آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍جماد ی الثانی 1440ھ 18؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وہ ایک سانولہ سلونہ سا نوجوان تھا۔ روز میرے دفتر آتا،چائے پیتا ، شہر کی تازہ خبریں سناتا اور چلا جاتا۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا، اگر وہ کسی دن نہ آتا تو میرے رفیق شفیق مرزا پوچھتے کہ ایس امجد نہیں آیا، کیا بات ہےکہیں بیمار تو نہیں۔ فون کیا جاتا تو جواب ملتا کہ راستہ میں ہوں آ رہا ہوں۔ نیا سال شروع ہوا تو مرزا صاحب اور میں نے اس سے کہا کہ ایرڈیکشن کارڈ کی تجدید کروانی ہے۔ کہنے لگا کہ کل لے جائوں ۔ وہ دو تین روز نہیں آیا۔ سیّد تاثیر مصطفیٰ نے خبر دی کہ ایس امجد پر اچانک برین ہمریج کا حملہ ہوا ہے۔ ہسپتال پہنچا تو وہ خاموش ایک بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کئی نلکیاں لگی ہوئی تھیں، دیکھا نہ گیا۔ اس کی صحت کی دعا کی اور چلا آیا۔ وہ کئی ماہ اسی طرح خاموش لیٹا رہا۔ کئی بار آنکھیں کھولیں یہ امید ہوئی کہ شاید ہوش آ جائے۔ منگل کی صبح موبائل پر پیغام ملا کہ ایس امجد دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ابھی عمر ہی کیا تھی لیکن ’’آنے جانے‘‘ کا اختیار تو رب کائنات کا ہے جس کے آگے کسی کا کوئی بس نہیں چلتا۔
ایس امجد نے بھرپور زندگی گزاری ، صحافت کا آغاز پی پی آئی میں رپورٹر کی حیثیت سے کیا۔ اس وقت اے پی پی اور پی پی آئی دو بڑی نامور نیوز ایجنسیاں ہوتی تھیں۔ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کا صدر اور سیکرٹری ہونا صحافتی برادری

میں اعزاز کی بات تھی۔ میں مسلسل تین بار اس کمیٹی کا صدر رہا۔ میرے دور میں ایس امجد میرے ساتھ سیکرٹری تھے۔ لیکن سب میں نمایاں یوں رہے کہ مسلسل نو سال سیکرٹری رہے۔ جب چودھری پرویز الٰہی کو سپیکر بنایا گیا تو انہوں نے ایس امجد کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پریس گیلری کمیٹی کا مستقل سیکرٹری بنا دیا۔ چودھری صاحب ’’صحافی دوست‘‘ سمجھے جاتے ہیں ان کی خواہش تھی کہ ایس امجد کو معقول اعزازیہ دیا جائے لیکن امجد صاحب نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسمبلی انتظامیہ سے ان کے بڑے خوشگوار تعلقات تھے کہ صحافیوں کو کارڈ فوراً جاری کروا دیتے تھے اور پریس گیلری میں اسمبلی کارڈز اور دوسری دستاویزات فوری طور پر مہیا ہو جایا کرتی تھیں۔ اجلاس کے دنوں میں وہ خاصے متحرک ہوا کرتے تھے۔ صحافی تنظیموں میں ’’لیفٹ رائٹ‘‘ کی بلاجواز تفریق ڈالی گئی اور جنرل ضیاء الحق دور میں اس کی یوں حوصلہ افزائی کی گئی کہ صحافی تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کروا دیا گیا۔ ایک تنظیم دستور گروپ اور دوسری برنا گروپ کہلائی۔ ایس امجد دستور گروپ کی پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے دو بار صدر رہے اور اب فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے فنانس سیکرٹری تھے۔ اگرچہ اصولی طور پر میں اس تقسیم کے خلاف تھا اور ہمیشہ یہی کوشش اور آرزو رہی کہ صحافی تنظیمیں متحد ہو جائیں۔ اس کے باوجود یہ ایس امجد تھے جو اصرار کر کے کاغذات نامزدگی پر میرے دستخط کروا لیتے کہ تین بار میں فیڈرل یونین کا سینئر نائب صدر منتخب ہوا اور مقصد یہی تھا کہ دوسرے گروپ والوں کو اتحاد پر راضی کروں لیکن ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکا جبکہ صحافی برادری کا بھلا اتحاد و اتفاق میں ہی ہے۔ پریس کلب کے الیکشن میں وہ بڑے زور سے حصہ لیتے اور کامیاب پینل میں ایگزیکٹو ممبر کے لئے ایک دو ساتھی کامیاب کروا لیتے تھے۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پریس کلب کے منتخب عہدیدار سارے گروپوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو دور میں جب شہباز میاں ایڈیالہ جیل میں قید تھے تو ان کی ملاقات پر پابندی تھی او رسخت نگرانی کی جاتی تھی۔ قومی اسمبلی کے رکن پرویز ملک کی سپرنٹنڈنٹ جیل سے شناسائی تھی ۔ ایک بار عام گیٹ سے مجھےبھی وہ ساتھ لے گئے جبکہ سرکاری طور پر اجازت نامہ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ایس امجد نہ جانے کیسے ہوم سیکرٹری کے پاس نہ صرف جا پہنچے بلکہ اجازت نامہ بھی حاصل کر لیا اور شہباز میاں کے پاس جا پہنچے۔اور اس ملاقات کا کسی سے ذکر نہ کیا۔ مقدمہ کی پیشی کے وقت میں عدالت میں جایا کرتا تھا کہ شہباز میاں نے اس کا ذکر کیا۔ واپس آ کر میں نے امجد صاحب سے پوچھا تو ہنس پڑے اور کہا کہ ہوم سیکرٹری نے سختی سے منع کیا تھا کہ کسی سے ذکر نہ کرنا کیونکہ اوپر سے حکم یہ ہے کہ کسی کو ملنے کی اجازت نہ دی جائے۔ وہ لابیسٹ کا بھی بلا معاوضہ کام کرتے تھے۔ بہت سے ارکان اسمبلی کے لئے تحاریک التوا،تحاریک استحقاق اور بیانات ڈرافٹ کیا کرتے تھے۔ میرے علم میں ہے کہ کئی خاتون ارکان ان سے رہنمائی حاصل کرتی تھیں۔ اچھے بھلے تھے کہ پروانہ اجل آ گیااور رخصت ہو گئے۔ ان کی موت سے نہ صرف صحافی برادری ایک متحرک رکن سے محروم ہو گئی بلکہ میں ایک اچھے دوست،ساتھی اور بھائی سے محروم ہو گیا۔ ان کی موت پر یوں محسوس ہوا جیسے میرا ایک بازو کٹ گیا ہے!!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں