امراضِ قلب برطانیہ میں موت کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں اور 70 لاکھ سے زیادہ برطانوی دل کی کسی ایک بیماری میں مبتلا ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کیلا وہ پھل ہے جو دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور جان لیوا بیماری کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
محققین نے پایا ہے کہ جسم میں پوٹاشیئم کی سطح بڑھانے سے دل کے مریضوں میں دل کی بے ترتیب دھڑکن، دل کے ناکام ہونے یا موت کے امکانات تقریباً ایک چوتھائی تک کم ہو گئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہر کسی کو اس معدنیات یعنی پوٹاشیئم کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ جدید دور کی نمکین غذاؤں کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے، کیلے خوراک میں اس کا اہم ذریعہ ہیں، اس کے علاوہ ایواکاڈو، بند گوبھی، چقندر اور پالک بھی پوٹاشیئم سے مالا مال ہیں۔
ڈنمارک کے کوپن ہیگن یونیورسٹی اسپتال کے ماہرین نے 1 ہزار 200 ایسے دل کے مریضوں پر تحقیق کی جن کے جسم میں ڈیفبریلیٹرز نصب تھے اور ان میں پوٹاشیئم کی سطح کم تھی، تمام مریضوں کو پوٹاشیئم کے لیے کون سی غذائیں کھانی ہیں اس پر مشورہ دیا گیا اور ساتھ ہی ان کی سطح بڑھانے کے لیے سپلیمنٹس، ادویات یا دونوں دیے گئے، جن لوگوں میں پوٹاشیئم کی سطح بڑھ کر نارمل یا ہائی رینج تک پہنچ گئی، ان کے دل کی بے ترتیب دھڑکن یا دل کے ناکام ہونے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے یا مطالعے کے دوران مرنے کا امکان 24 فیصد کم تھا۔
مطالعے کے مصنف پروفیسر ہیننگ بنڈگارڈ کا کہنا ہے کہ انسانی جسم پوٹاشیئم سے بھرپور اور سوڈیئم کی کمی والی خوراک پر پروان چڑھا ہے لیکن جدید خوراک میں ہم کھانے میں زیادہ سوڈیئم اور کم پوٹاشیئم دیکھتے ہیں، پوٹاشیئم دل کے افعال کے لیے انتہائی اہم ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ خوراک میں پوٹاشیئم کا زیادہ استعمال ناصرف امراضِ قلب کے مریضوں کو بلکہ شاید ہم سب کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، لہٰذا ہم سب کو اپنی خوراک میں سوڈیئم کم کرنا چاہیے اور پوٹاشیئم کی مقدار بڑھانی چاہیے۔
یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کانفرنس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوٹاشیئم میں اضافہ دل کی صحت کو بہتر بنانے کا ایک سستا اور آسانی سے دستیاب طریقہ ہو سکتا ہے۔
برطانوی ماہرِ غذائیت ڈاکٹر کیری رکسٹن اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، لیکن انہوں نے تبصرہ کیا کہ ہر کوئی نمک کم کرنے کے بارے میں جانتا ہے، لیکن بہت کم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فالج اور دل کے دورے کو روکنے کے لیے پوٹاشیئم میں اضافہ تقریباً اتنا ہی اہم ہے۔
برطانیہ میں ایک تہائی نوجوان اور ایک چوتھائی بالغ افراد پوٹاشیئم کی کمی کے خطرے سے دوچار ہیں، تاہم انفرادی طور پر زیادہ پھل، سبزیاں اور مچھلی کھا کر پوٹاشیئم کی مقدار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