4اپریل 1979ء پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، ملک کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کا آخری دن، جب رات کے دو بجے انہیں تختہ دار پر چڑھا کر میٹھی نیند سُلا دیا گیا۔ وجہ تھی قتل۔ 18 مارچ 1978ء کو بھٹو کو لاہور ہائی کورٹ نے نواب محمد احمد کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جس کے بعد بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل کے قیدٰی نمبر ’1772‘ کی حثیت اختیار کر لی۔
کون جانتا تھا کہ نواب محمد کا قتل پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بد ل دے گا۔
آج بھٹو کو دنیا سے رخصت ہوئے 46 برس ہو گئے لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ زندہ بھٹو سے شہید بھٹو زیادہ طاقت ور ہو گیا ہے۔
ذیل میں بھٹو کی وزیرِ خارجہ کی حثیت سے مختصراً اور بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو سے آخری ملاقات کے بارے میں تفصیلات ملاحظہ کریں۔
وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے معرکہ خیز زندگی
ذوالفقار علی بھٹو، تیسری دنیا کا ایک ایسا لیڈر جس نے ناصرف پاکستان کے عوام کے دلوں میں گھر کیا بلکہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے معرکہ خیز زندگی گزاری، خارجہ پالیسی میں تصور رکو عملی طور پر جگہ دی اور یہ بتایاکہ دنیا مسلسل حرکت اور تیزی سے بروقت، صحیح فیصلے کرنے کی جگہ ہے اور پاکستان جیسے ملک کو اپنی پالیسیوں کو دنیا کی رفتار کار سے ہم آہنگ رکھنا چاہیے۔ وہ جمال عبدالناصر، سوئیکارنو اور چواین لائی جیسے عالمی سربراہوں کا تذکرہ اس لیے محبت اور احترام سے کرتے تھے کہ یہ تنیوں تیسری دنیا میں سامراجی دباؤ کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ، ذوالفقار علی بھٹو نے خاص طور پرتیسری دنیا کے قائد کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ جب انہوں نے وزارت خارجہ کا قملدان سنبھالا تو پاکستان خارجہ پالیسی کے لحاظ سے امریکہ کی طفیلی ریاست بن کر رہ گیا تھا۔ انہوں نے اس جمود کو توڑا اور چین کے ساتھ پاکستان کے ایسے تعلقات کی بنیاد رکھی جن کے کچھ اثرات 1965ء کی جنگ میں چین کی طرف سے بھارت کو الٹی میٹم دیئے جانے کے بعد پاکستان کی حفاظت اور دفاع کا باعث بنے۔
اگست1996ء میں انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پی آئی اے کے لئے ائر سروس کے ایک معاہدے پر دستخط کئے اور یوں عوامی جمہوریہ چین میں پہلی غیر ملکی ائر سروس کے اجرا کو عملی طور پر ممکن کر دکھایا۔ جب انہیں تیل اور قدرتی وسائل کی وزارت سونپی گئی تو انہوں نے روس کے ساتھ ایک ایسے سمجھوتے کو ممکن بنادیا جس سے پاکستان کو نہ صرف وسیع البنیاد فوائد حاصل کرنے کا آغاز ہوا بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم اور مثبت تبدیلی کے آثار بھی نمایاں ہوئے۔
امریکہ نواز وزیر خزانہ مسٹرشعیب کی سخت مخالفت کے باوجود انہوں نے روس کے ساتھ تیل دریافت کے جس سمجھوتے کو پاکستان کی شرائط پر آخری شکل دینے میں کامیابی حاسل کی اس نے بھٹو کو دنیا بھر میں ایک آزاد قوم پرست وزیرخارجہ کی حیثیت سے شہرت دی۔
1964ء میں پاکستان کا جکارتہ میں ایفروایشین کانفرنس، میں شریک ہونا اوربن بیلا کا تختہ الٹے جانے کے باوجود اجلاس کو ممکن کر دکھانا صرف جناب بھٹو کا ہی مرہون منت تھا اور یہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ الجیربا، جہاں اس کانفرنس کا انعقاد طے تھا، بغاوت کے نتیجے میں گولیوں اور آگ کے شعلوں کی زد میں تھا ،اس عالم میں بھٹو، ایوب خان کے منع کرنے کے باوجود وہاں پہنچے اور کانفرنس کو سبوتاژ ہو نے سے بچا کر تیسری دنیا کی آنکھ کا تارہ بن گئے۔ اس کانفرنس کے حوالے سے بیرونی ْ اخبارات نے لکھا :۔
