چین کی ایک 19 سالہ نوجوان لڑکی نے سوشل میڈیا پر اس وقت تہلکہ مچا دیا جب اس نے اپنے غیر معمولی گھر کی تصاویر شیئر کیں۔
یہ تصویر دراصل اس کے دفتر کا ایک 6 مربع فٹ کا ٹوائلٹ ہے، جہاں وہ صرف 50 یوآن (7 ڈالر) ماہانہ کرایہ ادا کر رہی ہے۔
زیادہ تر لوگ رہائش کے اخراجات کم کرنے کےلیے مختلف طریقے اپناتے ہیں، لیکن کتنے لوگ واقعی ٹوائلٹ میں رہنے کو تیار ہوں گے؟
چین کے علاقے ہونان سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان لڑکی نے اپنے دفتر میں موجود ایک چھوٹے سے غیر استعمال شدہ ٹوائلٹ کو اپنا گھر بنا لیا۔
اس نے وضاحت کی کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور 800 یوآن (تقریباً 110 امریکی ڈالر) یا اس سے زیادہ کا کرایہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اس لیے اس نے اپنے باس سے دفتر میں رہنے کی اجازت مانگی۔
اس کی پوسٹ وائرل ہونے کے بعد زیادہ تر صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ صرف توجہ حاصل کرنے کا حربہ ہے کیونکہ کوئی بھی ایسی صورتحال میں نہیں رہ سکتا۔
تاہم اس کے باس نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ وہ واقعی فیکٹری کے ایک 6 مربع فٹ کے ٹوائلٹ میں رہ رہی ہے۔
باس کا کہنا تھا کہ اس نے مجھ سے پانی اور بجلی کےلیے اضافی 50 یوآن دینے پر اصرار کیا لیکن میں اس سے کوئی رقم لینا نہیں چاہتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیکٹری ایک دور دراز صنعتی علاقے میں واقع ہے، جہاں کم قیمت پر رہائش کا بندوبست کرنا مشکل ہے۔
چینی سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر مخلوط ردعمل دیا۔ کچھ لوگوں نے اس کی لگن اور کفایت شعاری کی تعریف کی جبکہ دوسروں نے اس کی صحت کو زیادہ اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی ایسی ناقص صورتحال میں نہیں رہنا چاہیے جب تک کہ وہ بالکل مجبور نہ ہو۔