کیا کسی کو پاکستان کی پہلی عید یاد ہے؟قیام پاکستان کا باقاعدہ اعلان 14اگست 1947ء کی درمیانی شب کیاگیا تھا۔ یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔پہلا یوم آزادی 27رمضان (15اگست) کو منایاگیا۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس سے قیام پاکستان کا انگریزی میں اعلان ظہور آذر نے اور اردو میں مصطفیٰ علی ہمدانی نے کیا تھا۔27رمضان کو جمعۃ الوداع کا دن تھا۔ اسی دن پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کی حلف برداری بھی ہوئی تھی۔ قائد اعظم سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرمیاں عبدالرشید نے حلف لیا تھا۔ قائد اعظم نے برطانوی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ حلف نامہ پڑھنے سے انکار کردیا اور حلف کی عبارت تبدیل کردی۔ اس حلف کے آخری الفاظ یہ تھے ’’میں پاکستان کے بننے والے آئین کا وفادار رہوں گا‘‘۔ پھر گورنر جنرل نے نئی کابینہ سے حلف لیا اور اسٹیج سے نیچے آ کر پاکستان کا پرچم لہرایا۔ 18اگست کو عید الفطر آگئی۔ اس دن قائد اعظم نے قوم کے نام پہلا پیغام عید جاری کیا۔ اس پیغام میں کہا گیا ’’اس میں شک نہیں کہ ہم نے پاکستان حاصل کرلیا لیکن یہ تو محض آغاز ہے۔ اب بڑی بڑی ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر آن پڑی ہیں۔ یہ ذمہ داریاں جتنی عظیم ہیں اتنی ہی عظیم جدوجہد کا جذبہ، اتنا ہی عظیم ارادہ ہم میں پیدا ہونا چاہیے۔ پاکستان حاصل کرنے کیلئے جو قربانیاں دی گئیں پاکستان کی تعمیرکیلئے بھی کم از کم اتنی ہی قربانیوں اور کوشش کی ضرورت پیش آئے گی‘‘۔یہ تو قائد اعظم کا پیغام تھا لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ تھا کہ بانی پاکستان نے بطور سربراہ مملکت اپنی پہلی عید کیسے منائی ؟ یہ تفصیلات جنرل محمد اکبر خان کی کتاب ’’میری آخری منزل‘‘ میں ملتی ہیں۔ اکبر خان فوج کے سب سے سینئر مسلمان فوجی افسر تھے۔ قائد اعظم نے انہیں بتایا کہ میں عید گاہ میں عام لوگوں کے ساتھ نمازِ عید ادا کروں گا۔ قائد اعظم اس موقع پر کوئی انتظام نہیں چاہتے تھے، نہ ہی انہوں نے اگلی صفوں میں اپنےلئے جگہ مخصوص کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نےصرف اتنا کہا کہ میرے لئے لاؤڈ سپیکر کا بندوبست کر دینا کیونکہ میں قوم کو عید مبارک کہنا چاہتا ہوں۔ قائد اعظم عید کی نماز سے چند منٹ قبل عید گاہ پہنچے۔ جنرل اکبر خان نے امام مسجد سے کہہ کر لاؤڈسپیکر کا انتظام کرا دیا تھا۔ جب مائیکرو فون کو ٹیسٹ کیا جا رہا تھا تو تین مولوی صاحبان نے اسے شیطانی آلہ قرار دے کر استعمال کرنے سے منع کیا اور مائیکرو فون چھین لیا۔ اتفاق سے مائیکرو فون میں کرنٹ آگیا اور ایک مولوی صاحب جھٹکا کھا کر زمین پر گر پڑے۔ جنرل اکبر خا ن نے ان سے گزارش کی کہ آپ نماز میں خلل نہ ڈالیں اور آرام سے بیٹھ جائیں۔ پھر قائد اعظم تشریف لے آئے۔ قائد اعظم نے احتیاط سے مائیکرو فون پکڑ کر مختصر تقریر شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ہم ایک آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ ہم خون میں لت پت ہیں مسلمانوں پر ظلم کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں لیکن ہم دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنائیں گے، اس کیلئے ہمیں اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم نے قوم کو عید کی مبارکباد دی اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر تقریر ختم کردی۔ نماز سے فارغ ہو کر قائد اعظم نے جنرل اکبر خان کو خدا حافظ کہا اور گورنمنٹ ہاؤس کراچی چلے گئے۔ گورنمنٹ ہاؤس میں نہ کوئی دعوت تھی اور نہ ہی عید ملن پارٹی تھی۔ ساڑھے تین بجے گورنر جنرل کے ملٹری سیکرٹری نے جنرل اکبر خان کو فون پر کہا کہ آپ اور بیگم صاحبہ ساڑھے چار بجے گورنمنٹ ہاؤس آ جائیں۔ جنرل صاحب گورنمنٹ ہاؤس چلے گئے۔ قائد اعظم نے انہیں چائے پلائی اور پھر کہا کہ میں ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کو سنبھالنے کے انتظامات دیکھنا چاہتا ہوں۔ قائد اعظم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عید کے دن ان کی حکومت کیا کر رہی ہے؟ قائد اعظم سب سے پہلے کیماڑی گئے اور وہاں کے مہاجر کیمپ کا دور ہ کیا۔ پھر کراچی کنٹونمنٹ اسٹیشن پر آئے۔ جہاں مہاجرین ریل سے آتے تھے۔ پھر وہ کراچی ایئر پورٹ گئے کیونکہ بہت سے مہاجرین ہوائی جہاز سے بھی آ رہے تھے۔ قائد اعظم نے مہاجر کیمپوں پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب کتاب دیکھا اور پھر فاطمہ جناح کو مخاطب کرکے کہا کہ مہاجرین کی دیکھ بھال کا کام آپ کو اور بیگم اکبر خان کو اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔ عید کی شام قائد اعظم نے مہاجرین کی دیکھ بھال کے انتظامات کا جائزہ لینے میں گزاری اور جگہ جگہ مہاجرین کو حوصلہ دیا۔ عیدالفطر کے دن ہندوستان سے جوٹرینیں آئیں ان میں مسلمانوں کی لاشیں بھری ہوئی تھیں۔ مسلمانوںکا قتل عام عید الفطر کے بعد بھی کئی ماہ تک جاری رہا اور 24 اکتوبر 1947ء کو عید الاضحی آئی تو جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو چکا تھا۔ جو مسلمان ہندوستان میں پھنس گئے ان پرظلم کے وہ پہاڑ ٹوٹے جو بعد میں اسرائیل نے فلسطینیوں پر توڑے۔ پٹیالہ میں مسلمان عورتوں کو برہنہ کرکے ان کا جلوس نکالا گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب دہلی میں حبیب جالب اور ان کے بھائی مشتاق آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں میں نعتیں پڑھنے کے باعث انتہا پسند ہندوؤں کی نظروں میں آ چکے تھے ۔ حبیب جالب کی عمر صرف پندر ہ سال تھی۔ جب ان کے والد صوفی عنائت اللہ کو پتہ چلا کہ حبیب اور مشتاق کو قتل کرنے کا منصوبہ بنالیا گیا ہے تو انہوں نے ایک رات ان دونوں کو خاندان کی دیگر عورتوں کے ہمراہ پہاڑ گنج ریلوے اسٹیشن سے پاکستان روانہ کردیا۔ اس ٹرین پر بھی جگہ جگہ حملے ہوئے۔ یہ ٹرین پہلے لاہور اور پھر کراچی پہنچی لیکن یہ سفر حبیب جالب کو کبھی نہ بھولا۔ جالب نے اپنی نظم ’’قائد اعظم دیکھ رہے ہو اپنا پاکستان‘‘میں کہا۔
کتنے سر کٹوا کر ہم نے ملک بنایا تھا
دار پہ چڑھ کر آزادی کا گیت سنایا تھا
اس دھرتی سے انگریزوں کو دور بھگایا تھا
اس دھرتی پر آج مسلط ہیں ان کے دربان
قائداعظم دیکھ رہے ہو اپنا پاکستان
ایک اور غزل میں حبیب جالب نے کہا:
بہتے لہو میں سب ترا مفہوم بہہ گیا
14اگست صرف ترا نام رہ گیا
جلنا ہے غم کی آگ میں، ہم کو تمام شب
بجھا ہوا چراغ سرِ شام کہہ گیا
پاکستان کی پہلی عید پر قائد اعظم نے کہا تھا کہ ہم خون میں لت پت ہیں اور ہمیں اتحاد و اتفاق سے اپنے حالات بدلنے ہیں۔ افسوس کہ وہ حالات حبیب جالب کی زندگی میں بھی نہ بدلے اور آج بھی وہی حالات ہیں۔ پہلے ہمیں باہر کے دشمن مار رہے تھے آج دشمن ہمیں اندر سے مار رہا ہے۔ اگر ہم پاکستان کی پہلی عید کو یاد کریں تو یہ سمجھ آتی ہے کہ ہم آج بھی اپنی بقاء کی جنگ میںمصروف ہیں۔ اصلی آزادی کی منزل ابھی دور ہے اور جب یہ آزادی ہمیں ملے گی اسی دن ہماری اصلی عید ہوگی۔ پاکستان کی پہلی عید ہمیں ظلم کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیتی ہے۔ بقول جالب :
جھکے گا ظلم کا پرچم یقین آج بھی ہے
مرے خیال کی دنیا حسین آج بھی ہے