ہیڈ قادر آباد کے مقام پر پانی ایک بے قابو اور گرجدار سمفنی کی مانند بہہ رہا ہے، جیسے آسمان نے زمین پر اپنی تمام طاقت نازل کر دی ہو۔ سیلاب نے انتہا کے تمام پیمانے عبور کر لیے ہیں اور بہاؤ ریکارڈ شدہ 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، حالانکہ ہیڈ ورکس کی موجودہ صلاحیت محض آٹھ لاکھ کیوسک ہے۔ بدھ کے روز بچاؤ کے لیے منڈی بہاؤالدین کی جانب ایک شگاف کھولا گیا، مگر پانی کی بڑھتی ہوئی شدت نے ہیڈ ورکس پر دباؤ برقرار رکھا، گویا قدرت ایک شطرنج کی بازی کھیل رہی ہو۔ہر حرکت میں زندگی اور تباہی کا توازن قائم، اور ہر قطرہ ایک علامتی نشانی، انسان کی کمزوری اور فطرت کی شان کا آئینہ۔
اسی دوران، اقوام متحدہ نے پاکستان کے اس عظیم المیے کے لیے محض چھ لاکھ ڈالر بھیجے، یعنی دو کیوسک پانی کے لیے ایک ڈالر! یہ اعداد و شمار ایک تلخ طنز کی مانند ہیں، جو انسانی شعور میں گونجتے ہیں، جیسے پانی کی بے قابو لہروں کے درمیان ایک چھوٹا سا چراغ روشنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہو۔ اگر یہ سیلاب کسی ترقی یافتہ ملک میں آتا، تو امداد کی بارش آسمان سے زمین پر برستی، مگر یہاں امداد اپنی معمولی دھار میں قطروں کی طرح برستی ہے۔ پانی کی دھمک اور انسانی امداد کی قطرہ قطرہ فراہمی، ایک علامتی تضاد پیدا کرتی ہے۔قدرت کی طاقت کی بصری آہنگ اور انسانی دنیا کی ناہمواری کا ایک پرلطف اور تلخ امتزاج، جو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
کیوسک ایک ایسا لفظ ہے جو پانی کی حرکت اور شدت کو ناپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے،یہ ہر سیکنڈ میں مکعب فٹ پانی کے بہاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک کیوسک کا مطلب یہ ہے کہ ایک لمحے میں زمین کی سطح سے ایک مکعب فٹ پانی گزر رہا ہے، ایک چھوٹا سا حجم جو زندگی دیتا بھی ہے جب جتنا زیادہ جمع ہوتا ہے اتنی زیادہ تباہی لاتاہے۔ جب ہم بات کرتے ہیں 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک کی، تو یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک علامتی منظر ہے: ہر سیکنڈ میں اتنا پانی بہ رہا ہے کہ اس میں گائوں کےگاؤں ڈوب سکتے ہیں ، یہ منظر دیکھ کر لگتا ہے کہ دریا اپنی بینائی کھو کر زمین کے سینے پر زور سے ٹکرارہاہے، پانی کی بے قابو لہروں کا طوفان افق تک پھیل رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ریاضی نہیں، بلکہ فطرت کی طاقت کا گہرا اور بصری احساس ہیں۔جہاں ہر مکعب فٹ پانی ایک کہانی سناتا ہے، ایک دھمکی دیتا ہے، اور انسان کو اپنی عاجزی کا ادراک کراتا ہے۔
یہ سیلاب، جو پاکستان میں خوف اور حیرت کی ایک ساتھ لہریں دوڑا گیا، دراصل بھارت کی زمین سے رواں تھا، جہاں پانی کو قابو میں رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہاں بھی آسمان کی برکت اور زمین کی ناہمواریوں نے مل کر تباہی مچائی، اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے مطابق، اس بے قابو پانی کے ساتھ بھارتی عوام کی لاشیں بھی بہہ کر سرحد کے پار پاکستان کی طرف آئیں۔ ایک خوفناک اور شاعرانہ منظر پیش کرتے ہوئے۔ دوسری جانب، احسن اقبال نے کہا کہ بھارت نے پانی کو ہتھیار کی مانند استعمال کیا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی نقصان کی داستان رقم کی۔ مگر افسوس، پاکستان نے ان سیلابوں سے کبھی وہ سبق نہیں لیا جو ایک دانا قوم کو اپنی تقدیر بدلنے کی ہمت دیتا۔ اگر یہ سبق لیا گیا ہوتا تو یہ پانی، جو تباہی کا پیغام لایا، ایک نئی دنیا کے لئے وسیلہ بن سکتا تھا، انسان کی تخلیقی اور تدبیری قوتوں کو ایک نیا آفاق عطا کر سکتا تھا۔
راوی کے کنارے جو شہر آباد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، اس کے ساتھ تقریباً چھبیس کلومیٹر طویل ایک جھیل بھی بنائی جانے والی تھی، جو قدرت کی طاقت کو ایک منظوم اور منظم شکل میں ڈھال دیتی۔ اگر وہ جھیل وجود میں آتی، تو آج راوی کا منظر نہ صرف زمین کی صورت بدل چکا ہوتا، بلکہ انسانی محنت اور حکمت کی علامت بھی بنتی۔ پانی کے بہاؤ کو قابو میں لا کر شہر کی رونقیں، زرعی زمین کی نکھار، اور قدرت کی تابندگی ایک ساتھ نظر آتی۔ ہر لہر، ہر قطرہ، ایک نظم کی مانند شہر کی زندگی میں جذب ہوتا، اور یہ منظر نہ صرف چشمِ عینی بلکہ دل و روح کی بھی روشنی فراہم کرتا۔ایک ایسا ادبی اور علامتی منظر، جو انسان کو قدرت کی عظمت اور اپنی تدبیری صلاحیتوں پر غور کرنے پر مجبور کرتا۔
پاکستان میں سیلابوں کی شدت اور بار بار آنے والی تباہ کاریوں کی جڑیں صرف موسمیاتی بے رحمی میں نہیں بلکہ انتظامی کمزوریوں اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی کوتاہیوں میں بھی پوشیدہ ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں نے جہاں بارشوں کے نمونے بدل دیے، وہیں ناکافی آبی ذخائر اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے قدرتی بہاؤ کو قابو میں لانے کی ہر کوشش کو کمزور کر دیا۔ 2022 کے تاریخی سیلاب کے بعد، پاکستان نے "ریزیلینٹ، ریکوری، ری ہیبلی ٹیشن اینڈ ریکنسٹرکشن فریم ورک" (4RF) ترتیب دیا، جس میں سیلاب کے نقصانات کا تخمینہ 14.9 ارب ڈالر اور تعمیر نو کی لاگت 16.3 ارب ڈالر مقرر کی گئی۔ بظاہر یہ ایک عزم و ارادے کا عملی خاکہ تھا، مگر حقیقت کا منظرنامہ کہیں زیادہ تلخ نکلا۔
بین الاقوامی امداد کی صورت بھی اس عزم کی آزمائش بنی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے محض چھ لاکھ ڈالر کی امداد موصول ہوئی، یعنی اتنے بڑے المیے کے لیے ایک قطرہ بھی نہیں، ایک ایسا طنز آمیز منظر جو انسانی نگاہ کو ہلا دیتا ہے۔ اور جہاں حکومتی اقدام کی ضرورت تھی، وہ سب کے سامنے ہے۔پانی اب بھی اونچا، ریکارڈ شدہ بہاؤ کی طرح بے قابو، اور ہر ہیڈ ورکس پر دباؤ ایک لمحۂ عبرت بن چکا۔ یہ منظر ایک صوفیانہ علامت کی مانند ہے۔ قدرت اپنی طاقت کی نمائش کر رہی ہے، انسان کی تیاری اور انتظامات کمزور ہیں، اور امداد کا قطرہ اتنا چھوٹا کہ آفت کے بحر میں غرق ہو جائے۔ گویا یہ زمین ایک زندہ شعر کی مانند ہے، جہاں بہاؤ اور قیاس، امید اور حقیقت، طنز اور المیہ ایک ساتھ رقص کر رہے ہوں، اور ہر لمحہ انسان کو یاد دلاتا ہو کہ قدرت کی طاقت اور انسانی دنیا کی ناہمواری کے درمیان فاصلہ کتنا وسیع ہے۔