’’تمام ملکوں میں پاکستان نے ہی مرکزی کردار ادا کیا اور مسٹر بھٹو مصالحت کے معمار بن کرابھرے‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ وزیر خارجہ بننے کے بعد صرف اڑھائی برس کی مدت میں وہ تیسرے دنیا کی خارجہ پالیسی کے اُفق پر ہر طرح سے چھاگئے تھے۔
ذوالفقار علی بھٹونے ملک و قوم کے ان نازک لمحات میں جرأت مندانہ اور وقت کی نزاکت سے ہم آہنگ فیصلے کئے جب ہر طرف شکست اور تباہی کے آثار نمایاں تھے، انہوں نے اعلیٰ قائدانہ صلاحتیوں کامظاہرہ کیا اور ایسی فضا پیدا کی کہ قوم کے ٹوٹے پھوٹے ڈھانچے میں جان پیدا ہونے لگی عوام اور کارکنوں میں اعتماد بحال کیا۔ انہیں پکار پکار کر کہا:
’’آگے بڑھو۔ ہمت کرو۔ ہم اس صورت حال کا سامنا کرکے اسے اپنے حق میں تبدیل کردیں گے‘‘
انہوں نے ناقابلِ شکست ارادوں کے ساتھ رات دن کام کیا۔ ملکی تعمیر کے لئے متعدد منصوبے بنائے۔ انقلابی اصلاحات کیں۔جب 27؍جون 1972ء کو قائد عوام نے بھارت میں اسیر 90ہزار پاکستانی فوجیوں کی رہائی اور بھارتی قبضے میں موجود چھ ہزار مربع میل علاقے کی بازیابی کے لئے شملہ کا رخ کیا تو اس وقت پاکستان اور بھارت کی پوزیشن عجیب طرح کی تھی۔ بھارتی قیادت فتح کے نشے میں مدہوش تھی۔ اس لمحے قائد عوام نے کہا تھا:
’’امن کی تلاش کی کوشش کروں گا خواہ اس کے لئے میری زندگی ہی کیوں نہ چلی جائے‘‘۔
انہوں نے دانشورانہ سیاسی مہارت کے ساتھ شملہ معاہدے پر دستخط ہونے تک کا ایک ایک لمحہ گزارا۔ شملہ معاہدے سے پہلے مری میں ابتدائی بات چیت کے دوران مسٹر ڈی پی دھرنے پاکستان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی نیت سے کشمیر، جنگ نہ کرنے، تجارت، فوجی برتری اور مقبوضہ علاقوں کے معاملات کو ایک ساتھ اپنی شرائط پر طے کرانے کے ارادے سے علامتی انداز میں جناب بھٹو سے کہا تھا:
’’بھارتی ایک ہی بار معاہدے۔ یعنی پھولوں کا گلدستہ چاہتے ہیں‘‘۔
مارچ 1972ء کے ان تاریخی مذاکرات میں بھٹو نے ڈی پی دھر کے اس جملے کا جواب اسی انداز میں دیتے ہوئے کہا تھا:
’’نہیں ۔ نہیں ۔ ایک وقت میں ایک پھول‘‘
شملہ معاہدہ اپنے متن، الفاظ کی ہنر کاری اور پاکستانی مفادات کا اس قدر آئینہ دار تھا کہ بھارتی قیادت کو دیر تک اپنے میڈیا کا سامنا کرنا مشکل بنا رہا۔ وہ اپنے عوام کے مزاج سے کسی بھی دوسرے سیاسی راہنما سے کہیں زیادہ آشنا تھے۔ وہ عوام سے اپنی بات منوانے اور محبت سے اپنے خیالات کا علمبردار بنانے کے فن سے آگاہ تھے۔
عوام ان سے پیار کرتے تھے تو وہ بھی ان کی فلاح و بہبود کے لئے اندرون ملک اور بیرون ملک طاقتوں سے دل و جان سے لڑے اور اس طرح لڑے کہ جان سے گزر گئے۔ جس جرأت کے ساتھ زندگی گزاری اس جرأت کے ساتھ موت کو قبول کیا۔ اٹھارہ مہینے کی قید کے دوران کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جب ان کے قدم ڈولے۔ بھٹو کے جسم کو ختم کر دینا ممکن تھا لیکن جسم کی قید سے آزاد بھٹو کو ختم کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
’ ’’بیٹی پلیز چلی جاؤ‘‘ میں تم سے کیسے مل سکتا ہوں جب عوام کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں ہے
یکم اپریل کو علی الصبح ایس ایچ او کلفٹن پولیس کے ہمراہ 70 کلفٹن میں داخل ہوئے۔ 70 کلفٹن جہاں عظیم پالیسی ساز فیصلے کیے گئے۔ جہاں آمریت کے خلاف جدوجہد شروع ہوئی تھی اس وقت وہاں بے نظیر بھٹو تھیں، انہیں کو ایک کار میں بیٹھایا گیا، جس میں ایک جانب لیڈی انسپکٹر، دوسری جانب ایس پی ناظم آباد بیٹھے تھے۔
