البانیہ کی ایک معروف اداکارہ نے حکومت کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹ میں ان کے چہرے اور آواز کے استعمال پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے استحصال قرار دیا ہے اور عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
البانیہ کے وزیراعظم نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ ایک اے آئی سسٹم، جسے ڈیئیلا (Diella) کا نام دیا گیا ہے، وہ عوامی ٹینڈرز کے نئے پورٹ فولیو کی نگرانی بطور وزیر کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کرپشن میں کمی لانے میں مدد ملے گی، تاہم اپوزیشن جماعتوں اور ماہرین کی جانب سے اس فیصلے پر تنقید کی گئی اور نظام کی شفافیت اور جوابدہی پر سوالات اٹھائے گئے۔
معروف البانوی اداکارہ انیلا بشا جن کے چہرے اور آواز کو استعمال کر کے ڈیئیلا کا اوتار تیار کیا گیا، انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اپنی شناخت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
57 سالہ اداکارہ کے مطابق میں نے اس ہفتے کے آغاز میں عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں میری تصویر اور شناخت کے استعمال کو فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ میری شناخت اور ذاتی ڈیٹا کا استحصال ہے۔
اداکارہ کے مطابق میں نے ابتدا میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 2025ء کے اختتام تک میری تصویر کو سرکاری آن لائن سروسز پورٹل پر ایک ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں حکومت کی جانب سے ڈیئیلا کو وزیر بنانے کے اعلان کے بعد ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں کمپیوٹر سے تیار کردہ ان کا ورچوئل کردار پارلیمنٹ سے خطاب کرتا دکھائی دیا۔
اس ویڈیو میں روایتی البانوی لباس میں ملبوس خاتون کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ وہ انسانوں کی جگہ لینے نہیں آئی۔