ایک تحقیق کے مطابق روزمرہ کی ایک سادہ سی تبدیلی سے ڈپریشن کے خطرے کو 40 فیصد سے زیادہ کم کیا جاسکتا ہے اور اس تبدیلی میں صرف ایک گھنٹہ لگتا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق ورزش کرنا، سفر (آمد و رفت) کرنا اور ٹی وی دیکھنے کے بجائے سونے سے بھی درمیانی عمر میں ڈپریشن کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 280 ملین سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ صرف ایک گھنٹہ ٹی وی دیکھنے کے بجائے دیگر سرگرمیوں جیسے کھیل، تفریحی مشاغل، آمد و رفت سے متعلق جسمانی سرگرمی یا سونے کو ترجیح دی جائے تو شدید ڈپریشن کے لاحق ہونے کے خطرے میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔
صرف آدھا گھنٹہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے کے وقت کو کھیلوں سے بدل کر ڈپریشن کے خطرے کو 18 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ بڑی عمر کے افراد میں اس سادہ تبدیلی سے ڈپریشن کا خطرہ تقریباً 30 فیصد تک کم ہوا۔
اسی طرح جب ایک گھنٹہ ٹی وی دیکھنے کے وقت کو سو کر گزارا گیا تو ڈپریشن کے خطرے میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یورپین سائیکاٹری میں شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ کے محققین نے کہا یہ نتائج اس عمر کے گروہ میں متنوع جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینے کو سپورٹ کرتے ہیں۔
درمیانی اور بڑی عمر کے افراد میں ٹی وی دیکھنے کے وقت کو کم کرنا صحت عامہ کی ایک خاص طور پر موثر حکمت عملی ثابت ہو سکتا ہے۔