دنیا کی سب سے چھوٹی اسکائی اسکریپر (فلک بوس عمارت) دراصل ایک بڑے فراڈ کی وجہ سے بنا۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر وِچٹا فالس میں تاریخ کی یہ سب سے چھوٹی فلک بوس عمارت واقع ہے، جو بدنام زمانہ نیوبی میک ماہون بلڈنگ کے نام سے مشہور ہے۔
یہ اسکائی اسکریپر نیوبی میک ماہون بلڈنگ صرف 40 فٹ اونچی ہے لیکن زیادہ متاثر کن نہیں ہے۔ بلند وبالا اسکائی اسکریپر کو تو چھوڑیں اس کا تو عام سائز کی عمارتوں کے ساتھ بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن پھر بھی جب اسے 1900 کی دہائی کے اوائل میں ڈیزائن کیا گیا تھا تو اسے اپنی نوعیت اور زمانے کا سب سے شاندار اسکائی اسکریپرز میں سے ایک ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
دنیا کی سب سے چھوٹی اسکائی اسکریپر کی عرفیت اس کے لیے شاذ و نادر ہی قابل فخر ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی ہر اسکائی اسکریپر کے مقابلے میں یہ چھوٹی ہے۔ اسے اسکائی اسکریپر کہلانے کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ اس علاقے میں کئی عام عمارتوں سے بھی چھوٹی ہے۔ اس کے بننے کی کہانی واقعی دلچسپ ہے۔
اسکے ابتدائی زمانے کا تعلق 1900 کی دہائی کے اوائل سے ملتا ہے، جب شمالی ٹیکساس کا شہر وِچٹا فالس تیل کی علاقائی پیداوار کا مرکز بن گیا۔ برک برنیٹ کے قریب تیل کی دریافت نے سیکڑوں مقامی لوگوں کو کروڑ پتی بنا دیا، کیونکہ معدنی حقوق تقریباً ہر جگہ، گلیوں سے لے کر عارضی ٹینٹ تک طے پائے جاتے تھے۔
تب فلاڈیلفیا کے تیل کے کاروبار سے منسلک جے ڈی دی میک ماہون نے سب سے پہلے یہ نوٹ کیا کہ شہر میں دفتر کے لیے جگہ کی سخت ضرورت ہے اور انہوں نے ایک اسکائی اسکریپر کی فوری تعمیر پر مبنی حل پیش کیا۔ جو اصل نیوبی بلڈنگ کے بالکل ساتھ واقع ہو، جو آگسٹس نیوبی نے 1906 میں بنائی تھی۔ ان کے بلیو پرنٹس نے کئی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی اور وہ تقریباً دو لاکھ ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔
میک میون نے وعدہ کیا کہ وہ سینٹ جیمز ہوٹل کے بالکل سامنے ایک کثیر المنزلہ دفتر کی عمارت بنائے گا لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ عمارت زیادہ اونچی نہیں ہوگی۔ مالدار انویسٹرز نے یہ نوٹ نہیں کیا کہ عمارت کی پیمائش فٹ کی بجائے انچ میں کی گئی تھی اور جب انہیں احساس ہوا کہ انکے ساتھ دھوکا ہوا ہے تو اس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی۔
اس دھوکہ دہی کا آرکیٹیکٹ اپنی ہی ٹیم کو تعمیر کے لیے استعمال کرتا رہا اور جب اس کا منصوبہ آشکار ہوا تو وہ پہلے ہی غائب ہو چکا تھا۔ سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ واپس لینے کے لیے مقدمہ کیا، لیکن چونکہ دنیا کے سب سے چھوٹے اسکائی اسکریپر کے منصوبوں میں واضح طور پر 480 انچ لکھا تھا، فٹ نہیں، جج نے ان کی کوشش کو مسترد کر دیا اور انہیں زیادہ دھیان نہ دینے کی وجہ سے قصوروار ٹھہرایا۔