• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا عدالتی نظام اور تنازعات کا متبادل حل

مصنّف: ڈاکٹر ظفر احمد خان شروانی

صفحات: 112، قیمت: 1000 روپے

ناشر: فضلی سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ایف 42، حب ریور روڈ، سائٹ، کراچی۔

پاکستان کی عدالتوں پر ایک بڑی تنقید یہ کی جاتی ہے کہ یہاں فیصلے جلد نہیں ہوتے، بسا اوقات مدعیٔ مقدمہ یا ملزمان فیصلے کا انتظار کرتے کرتے قبر تک جا پہنچتے ہیں۔جواب میں کہا جاتا ہے کہ’’عدالتیں کیا کریں، اُن پر مقدمات کا بوجھ ہی اِس قدر ہے کہ وہ جلد فیصلے نہیں سُنا پاتیں۔‘‘ اور یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے۔ اِس مسئلے کا ایک حل عدالتوں کے باہر باہمی افہام و تفہیم سے تنازعات کا حل ہے اور زیرِ نظر کتاب میں جسٹس(ر) ڈاکٹر ظفر احمد شروانی نے تنازعات کے اِسی متبادل حل(اے ڈی آر) کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ 

کتاب گیارہ ابواب میں تقسیم کی گئی ہے، جن کے عنوانات ہی سے اس کے مندرجات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔’’روایتی عدالتی نظام اور تنازعات کے متبادل حل کا تقابلی جائزہ‘‘،’’ اے ڈی آر کا جائزہ‘‘، ’’ اے ڈی آر سے استفادے کا طریقۂ کار‘‘،’’ ثالث، مصالحت کار اور مفاہمت کار کے انتخاب کے رہنما اصول‘‘،’’اے ڈی آر کی کارروائی کے دَوران فریقین اور ان کے وکلاء کا طرزِ عمل‘‘،’’اے ڈی آر کا رہنما عالمی قانونی ڈھانچا‘‘،’’ اے ڈی آر اور جدید رجحانات‘‘،’’ اے ڈی آر سے متعلق چند اہم مقدمات اور اُن کے نتائج‘‘،’’اے ڈی آر کے نفاذ میں چیلنجز اور آگے بڑھنے کا راستہ‘‘ اور’’اے ڈی آر کا مستقبل۔‘‘

فاضل مصنّف نے واضح کیا ہے کہ یہ مفاہمتی نظام عدالتوں کے باہر تنازعات کے تصفیے کے لیے ہونے والے روایتی جرگوں یا پنچایتوں سے مختلف ہے، تاہم اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنچائیت سسٹم کو باضابطہ بنانے کے لیے قانون سازی بے حد ضروری ہے، کیوں کہ اِس عمل کے بغیر اے ڈی آر کو عوامی سطح پر نافذ کرنا مشکل ہوگا۔

کتاب کے ناشر، طارق رحمٰن فضلی کا کہنا ہے کہ’’تنازعات کا متبادل حل یا اے آر ڈی(Alternative Dispute Resolution) تنازعات کے فوری حل کا ایسا طریقۂ کار ہے، جو نہ صرف قابلِ عمل، تیز رفتار اور کم خرچ ہے، بلکہ اس میں مسئلے کا حل فریقین کی باہمی رضامندی سے تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف قانون کے پیشے سے وابستہ افراد کو تنازعات کے حل کے متبادل طریقوں سے متعلق بھرپور آگہی فراہم کرتی ہے بلکہ عام قارئین بھی اِن معلومات سے فائدہ اُٹھا کر اپنے مسائل اور تنازعات کے لیے اے ڈی آر کے کم خرچ طریقے آزما سکتے ہیں۔‘‘