• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امراض قلب کی اصطلاح دل کی مختلف بیماریوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ صحت بخش خوراک نہ لینے ، تمباکو نوشی اور ورزش نہ کرنے سے دل اورخون کی نالیوں میں مختلف قسم کے امراض اور مسائل جنم لے لیتے ہیں جبکہ ہائی بلڈ پریشر، انفیکشن وغیرہ بھی خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم، صحت مند طرز زندگی اور غذا کے استعمال سے آپ خود کو امراض قلب سے دور رکھ سکتے ہیں۔

کورونری آرٹری ڈیزیز (دل کو خون مہیا کرنے والی شریان کی بیماری)، آرتھیمیا اور مائیوکارڈیل انفریکشن جیسی بیماریاں امراض قلب کی عام مثالیں ہیں۔ ان بیماریوں کا علاج عام طور پر دوائیوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بصورت دیگر سرجری کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ تمباکو نوشی، ذیابطیس، کولیسٹرول، غیر صحت بخش غذا کھانے یا ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزارنے جیسے خطرے والے عوامل سے دل کمزور ہو سکتا ہے۔

کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (CVD) ہر دھڑکتے دل کے لیے اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ دل یا خون کی نالیوں (رگوں اور شریانوں) کو متاثر کرتی ہے۔ ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے مطابق کارڈیو ویسکولر ڈیزیز دنیا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہر سال دنیا میں اس کی وجہ سے ایک کروڑ 86لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے باعث ہونے والی 75فیصد سے زائد اموات کم سے درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔ 

فضائی آلودگی تمام کارڈیو ویسکولر ڈیزیز سے ہونے والی اموات میں سے 25فیصد کی ذمہ دار ہے، جو ہر سال 70لاکھ افراد کی جان لے لیتی ہے۔ نفسیاتی دباؤ، دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کو دوگنا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، تمباکو سے پرہیز، غیر صحت بخش غذا سے اجتناب، جسمانی بے عملی کی روک تھام اور نشہ آور چیزوں سے دور رہنے سے دل اورخون کی شریانوں کی بیماریوں سے ہونے والی 80 فیصد قبل از وقت اموات سے بچ سکتے ہیں۔ ورزش، مڈی ایشن اور اچھی نیند لینے سے تناؤ کی سطح کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تناؤ سے پیدا ہونے والے نقصان دہ طریقہ کار اور بری عادات کے خلاف مزاحمت کرکے دل کی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

کورونری آرٹری ڈیزیز

کورونری آرٹری ڈیزیز کو دل کی تمام بیماریوں میں سب سے زیادہ عام بیماری تسلیم کیا جاتا ہے۔ دل کے صحت مند رہنے کے لیے کورونری آرٹریز(نالیوں) کا درست حالت میں رہنا ضروری ہے کیونکہ جب دل خون کو پمپ کرتاہے تو یہ شہ رگ یا ائیورٹا (Aorta) کے ذریعے پورے جسم کو پہنچتا ہے۔ سب سے پہلی برانچز یا شاخیں جو ائیورٹا سے نکلتی ہیں، وہ کورونری آرٹریز ہی ہیں۔ اس طرح یہ سب سے پہلے خود دل کی غذا اور آکسیجن کی سپلائی کا نظام ہے۔ ان شریانوں یا آرٹریز میں مختلف وجوہات کی بنا پر خرابی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے یہ نالیاں بلاک ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ان کے بند ہوجانے کو کورونری آرٹری ڈیزیز کہا جاتا ہے۔

ہارٹ فیل

جب دل کسی وجہ سے خون پمپ کرنا بند کر دیتا ہے تو اسے ہارٹ فیل کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں دل مناسب مقدار میں خون کو جسم میں پمپ کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ اس مرض میں دل کا دایاں یا بایاں حصہ متاثر ہوتا ہے۔ تاہم، شاذونادر ہی دونوں حصے متاثر ہوتے ہیں۔ ہارٹ فیل کی وجوہات میں کورونری ہارٹ ڈیزیز، ہائی بلڈ پریشر، دل کا سخت یا کمزور ہوجانا جیسے مسائل شامل ہیں۔

مائیوکارڈیل انفریکشن

اس بیماری کو عام طور پر ہارٹ اٹیک، کارڈیک انفریکشن اینڈ کورونری تھرومبوسس کہا جاتا ہے۔ اس میں دل کے عضلات کا وہ حصہ مردہ ہوجاتا ہے جہاں آکسیجن کی فراہمی (سپلائی) ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بلند فشار خون میں دل کے عضلات کو زیادہ زور سے خون کو پمپ کرنا پڑتا ہے اور وہ خراب ہونے لگتے ہیں۔