کار ایک پولیس والا چلا رہا تھا۔ ایک پولیس جیپ اس کار کے آگے تھی، اس کے پیچھے ایک انٹیلی جنس کار تھی اور دوسری انٹیلی جنس کار بے نظیر بھٹو کے پیچھے تھی۔ یہ قافلہ سیدھا ایئرپورٹ پہنچا جہاں ایک ڈی سی او اکھڑا تھا۔ جہاز کے چاروں طرف پولیس تھی۔ ایس پی ناظم آباد کے پاس بورڈنگ پاس تھا وہ سب لوگ ایس پی کی نگرانی میں جہاز کی سیڑھیوں پر چڑھ گئے، کوئی شخص بے نظیر بھٹو سے بات چیت کرسکتا تھا۔
جب جہاز لاہور کی حدود میں اترا۔ لاہور جہاں 1966ء میں ایک نوجوان وزیرخارجہ کا نام گونج رہا تھا، جہاں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا، جہاں ہنری کسنجر نے بھٹو سے کہا تھا کہ’’ میں تمہاری بھیانک مثال قائم کروں گا۔‘‘
بے نظیر بھٹو طیارے سے پہلے اتریں۔ پنچے ایک کار ان کی منتظر تھی۔ زبردست حفاظتی پہرے میں فوجی علاقے سے گزرتے ہوئے ان کی کار کوٹ لکھپت جیل کی طرف روانہ ہوئی۔ ایئرپورٹ کے باہر برطانوی امریکی ٹیلی ویژن کے نمائندے، پاکستان اور غیر ملکی اخباری نمائندے بھی انتظار میں تھے لیکن بے سود۔ بے نظیر بھٹو کی کار کوٹ لکھپت جیل پہنچی تو جیل کا آہنی پھاٹک کھلا اور کار اندر داخل ہوگئی۔
بے نظیر بھٹو کار سے اتر یں اور پیدل چلنا شروع کیا۔ پھانسی گھاٹ تک کافاصلہ کافی تھا لوہے کا ایک اور گیٹ آیا،دو چار قدم آگے بڑھیں، وہاں ایک اور لوہے کا گیٹ تھا، اس کے پیچھے کافی اندھیرا تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ انہیں یہاں کیوں لایا گیا ہے وہ ایک پولیس والے سے پوچھنا چاہتی تھیں کہ اچانک انہیں ایک آواز سنائی دی جو ان کے والد کی آواز تھی وہ کہہ رہے تھے کہ:
’’بیٹی پلیز چلی جاؤ‘‘ میں تم سے کیسے مل سکتا ہوں جب عوام کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں تم سے کیسے مل سکتا ہوں۔ جب وہ مجھ سے نہیں مل سکتے تو تم بھی مجھ سے ملاقات نہ کرو۔‘‘
بے نظیر بھٹونے اپنے والد سے کہا ، میں آپ سے ملوں گی۔ کیوں کہ عوام مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کیسے ہیں۔ وہ سکون محسوس کرتے ہیں جب میں یہ بتاتی ہوں کہ میں آپ سے ملی ہوں۔ میں جب ان سے بات کرتی ہوں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ میرے ذریعے آپ سے ملے ہیں۔ بے نظیر بھٹو آگے جاتی ہیں اور کوٹھری کے دروازے کی سلاخوں کو پکڑ لیتی ہیں اندھیرے میں ان کی آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ تو وہ اپنے باپ کو دیکھتی ہیں ان کے چہرہ مچھروں کے کاٹنے سے سرخ ہو رہا تھا وہی چہرہ جس نے حجر اسود کو چوما تھا۔
چیئرمین نے اپنا ہاتھ باہر نکالا اور بے نظیر یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی کہ ان کا ہاتھ مچھروں کے کاٹنے سے بھرا ہوا ہے۔ کوٹھری 8x11 فٹ تھی۔ تنگ و تاریک اور بدبودار۔ یہ ملک کے پہلے منتخب صدر اور وزیراعظم کی کوٹھری تھی۔ ان کا چہرہ پرسکون تھا ، آنکھوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ بالکل مطمئن ہیں۔ ان کی ہمت، اعتماد اور سکون چہرے اور آواز سے ظاہر ہوتا تھا۔
انہوں نے بے نظیر کے سرپر ہاتھ پھیرا اور کہا پاکستان ایک کثیر القومی ملک ہے انہوں نے عملی سیاست میں تبدیلیوں کے بارے میں بے نظیر بھٹو کو بتایا اور مختصراً عدالت کی کارروائی سے بھی آگاہ کیا۔ چیئرمین نے کہا کہ وہ مولوی مشتاق کی بنچ سے کسی انصاف کی توقع نہیں رکھتے لہٰذا انہوں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا اور ان کو دی جانے والی سزا سے یہ ثابت ہوا کہ ان کا اندازہ صحیح تھا۔
