہا ہو گا کہ

اسے گنوا کے میں زندہ ہوں اس طرح محسن

کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے

تازہ ترین