آرتھیمیا

دل کومؤثر طور پر گردش میں رکھنے کے لیے دل کی رفتار کا مناسب حدود میں رہناضروری ہے۔ دل کی بے قاعدہ دھڑکن کو آرتھیمیا کہتے ہیں۔ آرتھمیا کا مرض اس وقت ہوتا ہے جب دل کی الیکٹرک اِمپلسز، دل کی دھڑکن کےساتھ مربوط نہیں ہوپاتی، یہی کیفیت دھڑکن کی تیزی، سستی یا بےقاعدگی کا سبب بنتی ہے۔ مختلف طریقوں اور وجوہات کی بنا پر دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہوسکتی ہے۔ مثلاً

٭ ٹیکی کارڈیا: جب دل بہت تیز دھڑکنے لگے

٭ بریڈی کارڈیا: جب دل آہستہ رفتار سے دھڑکنے لگے

٭ پری میچیور وینٹری کیولر کانٹریکشن: اضافی اور غیر معمولی دل کی دھڑکن

٭ فبریلیشن: دل کے پٹھے کے بہت سارے ریشوں کا تیزی او ر بے قاعدگی سے دھڑکنا، جس سے نبض بھی بے قاعدہ ہو جاتی ہے۔

دل کے پیدائشی امراض

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چار ممالک میں ہوتا ہے، جہاں دل کے پیدائشی امراض والے بچوں کی نصف تعداد آباد ہے۔ پیدائشی طور پر ہونے والے دل کے امراض میں مختلف بیماریاں شامل ہیں مثلاً

٭ دل میں سوراخ: کچھ بچوں میں پیدائشی طور پر دل میں سوراخ ہوتا ہے۔ یہ سوراخ خون وصول کرنے والے چیمبروں (دائیں ایٹریم اوربائیں ایٹریم) یا پھر وینٹریکل کی درمیانی وال میں پایا جاتا ہے۔

٭ دل کے پٹھوں میں خرابی: دل کے والز کے پٹھے اس کے پمپ کوطاقت اورتوانائی مہیا کرتے ہیں۔ ان پٹھوں کو خطرہ آکسیجن کی کمی سے ہوتاہے کیونکہ جس طرح جسم کے ہر سیل کو آکسیجن اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح دل کے پٹھوں کو بنانے والے سیلز کو بھی آکسیجن اور خوراک درکار ہوتی ہے۔

٭ آبسٹرکشن ڈیفیکٹ: اس بیماری میں دل کے مختلف چیمبر میں مکمل یا جزوی طور پر خون کا بہاؤ رُک جاتا ہے۔

زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہمارے دل کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں جیسے کہ دن میں 30منٹ ورزش کرنا، سگریٹ نوشی سے گریز اور صحت بخش خوراک کھانا۔ ہمیں جسمانی سرگرمی بڑھانے کے لئے چلنے پھرنے اور سائیکل چلانے کی ترغیب دینی ہوگی۔ اس کے علاوہ مشترکہ حکمت عملیوں کے ذریعے ایک دوسرے کو دل صحت مند بنانےکی ترغیب دی جاسکتی ہے۔

کولیسٹرول سے پاک کھانے کا تیل استعمال کریں جبکہ کھانے میں مرچ مسالے اور نمک کا استعمال اتنا ہی رکھیں جس سے ہائی اور لو بلڈ پریشر کی شکایت نہ ہو۔ کھانے کو بہت زیادہ پکانے سے گریز کریں اور دستر خوان پر دہی، کھیرے اور سلاد کو لازمی جزو بنا لیں۔ جب تھوڑی بھوک باقی رہے تو کھانے سے ہاتھ روک لیں۔

ہارٹ اٹیک

ہارٹ اٹیک یا دل کا دورہ اکثر لاعلمی اور بروقت دوا نہ لینے کے باعث جان لیوا ہوتا ہے۔ جان بچ بھی جائے تو دوسرے حملۂ قلب کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، جس سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ اس لیے آپ کو اپنی کئی عادتوں پر قابو پاکر صحت مند طرزِ زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا۔ اس سے ہارٹ اٹیک کی نوبت نہیں آئے گی اور دوسرا یہ کہ علامات کے بارے میں جان کر آپ فوری معالج سے رجوع کرکے ادویات اور ڈائٹ شیڈول حاصل کرسکتے ہیں۔