اب ملاقات کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ چیئرمین نے بے نظیر بھٹو کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ ’’میری بیٹی میرے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے وعدہ کرو کہ تم میرے مشن کو جاری رکھو گی۔ بے نظیر بھٹو نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان کی یہ خواہش ضرور پوری کریں گی۔ وہ جیل سے باہر آگئیں۔ انہوں نے پلٹ کر اس اندھیری کوٹھری کی طرف نہیں دیکھا، جہاں قوم کا قائد قید تنہائی میں موجود تھا۔
(محمود شام کی تحریر کردہ کتاب ’’بے نظیر بھٹو سے اقتباس)
بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی آخری ملاقات
3اپریل 1979ء کو جب بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو آخری ملاقات کے لئے بلایا گیا توبے نظیر نے اپنی ایک سہیلی کو ایک خط میں لکھا، ’’ مجھے بتایا گیا ہے کہ پاپا کے ساتھ میری یہ آخری ملاقات ہے ۔ پوری کوشش کروں گی کہ بہادر بنوں اور روؤں نہیں “ ۔ مقررہ دن انہیں ایک شیورلیٹ گاڑی میں راولپنڈی پہنچایا گیا۔
معمول کے مطابق ان کی تلاشی لی گئی اور خاردار تار کی بنی ہوئی ایک باڑ میں سے گزار کر جیل کےاُس حصے میں پہنچایا گیا، جہاں بھٹو قید تھے۔ اس ملاقات میں دونوں ماں بیٹی نے بھٹو سے پانچ فٹ دور بیٹھ کر بات چیت کی۔ اس موقع پر ایک ہمدرد افسر نے بھٹو کو بتا دیا تھا کہ بیوی اور بیٹی سے بات کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔
اس ملاقات میں کوئی آنسو بہا نہ کوئی سسکی سنائی دی ۔ دونوں ماں بیٹیاں پارٹی اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں باتیں کرتی رہیں اور قائد بھٹو ان کو حوصلے دیتے رہے۔ بھٹو نے اپنی کتاب، سلیپر، ڈریسنگ گاؤن اور دیگر ذاتی چیزیں ان کے حوالے کیں۔ آخری ملاقات ختم ہوئی، بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر کے چہروں پر غم اور اداسی چھا گئی۔ دونوں ماں بیٹیاں بھٹو سے جدا ہو کر واپس آرہی تھیں کہ دو آنسو بے نظیر کی آنکھوں سے ڈھلک گئے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لیے ’’نشان پاکستان‘‘ بھٹو ازم نظریے کی ایک اور فتح ہے، بلاول بھٹو
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ملک، جمہوریت اور عوام کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں نشان پاکستان سے نوازا گیا، جو ان کی صاحبزادی صنم بھٹو نے وصول کیا۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بعداز شہادت ’’نشان پاکستان‘‘ کا اعتزاز ملنے کو تاریخ کا اہم سنگ میل قرار دیا۔
بلاول بھٹو نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم اور آئین پاکستان کے خالق کو اعلیٰ ترین سول اعزاز ملنا بھٹو ازم کے نظریے کی ایک اور فتح ہے، یہ اعزاز شہید بھٹو کی ملک کے لیے گراں قدر خدمات کا باضابطہ اعتراف ہے۔ فخر ایشیا ذوالفقار علی بھٹو کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ آج بھی گڑھی خدابخش سے راج کر رہے ہیں۔
شفاف ٹرائل کے بغیر معصوم شخص کو پھانسی چڑھایا گیا سپریم کورٹ کی بھٹو کی پھانسی کے متعلق ریفرنس پر رائے
