• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک کا مجموعی قرضہ 74 ہزار ارب روپے سے متجاوز

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

رواں مالی سال کے 6 ماہ کے دوران مجموعی قرضہ 74 ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی سے دسمبر 2024ء تک مقامی قرضوں کا حجم 49 ہزار 883 ارب روپے جبکہ دسمبر سے جولائی تک بیرونی قرضوں کا حجم 24 ہزار 130 ارب روپے رہا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق پہلی ششماہی میں حکومتی قرضوں کا حجم 67 ہزار ارب روپے زائد رہا، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مقامی قرضوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دسمبر 2024ء تک مقامی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 67 فیصد پر پہنچ چکا ہے۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ جی ڈی پی کا 33 فیصد ہے، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں پرائمری سرپلس 2.8 ٹریلین روپے جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں پرائمری سرپلس 1.5 ٹریلین روپے تھا۔

جولائی سے دسمبر تک سود کی ادائیگیوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا، پہلی ششماہی میں سود کی ادائیگیوں پر 5.1 ٹریلین خرچ کیے گئے جبکہ گزشتہ برس اس عرصے میں سود کی ادائیگیوں پر 4.2 ٹریلین روپے خرچ کیے گئے تھے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق دسمبر 2024ء تک غیر ملکی قرضے 86 ارب 62 کروڑ ڈالرز سے تجاوز کر گئے ہیں، دسمبر 2024ء تک حکومتی غیر ملکی قرضہ 78 ارب 12 کروڑ ڈالرز سے زائد رہا۔

رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ملکی قرض میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ملک قرض میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پرائمری بیلنس بیس سال بعد 0.9 فیصد رہا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں کریڈٹ ریٹنگ اور آؤٹ لک مستحکم سے مثبت قرار دی گئی ہے، بیرونی قرض کُل پروگرام کا 32.6 فیصد رہا، بیرونی قرض کی ادائیگی مکمل طور پر مقامی قرض سے کی گئی ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید