• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بوڑھے شیر اکثر آنکھیں موندے لیٹے رہتے ہیں البتہ جب بھی جنگل میں کچھ ہل چل ہوتی ہے شیر کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ آمادہ پیکار ہو جاتےہیں۔ رائے ونڈ کا بوڑھا شیر بھی سال سوا سال سے آنکھیں موندے ہوئے تھا البتہ اسکی ایک آنکھ ادھ کھلی رہتی تھی جس سے وہ ارد گرد کا جائزہ لیتا رہتا تھا جب سے اس نے سیاست کی سبز چراگاہوں پر مالکانہ حقوق کا دعویٰ کرنے والے نگہبانوں سے صلح کی تھی وہ اپنے بیانیے کی مقبولیت سے محروم ہو گیا تھا،اسے نگہبانوں کی قبولیت مہنگی تو پڑی مگر اس نے چھوٹے شیر اور شیرنی کو چراگاہوں کی اقتدار گاہ میں داخل کرا دیا۔ اسکی حکمت عملی یہ لگتی تھی کہ کارکردگی سے حریف چیتے کو چت کیا جائے اور نگہبانوں سے جس قدر حصہ مل سکتا ہے وہ بھی لے لیا جائے۔ دوسری طرف بوڑھا شیر مخمصے میں تھا کہ اس نے نگہبانوں کے ساتھ ماضی میں دوستی اور دشمنی دونوں تجربات کئے نہ دوستی دیرپا نکلی اور نہ دشمنی سے کامیابی مل سکی ۔چھوٹے شیر کے اصرار پر پھر سے دوستی کے ذریعےسر سبز چراگاہوں میں داخل ہونے پر تیار ہوا، لگتا ہے کہ اب مخمصے سے نکلتے ہوئے پھر سے زمینی حقائق کا ادراک کرنے لگاہے اور نگہبانوں کے ساتھ چل کر متحرک ہونے پر آمادہ ہوگیا ہے۔

حالیہ چند دنوں میں بوڑھے شیر نے انگڑائی لی ہے آنکھیں پوری طرح کھول لی ہیں جیسے لاہور سے سیاست کا آغاز کرکے ماضی میں اپنا ووٹ بینک بنایا تھا اسی ٹوٹے ہوئے گھر کو پھر سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماضی میںیہ اعلان ہوتا رہا کہ وہ پنجاب کے دورے کریں گے مگر اب بوڑھے شیر نے پنجاب کی بجائے لاہور ہی پر فوکس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی لاہور میں خوبصورتی کے جھنڈے گاڑ رہی تھی مگر اسے سیاسی اونر شپ حاصل نہیں تھی بوڑھے شیر نے انتہائی دانشمندی سے والڈ اتھارٹی اور لاہور کی سیاسی اونر شپ خود اپنے ہاتھ میں لیکر اسکی تعمیروترقی کا چارج خود لے لیا ہے ۔

شیر پہلے جنگل کے دوسرے جانوروں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے لاہوریئے روزان سے ملتے تھے، تاجر جپھیاں ڈالتے تھے، صنعت کار سرد کمروں میں ان سے کاروباری ملاقاتیں کرتے تھے ۔شیر اقتدار میں آئے تو عوامی رش سے دور ہونے لگے اپنا ٹھکانہ رائیونڈ کی بند دروازوں والی حویلی میں بنا لیا وہاں کوئی نہ انکی اجازت کے بغیر آسکتا تھا نہ ان سے مل سکتا تھا، اس دوری نے انہیں خاندانی سکون تو فراہم کر دیا مگر جنگل کے جانور ان سے نہ صرف فاصلاتی طور پر دور ہو گئے بلکہ آہستہ آہستہ ذہنی طور پر بھی مایوس ہوتے گئے۔شیروں نے شادی بیاہ اور خاندانی غموں پر بھی جانا چھوڑ دیا ۔فاصلے اور بڑھ گئے کہاں رائیونڈ کا سرسبز جزیرہ اور کہاں پرانےلاہور کی پرپیچ گلیاں، تعلقات کاپل کمزور اور خستہ ہوگیا ،کہاں گوالمنڈی میں باقی حامیوں کےساتھ بستے، کھاتےپیتے اور ہنسنے والے، کہاں جنگل سے دور رائیونڈ کے جزیدے میں الگ تھلگ ڈیرہ !نتیجہ وہی نکلا جس کا ڈر تھا رشتوں کی ڈوریاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو گئیں ۔

بوڑھے شیر کی حالیہ انگڑائی میں کافی عرصے کے بعد شیر نے لاہوری جنگل میں عامیوں سے ملاقاتیں شروع کی ہیں گوالمنڈی کے اپنے پرانے علاقے کا دورہ لوگوں کی وفات پر ان کے گھروں میں جاکر فاتحہ اداکرنا اور لاہور کے شہر میں عملی دلچسپی ایک مثبت تبدیلی ہے جس کے فوری اثرات تو ممکن نہیں لیکن دیرپا اثرات ضرورمثبت ہونگے ۔بوڑھے شیر نے گزشتہ سوا سال میں مقبول سیاست سے تو آنکھیں موندیں رکھیں لیکن شیروں کے خاندان پر بھرپور توجہ دی ۔لندن کے باغ میں مقیم حسن اور اس کا خاندان بوڑھے شیر کے پاس رائیونڈ میں آ چکا ہے۔ بوڑھے شیر کی غیر سیاسی بیٹی اسماء نواز اور اس کا شوہر علی ڈار بھی رائیونڈ کی کچھار میں ہی مقیم ہیں ۔جب سے بوڑھے شیر کی سیاسی جانشین مریم صوبے کی حکمرانی پر فائز ہوئی ہیں اسماء نے بوڑھے شیر کا گھریلو نظام سنبھال لیا ہے چند دن پہلے بوڑھا شیر اپنے خاندان کے ہمراہ رائیونڈ کے قریب آباد ایک جدید بستی میں گیا سارا دن وہاں گزارا بچوں کو گھما پھرا کراس نے بستی کے اندر موجود جھیل بھی دکھائی دلچسپ بات یہ تھی کہ صنعت کاروں کے پنجاب میں دو گروپ ہیں ایک کے سربراہ میاں منشا ہیں اور دوسرے گروپ کے سربراہ گوہر اعجاز، دونوں چنیوٹی ہیں مگر اپٹما کی سیاست اور صنعت کاروں کی سیاست میں دونوں متحارب ہیں تاثر یہ تھا کہ میاں منشا شیروں کے زیادہ قریب ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ شیروں نے توازن پیدا کرکے دونوں گروپوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ آپس کے اختلافات کے باوجود یہ دونوں گروپ پہلے بھی سیاست میں شیروں ہی کو فنڈنگ اور حمایت فراہم کرتے تھے، چیتے نے گو عوامی مقبولیت میں شیر کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن شیر اس حوالے سے خوش قسمت رہا کہ اب بھی تاجروں اور صنعت کاروں کا اکثریتی بلاک اسی کا ساتھی ہے ۔

بوڑھے شیر کا ایک زمانے میں تاجروں کی سیاست میں بہت عمل دخل ہوا کرتا تھا اس کی حمایت کے بغیر چیمبر اور فیڈریشن کے عہدیدار منتخب نہیں ہوسکتے تھے مگر جوں جوں شیر بڑے بڑے عہدوں پر جاتے گئے وہ ماضی میں کام آنے و الی سیڑھیوں کو بھولتےگئے اور اب ان کا شائد ہی تاجروں اور صنعت کاروں کی سیاست کی طرف دھیان ہو۔ اس وقت تاجروں اور صنعت کاروں کی مرکزی فیڈریشن کے سربراہ ایس ایم تنویر ہیں اور جو گروپ ہارا اس کے سربراہ انجم نثار ہیں گزشتہ دنوں بوڑھے شیر نے ایس ایم تنویر سے انکی والدہ اور والد ایس ایم منیر کی تعزیت بھی کی گویا انہوں نے صنعت کاروں کے دونوں گروپوں پر اپنا ہاتھ رکھنے کا اشارہ دے دیا۔اسی طرح وزیر داخلہ محسن نقوی اور بوڑھے شیر کی طویل عرصے بعد باضابطہ ملاقات بھی نئی سیاسی انگڑائی کا حصہ ہے اس ملاقات سے بہت سی سازشی کہانیوں کی تردید ہو گئی ہے۔بوڑھے شیر کی انگڑائی لاہور کی سیاست میں ارتعاش پیدا کر رہی ہے آنے والے دنوں میں بوڑھا شیر مزید متحرک ہوگا یا پھر آدھی آنکھیں موند کر خاموشی سے منظر دیکھے گا؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بوڑھا شیر مخمصے سے نکل کر نئی صورتحال میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

تازہ ترین