5 جولائی 2024 کوسپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے متعلق صدارتی ریفرنس پر تفصیلی رائے جاری کی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 48صفحات پر مشتمل رائے تحریر کی، سپریم کورٹ نے 12 نومبر 2012 کو صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت کی تھی، یہ صدارتی ریفرنس 11سال تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا، ریفرنس کی سماعت کرنے والے تمام 9جج اس دوران ریٹائر ہوگئے، تاہم 12 دسمبر 2023 کو صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے دوبارہ مقرر کیا گیا، 11 برس کے دوران متعدد صدارتی ریفرنس آئے جن پر سماعت کی گئی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر تفصیلی رائے میں لکھا کہ شفاف ٹرائل کے بغیر معصوم شخص کو پھانسی چڑھایا گیا، ملک اور اس کی عدالتیں اس وقت مارشل لاء کی قیدی تھیں، آمرکی وفاداری کا حلف اٹھانے والے جج کی عدالتیں پھر عوام کی عدالتیں نہیں رہتیں۔ تفصیلی رائے میں کہا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کا براہ راست فائدہ جنرل ضیاء الحق کو ہوا، اگر بھٹو کو رہا کر دیا جاتا تو وہ ضیاء الحق کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلاسکتے تھے۔
جنرل ضیاءالحق کی بقا اسی میں تھی کہ بھٹو کو سزا سنا دی جائے۔تفصیلی رائے میں کہا گیا کہ 5 جولائی 1977 کو آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے جمہوری حکومت ختم کر کے مارشل لاء لگا دیا، احمد رضا خان کے قتل کی تحقیقات 3 مئی 1976 کو بند کر دی گئی تھی، احمدرضاخان کے قتل کی تحقیقات ڈائریکٹر ایف آئی اے کے زبانی احکامات پر دوبارہ کھول دی گئی، 18 ستمبر 1977 کو حتمی چالان میں مسعود محمود، میاں محمدعباس کو سلطانی گواہ ظاہر کیا گیا۔
تفصیلی رائے کے مطابق فرد جرم 11 اکتوبر 1977 کو عائدکی گئی، ملزمان نے فرد جرم سے انکار کیا، 11 اکتوبر 1977 سے 25 فروری 1978 تک ہائیکورٹ نے بطور ٹرائل کورٹ مقدمہ سنا، استغاثہ کے 41 گواہوں اور صفائی کے صرف 4 گواہوں کی شہادتیں قلم بندکی گئیں،2 مارچ 1978 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 18 مارچ 1978 کو سنایا گیا، بھٹو کو اعانت جرم، قتل، اقدام قتل، قتل کی سازش کے تحت سزائے موت سمیت 12 سال کی سزا سنائی گئی۔
تفصیلی تحریری رائے میں کہا گیا کہ بھٹو نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے 3،4کی اکثریت سے بھٹو کی اپیل مسترد کر دی اور پھر بھٹو کی نظر ثانی اپیل 7 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر مستردکی۔ تحریری رائے میں کہا گیا کہ بھٹو کے ڈیتھ وارنٹ پر جسٹس مشتاق حسین نے دستخط کیے جو چیف جسٹس لاہور بن چکے تھے، بھٹو کی پھانسی کی سزا پر عملدر آمد کیلئے پہلے 2 اپریل 1979 کی تاریخ رکھی گئی، پھر سزائے موت پر عملدر آمد کی تاریخ تبدیل کر کے 4 اپریل 1979 کی گئی۔
ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کے متعلق صدارتی ریفرنس کی تحریری رائے میں کہا گیا کہ عدالت یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ عدالت نے نہ اپیل نہ ہی نظرثانی سنی ہے، آئین اور قانون میں ذوالفقارعلی بھٹو کی سزا کالعدم قرار دینے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، عدالت نے صدارتی ریفرنس پر سماعت آرٹیکل 186 کے تحت مشاورتی اختیار کے تحت کی، مشاورتی اختیار سماعت کے تحت سزا کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
تحریری رائے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ کو قتل کے مقدمے کا ٹرائل کرنے کا اختیار نہیں تھا، پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں کہ ہائی کورٹ نے قتل کا ٹرائل کیا ہو، ہائی کورٹ نےاس ٹرائل سے پہلے نہ اس ٹرائل کے بعد کوئی ایسا ٹرائل کیا۔
سلمان تاثیر کی کتاب ’’ذوالفقار علی بھٹو، بچپن سے تختہ دار تک‘‘ سے اقتباس