• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسمیاتی تبدیلی اور زمینی حدت میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں۔ اربوں سال پہلے زمین کی تخلیق سے لیکر چار ارب سال پہلے بیکٹیریا کی شکل میں جب زمین پر زندگی نے انگڑائی لی۔ کروڑوں سال قبل بھاری مخلوقات ازقسم ڈائناسارس کے جنم عرصہ سے لیکر 66ملین سال تک جب Cenozoic Eraکے دوران انسان نما مخلوق کی زمین پر رونمائی ہوئی اور مابعد لاکھوں سال تک جاری رہنے والے برفانی ادوار کے دوران گرم و سرد موسمیاتی مرحلے اس اَمر کی گواہی دے رہے ہیں کہ اس خطہ ارضی نے بے شمار موسمیاتی تبدیلیوں کا مظاہرہ دیکھا اور ناقابل برداشت گرم و سرد موسموں کی سختیاں برداشت کیں۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں نے خالق حقیقی کے حکم سے کبھی سمندروں، پہاڑی سلسلوں کی تخلیق کی اور کبھی قدرتی عوامل کی تبدیلی نے بارشی جنگلات Rain Forests کی آبیاری کی انہیں بعدازاں زمین میں دفن کر کے Fossil Fuels کی شکل میں انسانی استعمال کیلئے نعمت اور ہم نےزحمت بنا دیا۔ دھرتی پر پھیلے ہوئے لق و دق صحرا، پانیوں سے بھرپور دریا اور زمینی وسعتوں پر پھیلائے گئے بولڈرز اور کوبلز نما پتھر اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ کرۂ ارض بے شمار موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر رہا ہے جنکے منفی اور مثبت دونوں اثرات موجود ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بدترین ہیں جسکی وجوہات میں پرانے قدرتی عوامل کے ساتھ ساتھ انسانوں کے ہاتھوں شروع کی گئی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں ہیں۔ اٹھارہویں صدی کی ابتدا میں جب انڈسٹریل دور شروع ہوا تو موسمیاتی تبدیلی نے شدت اور حدت اختیار کر لی، جس کی بنیادی وجوہات میں جدید صنعت، تجارت سے پیدا شدہ گرین ہائوس گیسز ہیں۔ چنانچہ پچھلی دو صدیوں میں زمین کا درجہ حرارت 2ڈگری سنٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے جو اس عرصہ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ارضیاتی حدت میں اس تیزی سے اضافہ اور گلیشیرز کے پگھلنے کی بنا پر طوفانی بارشیں، سمندری، طغیانیاں، دریائی سیلاب اور غذائی قحط میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دیگر اقوام کے مقابلے میں اگرچہ پاکستان اس تبدیلی موسم کی ابتلا کا بہت کم حصہ دار ہے، لیکن بدقسمتی سے ارضی حدت اور موسمی تباہ کاریوں کا بدترین شکار بن رہا ہے۔ افسوس کہ موسمیاتی آفات کی شدت میں پاکستانی عوام اور اداروں کا تساہل بھی کارفرما ہے۔ ہم موسمیاتی صعوبتوں کا ہر سال رونا روتے ہیں۔ بلاشبہ بحالیوں پر اربوں روپے خرچ بھی کرتے ہیں، لیکن افسوس پائیدار Mitigation کیلئے ابھی تک اربن فلڈنگ، قدرتی آفات، آفاتی بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ پر قابو پانےکیلئے مؤثر اقدامات نہ کر سکے۔ Resilience اور Adaptation کیلئےجامع حکمت عملی اختیار نہ کر سکے۔ ہم سے کم وسائل اور تھوڑی آبادی والے وسطی امریکہ اور ایشیائی ممالک کہ جہاں بارشوں کی شدت ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے اربن فلڈنگ کی بہترین منصوبہ بندی کر کے بارشوں کے موسم کو انسانی مسرتوں کا سامان بنا دیا ہے اور ہم نے اپنے بالائی علاقوں اور کراچی میٹروپولیٹن کے ماحول کو بار بار نمودار ہونیوالی بارشی تباہ کاریوں سے ناتواں کر دیا ہے۔ دونوں خطوں کی تباہ کاریوں کی بڑی مشترکہ وجوہات میں ندی نالوں، دریائوں اور شاہرات کے ہمراہ آبی گزرگاہوں ازقسم ڈرین، زیرزمین پلیوں، راستوں اور کاز ویز کی عدم تعمیر ہے۔ نہ جانے منصوبہ ساز، سیاستدان اور کنسٹرکٹرز ان اسٹرکچرز کی منظوری اور تعمیر سے کیوں عداوت رکھتے ہیں۔ جبکہ ان لوازمات کی عدم موجودگی بالائی پہاڑی سڑکوں پر پانی کے بہائو میں رکاوٹ اور پھر سیلابی کیفیت کا باعث ہے۔ جو کراچی جیسے اربن شہروں میں بارشی پانیوں کی ناقص نکاسی، اربن فلڈنگ اور انفراسٹرکچر کی مزید تباہی کا باعث بنتی ہے اور یوں شہری زندگی معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ سمندر کی سطح سے بلندی پر موجود کراچی جیسے شہروں میں بارشی نکاسی کی بد انتظامی ایک المیہ ہے۔ہم نے بلاامتیاز پہاڑی، سیاحتی مقامات، میدانی علاقوں میں ندی نالوں اور دریائوں کی پرانی و موجودہ گزرگاہوں اور آبی متروک راستوں پر ہائوسنگ سوسائٹیز اور کمرشل عمارات بنا دیں اور آج ہم ان رویوں کے نقصانات ملاحظہ کر رہے ہیں۔ دریائوں، ندی، نالوں کو تعمیرات کے ذریعے محدود کرنے کا مطلب ہے کہ پانی کی زیادہ مقدار کو زیادہ ولاسٹی کیساتھ تنگ مقامات یا پائپ میں سے گزارنا، پانی کا یہ تیز بہائو پھر زندگیوں اور املاک کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔ موسمیاتی حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ جہاں آنے والی دہائیوں تک بھی سیلاب کا خدشہ ہو وہاں بھی ایسی تعمیرات تجاوزات سے احتراز کیا جائے۔ چنانچہ اداروں کیلئے لازم ہے کہ دریائی بیڈ یا کناروں پر ڈویلپمنٹ کیلئے پیشگی N.O.C کی پابندی کو یقینی بنائیں۔ جو عمارات پہلے سے تعمیرشدہ ہیں، انہیں مستقل خطرات اور سیلابی خطرات سے محفوظ کرنے کیلئے ’’تحفظ، مقابلہ یا آفات سے گریز‘‘ کی حکمت عملی تیار کی جائے۔ چنانچہ اس مقصد کیلئے ہم انجینئرنگ کے طریقۂ کار یعنی اسٹاپ وال، بیڈلیول اختیار کر سکتے ہیں یا پھر درختوں کی بھرپور آبیاری سےسیلابی ریلوں کو روک سکتے ہیں۔ سیلابی خطرات سے عوام الناس کو پیشگی آگاہی انکی فوری نقل مکانی اور مؤثر بیمہ پالیسی پر عملدرآمد تباہ کاریوں سے احتراز کا ذریعہ ہے۔ دریائوں کے اردگرد پرانی جھیلوں اور Wetlands کی بحالی بھی سیلابی ریلوں کی شدت کم کرنے میں مددگار ہے۔ اس دوران سیلابی پانی کے رُخ کی اس طرف تبدیلی نہ صرف سیلابی کیفیت میں کمی کرتی ہے ، بلکہ آبی گزرگاہوں کی صفائی کا اہتمام ہو جاتا ہے۔

المختصر اگر ہم بروقت دریائوں، ندی، نالوں کی گزرگاہوں کیلئے بہتر کام نہ کر سکے تو ان سے گزرنے والا سیلاب پھر اپنے راستے خود بنا لے گا۔ تب یہ سیلابی پانی بہت بے مروت ہو جاتا ہے، لیکن یہ صورتحال جان و مال اور معاشرت کیلئے بہتر نہیں ہوتی۔

تازہ ترین